انقلابی سوشلسٹ موومنٹ
امریکہ اوراسرائیل کی ایران پر جارحیت کے خلاف ابھرنے والی تحریک میں پاکستان ہی نہیں عالمی سطح پر بھی لیفٹ میں بنیادی سیاسی اختلافات سامنے آئے۔ایک طرف وہ حصہ ہے جنہوں نے ایران پر امریکہ کے حملے کی مذمت کے ساتھ ایرانی ملائیت کی مکمل حمایت کی بلکہ ان کو سامراج مخالف بنا کرپیش کیا۔یہ ایک کیمپ ازم کا رجحان ہے۔دوسری طرف وہ تھے جنہوں نے ایران کے دفاع کی حمایت کی اورجنگ کی اسی شدت سے مخالفت کی لیکن انہوں نے ملائیت کو سیاسی حمایت دینے سے انکار کیا اور بہت سارے ممالک میں ایرانی لیفٹ کے ساتھ مل کر جنگ کی مخالفت کی ہے۔جنگ مخالف تحریک میں اس تقسیم کی بنیاد کوئی عارضی اختلاف نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی تضاد ہے جسے ہم “کیمپ ازم” کہتے ہیں۔
کمپ ازم
کیمپ ازم بین الاقوامی تنازعات اورعالمی سیاست کا تجزیہ بنیادی طور پر سامراج کی ایک سادہ، سطحی اورمحض جیو پولیٹیکل تشریح کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس نقطۂ نظر میں عالمی اور قومی سطح پر طبقاتی تعلقات، طبقاتی جدوجہد اورملک کے اندر محنت کش طبقے کے آزادانہ سیاسی مفادات کا مارکسی تجزیہ یا تو پس منظر میں چلا جاتا ہے یا مکمل طور پر ترک کر دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں محنت کش طبقے کی آزاد انقلابی سیاست کی جگہ مختلف سرمایہ دار ریاستوں اور حکمران طبقوں کے درمیان ہونے والی جیو پولیٹیکل کشمکش کو فیصلہ کن اہمیت دے دی جاتی ہے۔
کیمپ ازم کی تاریخی بنیادیں
تاریخی طور پر کیمپ ازم کی جڑیں سوویت یونین کی سٹالنسٹ خارجہ پالیسی اور دنیا بھر کی سٹالن نواز کمیونسٹ پارٹیوں کی سیاسی پوزیشن میں تھی۔ 1920ء کی دہائی کے وسط میں سٹالنسٹ بیوروکریسی کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ایک ایسا رجحان ابھرا جس میں عالمی سوشلسٹ انقلاب اور محنت کش طبقے کے عالمی مفادات کو سوویت بیوروکریسی کے ریاستی اور سفارتی مفادات کے تابع کر دیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد عالمی انقلاب کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ سوویت بیوروکریسی کی حکمرانی اور اس کے مراعات کا تحفظ تھا۔اس کی اہم مثال 1930ء کی دہائی میں اسپین اور فرانس میں پاپولر فرنٹ کی پالیسی تھی۔ اس وقت کمیونسٹ انٹرنیشنل نے مزدور طبقے کو سرمایہ دار لبرل جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد قائم کرنے کی تلقین کی کیونکہ انہیں سوویت یونین کے ممکنہ سفارتی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں مزدور طبقے کی انقلابی جدوجہد کو روک دیا گیا اور سرمایہ دار ریاست کو بچانے کو انقلاب پر ترجیح دی گئی۔اسپین میں اس پالیسی کے نتیجے میں مزدور تحریک کے سب سے انقلابی حصوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ پی او یو ایم (POUM)، سی این ٹی (CNT) کے انقلابی دھڑے، آزاد مزدور ملیشیائیں اور دیگر سوشلسٹ انقلابی قوتیں گرفتار کی گئیں، تشدد کا شکار ہوئیں اور متعدد کارکنوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ فرانکو کی فسطائی فتح کی صورت میں نکلا۔
سرد جنگ اور کیمپ ازم
کیمپ ازم اپنی مکمل شکل میں سرد جنگ کے دوران سامنے آیا۔ اس دور میں سوویت یونین نے متعدد آمرانہ سرمایہ دار حکومتوں اورقومی بورژوا قیادتوں کی صرف اس بنیاد پر حمایت کی کہ وہ امریکی سامراج کے مخالف کیمپ میں شامل تھیں۔ دنیا بھر کی سٹالنسٹ جماعتوں نے بھی ماسکو کی خارجہ پالیسی کو اپنے سیاسی مؤقف کی بنیاد بنایا، چاہے اس کے لیے محنت کش عوام کی انقلابی جدوجہد کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔اسی منطق کے تحت 1956ء کے ہنگری انقلاب، 1968ء کی چیکوسلواکیہ کی تحریک اور بعد میں پولینڈ میں مزدور تحریک کے خلاف سوویت مداخلت اور جبر کا دفاع کیا گیا۔ محنت کشوں کی خودمختار تحریکوں کو “سامراجی سازش” قرار دے کر کچلنے کی حمایت کی گئی۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس پالیسی کی مادی بنیاد بڑی حد تک ختم ہو گئی۔ کریملن میں اب وہ سٹالنسٹ بیوروکریسی موجود نہیں تھی جس کے مفادات دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں کی سیاست کا تعین کرتے تھے۔ لیکن کیمپ ازم آزادانہ طور پر سامنے آگیا۔
آج کا کیمپ ازم
آج کا کیمپ ازم سرد جنگ کے دور کے کیمپ ازم سے ایک اہم پہلو میں مختلف ہے۔ اب اس کا مقصد کسی انحطاط پذیر مزدور ریاست یا غیر سرمایہ دارانہ ملکیتی رشتوں کا دفاع نہیں بلکہ مکمل طور پر سرمایہ دار ریاستوں اور نئی سامراجی طاقتوں کا دفاع ہےہم سٹالنسٹ بیوروکریسی کی داخلی و خارجی پالیسیوں کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم سامراجی جارحیت اور سرمایہ دارانہ بحالی کے خلاف انحطاط پذیر مزدور ریاستوں کے دفاع کے حق میں تھے۔ اس کے برعکس موجودہ کیمپ ازم اسی منطق کو روس، چین اوران کے اتحادی سرمایہ دار حکمران طبقات پرمنطبق کرتا ہے گویا صرف امریکہ سے ٹکراؤ کسی ریاست کو ترقی پسند یا سامراج مخالف بنا دیتا ہے۔
آج امریکہ، یورپی یونین، چین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی سامراجی رقابتوں کے ساتھ کیمپ ازم نے اپنی سیاسی حمایت روس، چین اوران کے مختلف اتحادیوں مثلاً بیلاروس، ایران، شمالی کوریا، وینزویلا اور دیگر ریاستوں کی طرف کر دی ہے۔ ان ریاستوں کو “کم تر برائی” یا “سامراج مخالف کیمپ” قرار دے کر ان کے حکمران طبقات کی پالیسیوں کا دفاع کیا جاتا ہے حالانکہ ان ممالک میں بھی سرمایہ دارانہ استحصال، قومی جبر اور محنت کشوں پر ریاستی جبر موجود ہے۔
ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کیمپ ازم
اسی منطق کے تحت ان ممالک میں ابھرنے والی تقریباً ہر عوامی تحریک کو یا تو مغربی سازش، نام نہاد “رنگین انقلاب”، یا “سامراجی ایجنڈا” قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔
ایشیا میں ہانگ کانگ کی جمہوریت پسند تحریک، قازقستان میں محنت کشوں کی بغاوت، ایران میں خواتین اور نوجوانوں کی حکومت مخالف تحریک، میانمار میں فوجی آمریت کے خلاف عوامی مزاحمت اورروس میں پوٹن مخالف احتجاج کو اکثر اسی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔
افریقہ میں سوڈان کی انقلابی عوامی تحریک، الجزائر کی حراک تحریک، نائجیریا کی اینڈ سارس تحریک اور دیگر عوامی ابھاروں کو بھی بعض کیمپ ازم کے حلقے اس بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ان سے روس، چین یا ان کے اتحادی حکومتوں کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔
لاطینی امریکہ میں وینزویلا، نکاراگوا اور کیوبا جیسے ممالک میں حکمران بیوروکریسی یا سرمایہ دار ریاستی ڈھانچوں پر محنت کش عوام کی تنقید کو بھی اکثر “سامراج کی خدمت” قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح شام میں بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت، لیبیا میں قذافی آمریت کے خلاف تحریک اور بیلاروس میں لوکاشینکو مخالف عوامی احتجاج کو بھی محض مغربی سازش قرار دینا اسی کیمپ ازم منطق کا اظہار ہے۔
سامراج اور کمپ ازم
سامراج سرمایہ داری کا اعلیٰ ترین مرحلہ ہے۔ لینن کے مطابق اس مرحلے کی بنیادی خصوصیات یہ ہیں۔ سرمایہ اور پیداوار کا بڑھتا ہوا ارتکاز جس کے نتیجے میں اجارہ داریوں کا قیام عمل میں آتا ہے۔ بینکاری اور صنعتی سرمائے کا انضمام جس سے مالیاتی سرمایہ وجود میں آتا ہے۔ اشیائے تجارت کی برآمد پر سرمایہ کی برآمد کی برتری، بین الاقوامی اجارہ دار سرمایہ دار گروہوں کی جانب سے عالمی منڈی کی باہمی تقسیم اور دنیا کی مکمل علاقائی تقسیم کا سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان مکمل ہو جانا۔
اس طرح عالمی سرمایہ داری ایک ایسے نظام کی شکل اختیار کرتی ہے جس میں چند سامراجی طاقتیں نیم نوآبادیاتی ممالک اور نوآبادیات کو اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحت تقسیم کرتی ہیں اور دولت کے ارتکاز، منافع کے حصول اور سرمائے کی توسیع کی خاطر ان کا مسلسل استحصال کرتی ہیں۔
سامراجی طاقتوں، نیم نوآبادیاتی ممالک اورنوآبادیات کے درمیان قائم معاشی اور سیاسی تعلقات مختلف تزویراتی کمپ تشکیل دیتے ہیں۔ یورپی سامراج امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور بڑی حد تک امریکی سرمائے پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی سامراج کی غیر مشروط پشت پناہی ہی صہیونی ریاست کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ فلسطین میں نسل پرستانہ امتیازی نظام برقرار رکھے، فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری رکھے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھائے جبکہ یورپی یونین بھی ان جرائم میں شریک ہے اور کھلے عام اسرائیل کی حمایت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی اور اٹلی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔
مغربی سامراج کے جرائم کی فہرست نہایت طویل ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں پر نظر ڈالیں تو امریکہ کی جارحانہ جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا ایک طویل سلسلہ دکھائی دیتا ہے جس نے مغربی ایشیا، افریقہ اورلاطینی امریکہ کے عوام کو تباہی، بدحالی اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ 2001ء میں افغانستان پر ناجائز حملہ اور قبضہ، 2003ء میں عراق پر بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے چڑھائی اور 2011ء میں لیبیا کے خلاف سامراجی جارحیت اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان تمام جنگوں کے جواز تقریباً ایک جیسے رہے ہیں اور آج ایران کے خلاف جارحیت کے لیے بھی وہی دلائل دہرائے جا رہے ہیں۔ امریکہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ان اقوام کو ان کے جابر حکمرانوں سے نجات دلانا چاہتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا اصل مقصد اپنی عالمی بالادستی کو برقرار رکھنا، نئی منڈیوں اور قدرتی وسائل پر قبضہ جمانا، اور اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔
جنگ مخالف تحریک کا ایک حصہ جو ایرانی ملائیت کی حمایت کرتا ہے۔ایران، روس، چین اور ان تمام ریاستوں کوجو امریکہ کے تزویراتی اتحادی نہیں ہیں۔ انہیں سامراج دشمن قوتیں قرار دیتا ہے۔ یہی رجحان عمومی طور پرکیمپ ازم کہلاتا ہے۔ اس رجحان کی تنقید ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف عالمی سامراجی نظام کے خلاف جدوجہد کو کمزور کرتا ہے بلکہ ایران جیسے ممالک کے محنت کشوں اور مظلوم عوام کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔اس رجحان کی کمزوری سب سے زیادہ اس کے چین اور روس کے بارے میں مؤقف میں نمایاں ہوتی ہے۔ چونکہ یہ دونوں ریاستیں امریکہ کے تزویراتی حریف ہیں اس لیے کمپ ازم کے رجحانات ان کے سامراجی کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں سامراج دشمن قوتوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس طرح سامراج کا طبقاتی اور معاشی تجزیہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور اس کی جگہ ریاستوں کے درمیان جغرافیائی و عسکری صف بندی کو بنیادی اہمیت دے دی جاتی ہے جو مارکسی سامراج دشمنی کے تصور سے بنیادی طور پر متصادم ہے۔
چین اور روس کے سامراجی کردار سے چشم پوشی
چین موجود عہد میں امریکہ کا سب سے اہم تزویراتی اور معاشی حریف بن کرابھرا ہے۔ اگرچہ لیفٹ میں ایک حصہ اب بھی چین کوسوشلسٹ قرار دیتا ہے اور چینی کمیونسٹ پارٹی بھی وقتاً فوقتاً اپنے انقلابی ماضی کا حوالہ دیتی ہے لیکن یہ دعویٰ حقائق کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔ چین میں ذرائع پیداوار اور ریاست پر محنت کش طبقے کا کوئی جمہوری کنٹرول نہیں ہے۔
خصوصاً 1990ء کی دہائی سے جب چینی کمیونسٹ پارٹی نے منڈی کی اصلاحات کو تیز کیا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے، خصوصی اقتصادی زون قائم کیے اور چین کو عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں شامل کیا تو کیمونسٹ پارٹی کی آمریت کے تحت سرمایہ داری کو مکمل طور پر بحال کیا گیا۔ اس عمل میں نہ صرف ملکی سرمایہ دار طبقہ مضبوط ہوا بلکہ چینی سرمایہ نیم نوآبادیاتی ممالک میں بڑے پیمانے پر برآمد ہونا شروع ہوا جہاں اس نے اپنے معاشی اورتزویراتی مفادات کو وسعت دی۔
اسی طرح روس کے بارے میں بھی کیمپ از کے حامی حلقے اکثر سوویت یونین کی تاریخی یادوں سے متاثر ہو کر خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ سوویت یونین کبھی مکمل سوشلسٹ سماج نہ بن سکا اور بعد ازاں سٹالنزم کے زیرِ اثر ایک انحطاط پذیر مزدور ریاست میں تبدیل ہوگیا۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد 1990ء کی دہائی میں روس میں ایک نئے اجارہ دار سرمایہ دار طبقے کا ابھار ہوا جس نے سابق سوویت خطے میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے، ریاستی طاقت کو ازسرِ نو منظم کرنے اور ایک مضبوط فوجی مشین کی تعمیر کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ یوکرین کی جنگ اسی عمل کا اظہار ہے جہاں روس نہ صرف اپنے جغرافیائی اور سیاسی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے بلکہ دنیا کی نئی سامراجی صف بندی میں ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنا مقام مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جو لوگ سامراج دشمنی کے نام پرایرانی ملائیت، چین اور روس کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نام نہاد “سامراج دشمن کمپ” عالمی محنت کش طبقے اور مظلوم عوام کی جدوجہد سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک ریاستوں کے درمیان کشمکش بنیادی تضاد بن جاتی ہے جبکہ طبقاتی جدوجہد اور محنت کش عوام کے مفادات کو ثانوی حیثیت دے دی جاتی ہے۔اس تصور کے تحت امریکہ سے ٹکراؤ رکھنے والی ہر ریاست کو سامراج دشمن قرار دے دیا جاتا ہے گویا وہ ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مصروف ہو۔ چنانچہ ایسی حکومتوں کو غیر مشروط سیاسی حمایت دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے خواہ ان کا اپنا طبقاتی کردار کتنا ہی استحصالی، جابرانہ یا رجعتی کیوں نہ ہو۔
اسی منطق کے تحت چین کو اس حقیقت پر جواب دہ ٹھہرانا کہ اس نے دس لاکھ سے زائد اور بعض اندازوں کے مطابق اس سے کہیں زیادہ اویغور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں قید کر رکھا ہے یا تو غیر اہم قرار دے دیا جاتا ہے یا اس سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات اس کا سرے سے انکار بھی کیا جاتا ہے۔اسی طرح جب یہ نشاندہی کی جاتی ہے کہ ایران نے گزشتہ برس سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سولہ سو سے زائد افراد کو پھانسی دی اور رواں سال جنوری میں صرف دو دنوں کے دوران ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار افراد کو قتل کر دیا تو کمپ ازم کے حامی اسے “غلط ترجیح” یا “غلط وقت پر اٹھایا گیا مسئلہ” قرار دیتے ہیں۔ بعض حلقے تو ان جرائم کی سنگینی سے توجہ ہٹانے کے لیے ہلاکتوں کی تعداد ہی کو بحث کا موضوع بنا دیتے ہیں۔
ہمارے نزدیک اصل سوال اعداد و شمار کی قطعی تعداد نہیں بلکہ ریاستی جبر کی حقیقت ہے۔ ایرانی حکومت نے مختصر عرصے میں بڑے پیمانے پر عوام کا قتلِ عام کیا اور ان مظالم کے اثرات آج بھی ایرانی عوام کے اجتماعی شعور پر گہرے زخم کی صورت موجود ہیں۔سامراج دشمنی کے نام پر ایسے جرائم کو نظر انداز کرنا یا ان لوگوں کو ہدفِ تنقید بنانا جو ایرانی حکومت کے جبر کی مذمت کرتے ہیں ایک رجعتی طرزِ سیاست ہے۔
بائیں بازو کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مظلوم اقوام، محکوم طبقے اور ہرجبر کے شکار انسان کے ساتھ یکساں یکجہتی کا اظہار کرے اور دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوم عوام کو ہر سامراجی طاقت اور ہر استحصالی حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں متحد کرے۔ یہی حقیقی اور اصولی سامراج دشمنی کی بنیاد ہے۔اسی بنیاد پر ایک ایسی جنگ مخالف تحریک تعمیر کی جا سکتی ہے جو سامراجی جارحیت کی غیر متزلزل مخالفت کرے لیکن ساتھ ہی کسی رجعتی، سرمایہ دار یا آمرانہ حکومت کی سیاسی حمایت سے بھی انکار کرے۔ صرف ایک آزاد، تنقیدی اور طبقاتی بنیادوں پر استوار تحریک ہی محنت کش عوام کا اعتماد حاصل کر سکتی ہے اور انہیں سامراج، سرمایہ داری اور ہر قسم کے جبر کے خلاف ایک انقلابی متبادل فراہم کر سکتی ہے۔
ایران کی نام نہاد سامراج دشمنی اور اسرائیل کی مخالفت
1979ء میں ایران میں ردِ انقلاب کی کامیابی کے بعد آیت اللہ خمینی اقتدار میں آئے۔ خمینی نے بائیں بازو کے سامراج دشمن نعروں کو اپناتے ہوئے محنت کش عوام کی اس انقلابی تحریک پر قبضہ کر لیا جو ایران کی منظم بائیں بازو کی قوتوں کی موقع پرستانہ پالیسیوں کے باعث ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ ملائیت کے ردِانقلاب کے بعد سامراج دشمنی، صہیونیت کے خاتمے اور فلسطین کی آزادی کے بلند بانگ دعوے کیے گئے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ سامراج کے خلاف جدوجہد اور فلسطین کی حقیقی آزادی کے لیے ملائیت نے عملاً کیا کردار ادا کیا؟ اور آخر بائیں بازو کے بعض حلقے یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؟
ان حلقوں کی دلیل کا آغاز اس نکتے سے ہوتا ہے کہ اگر امریکہ ایران کو شکست دیتا ہے تو اس سے امریکی سامراج مزید مضبوط ہوگا۔ اس حد تک ہم بھی متفق ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ملائیت پر تنقید کرنا جنگ مخالف تحریک کو کمزور یا تقسیم کر دے گا۔ اسی بنیاد پر وہ ایسی “وحدت” پر زور دیتے ہیں جس میں ایرانی حکومت کے مخالفین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی بلکہ رجعتی حکومت کسے خلاف ان کی جدوجہد کو بھی ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔
جنگ مخالف مگر حکومت نواز حلقوں کی ایک بڑی تعداد ایران میں جاری انقلابی تحریک کو صہیونی اور شاہ پرست قوتوں کی زیرِ قیادت ایک سازش قرار دیتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر ایرانی ملائیت کا خاتمہ ہو گیا تو اس سے سامراج دشمن جدوجہد کو شدید نقصان پہنچے گا اس لیے موجودہ حکومت کو برقرار رہنا چاہیے اوراگر ضرورت ہو تو جنگ کے بعد اس میں کچھ اصلاحات کر لی جائیں۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایرانی ملائیت نے سامراج کے خلاف عملی جدوجہد کے میدان میں اپنی وسیع ریاستی پروپیگنڈا مشینری کے سوا بہت کم کردار ادا کیا ہے۔ جو محض لفظوں میں سامراج دشمنی کا دعویٰ کرتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کرنا بذاتِ خود سامراج دشمنی نہیں ہے۔ حقیقی سامراج دشمنی کا مطلب اس عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرنا ہے جو انسان اور فطرت دونوں کے استحصال پر قائم ہے۔
ایرانی ملائیت بھی خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور مستقبل میں ایک علاقائی طاقت بننے کے عزائم رکھتی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ ایران حماس، حزب اللہ اور عراق کی بعض شیعہ ملیشیاؤں کی مالی، عسکری اور تکنیکی مدد کرتا ہے اس لیے وہ فلسطینی مزاحمت اور صہیونیت کے خلاف ایک حقیقی قوت ہے۔لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ فلسطینی عوام کی نسل کشی ختم نہیں ہوئی نہ ہی اسرائیلی ریاست کو ملائیت کی دہائیوں پر محیط اسرائیل مخالف پالیسی سے کوئی فیصلہ کن نقصان پہنچا ہے۔ حقیقت میں خطے کی مزاحمتی تنظیموں کی ایرانی حمایت بنیادی طور پرملائیت کی ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔جس کا مقصد ایک طرف اندرونِ ملک اپنی حکومت کو سامراج مخالف نعروں کے ذریعے سیاسی جواز فراہم کرنا اور دوسری طرف خطے میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانا ہے۔
اگرچہ موجودہ حالات میں جب فلسطینی عوام کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے بعض لوگوں کے لیے ایرانی ملائیت پر انحصار قابلِ فہم محسوس ہو سکتا ہے لیکن انقلابی نقطۂ نظر سے یہ ایک غلط سیاسی حکمت عملی ہے۔ فلسطین کی آزادی اور صہیونیت کے خاتمے کی جدوجہد کو کسی سرمایہ دار یا مذہبی رجعتی حکومت کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ انقلابی قوتیں کبھی بھی اپنی امیدیں کسی بورژوا ریاست یا حکمران طبقے سے وابستہ نہیں کرتیں بلکہ انہیں محنت کش عوام اور مظلوم قوموں کی آزاد اور مشترکہ جدوجہد پر ہی اعتماد کرنا چاہیے۔
ایرانی ملائیت کے فوجی اخراجات کے بارے میں درست اور مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم موجودہ حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے اور آج وہ دنیا کی طاقتور فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ اسرائیل اور اس کے پشت پر کھڑے امریکی سامراج کا فیصلہ کن مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔مزید یہ کہ حماس، حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کی حمایت کا مقصد بھی بنیادی طور پر فلسطین یا لبنان کو سامراجی تسلط سے آزاد کرانا نہیں بلکہ خطے میں ایرانی ملائیت کے اپنے تزویراتی اور سیاسی اثرورسوخ کو وسعت دینا ہے۔ اگر ایرانی ریاست واقعی مظلوم اقوام کی آزادی کی علمبردار ہوتی تو وہ اپنے ہی ملک میں کرد اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک، قومی جبر اور ریاستی استحصال نہ کرتی۔
اسی طرح شام میں بعث حکومت کی حمایت کرتے ہوئے ایرانی ملائیت اس خونریز جنگ میں بھی شریک رہی جس میں شامی حکومت نے لاکھوں شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکمرانوں کے لیے شامی عوام کی آزادی یا ان کے جمہوری حقوق سے زیادہ اہم اپنے علاقائی اتحاد کو برقرار رکھنا تھا خواہ اس کی قیمت لاکھوں انسانوں کی جانوں کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔اسلامی جمہوریہ کا وسیع فوجی اور سکیورٹی ڈھانچہ صرف بیرونی دفاع کا ذریعہ نہیں بلکہ داخلی سطح پر اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے کا ایک بنیادی ہتھیار بھی ہے۔ “مغرب دشمنی” کا سرکاری بیانیہ اس نظام کا سب سے مؤثر نظریاتی ستون ہے جس کے ذریعے عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انہیں ایک بیرونی دشمن کے خلاف متحد رہنا چاہیے تاکہ داخلی استحصال، سیاسی جبر اور معاشی بدحالی سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کردہ معاشی پابندیوں نے ایرانی عوام کو شدید غربت، مہنگائی اور معاشی بحران سے دوچار کیا ہے۔ ان پابندیوں کا سب سے زیادہ بوجھ محنت کشوں، غریب عوام اور پٹی بورژوا نے اٹھایا ہے جبکہ حکمران ملا اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقہ مختلف ذرائع سے اپنی مراعات اور پرتعیش زندگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔تاہم یہ پابندیاں حکومت کو کمزور کرنے کے بجائے کئی حوالوں سے اس کے لیے سیاسی سرمایہ ثابت ہوئیں۔ حکمران طبقے نے اپنی معاشی ناکامیوں، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے تمام مسائل کا ملبہ بیرونی پابندیوں پر ڈال دیا۔ یوں عوامی غصے کا رخ سرمایہ دارانہ ریاستی ڈھانچے کی طرف جانے کے بجائے بڑی حد تک بیرونی دشمن کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس اعتبار سے پابندیوں نے ملائیت کو نظریاتی طور پر اتنا سہارا فراہم کیا جتنا وہ اپنی داخلی پالیسیوں کے ذریعے شاید کبھی حاصل نہ کر سکتی۔
کیمپ ازم کے حامی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چونکہ ملائیت امریکہ جیسی عالمی سامراجی طاقت کے وسائل اور معاشی قوت کی مالک نہیں ہے اس لیے اسے سامراج دشمن ریاست سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران عالمی اجارہ داریوں اور مالیاتی سرمائے کے ذریعے اضافی منافع حاصل نہیں کرتا اس لیے وہ بیرونی سامراجی دباؤ کے مقابلے میں اپنی بقا کے لیے اندرونِ ملک سخت گیر طرزِ حکومت اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ اسی منطق کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ایران دیگر اقوام کو لوٹنے یا ان پر جارحانہ جنگیں مسلط کرنے کے بجائے نام نہاد “محورِ مزاحمت” کے ذریعے ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ بعض حلقے تو ایران کے انتہائی قدامت پسند اور سخت گیر دھڑوں کی بھی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہی عناصر ایرانی خودمختاری اور مغربی سامراج کے خلاف سب سے مضبوط موقف رکھتے ہیں۔
ہم اس تجزیے کو مسترد کرتے ہیں۔ ملائیت کی محنت کش دشمن، عورت دشمن، نسل پرستانہ پالیسیوں کو سامراج دشمنی کے نام پر جائز قرار دینا یا ان کی سنگینی کو کم کرکے پیش کرنا ایک گہری سیاسی غلطی ہے۔ اگرچہ ملائیت اپنے محدود معاشی اورعسکری وسائل کے باعث ایک سامراجی طاقت نہیں ہے لیکن اس کا داخلی کردار اس کی طبقاتی حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کرتا ہے۔
یہ ریاست فارسی قوم پرستی اور نسلی برتری کے نظریے کو فروغ دیتے ہوئے افغان مہاجرین اور دیگر کمزور گروہوں کو سستی محنت کے ذریعے استحصال کا نشانہ بناتی ہے جبکہ انہیں بنیادی شہری اور قانونی حقوق سے بھی محروم رکھتی ہے۔ بلوچ، عرب، کرد اور دیگر قومی اقلیتیں مسلسل ریاستی جبر، امتیازی سلوک اور سیاسی انتقام کا شکار ہیں جبکہ سیاسی قیدیوں میں کردوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
بعض سٹالنسٹ حلقوں کا یہ دعویٰ کہ اسلامی جمہوریہ تمام تر خامیوں کے باوجود 1979ء سے پہلے کی بادشاہت سے زیادہ ترقی پسند نظام ہے۔ موجودہ حقائق کی روشنی میں یہ ایک جھوٹ ہے۔لاتعداد میں پھانسیاں، بائیں بازو کی تمام آزاد سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، خواتین، قومی اقلیتوں اور جنسی اقلیتوں پر مسلسل جبر اور جمہوری حقوق کی مکمل پامالی اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔
ایران میں عوام کو ریاستی اداروں پر حقیقی جمہوری اختیار حاصل نہیں۔ اقتدار کے تمام اہم مراکز بالآخر سپریم لیڈر کے تابع ہیں اس لیے اختیارات کی تقسیم عملاً موجود نہیں۔ اسی طرح ایرانی سرمایہ داری میں بھی کوئی ترقی پسند پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف محنت کش طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے اور پٹی بورژوا طبقہ تیزی سے غربت اور محنت کش طبقے کی صفوں میں دھکیلا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایرانی سرمایہ دار طبقہ پابندیوں سے بچنے کے لیے کالے بازار اور غیر رسمی معیشت سے بے پناہ منافع سمیٹ رہا ہے۔
کیمپ ازم کا نظریاتی تصور کیا ہے؟
کیمپ ازم کے نظریات کو بنیادی طور پر تین نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے۔
سرمایہ داری کا بنیادی تضاد محنت کش طبقے اور سرمایہ دار طبقے کے درمیان نہیں بلکہ سامراجی طاقتوں اور دنیا کے محکوم و استحصال زدہ ممالک کے درمیان ہے۔
سامراجی ممالک کا محنت کش طبقہ نیم نوآبادیاتی اور نوآبادیاتی ممالک کے محنت کشوں کے استحصال سے فائدہ اٹھاتا ہے لہٰذا اس کا اس استحصالی نظام کو برقرار رکھنے میں معروضی مفاد موجود ہے۔
اس لیے انقلابی تبدیلی کی اصل قوت سامراجی ممالک کے محنت کش نہیں بلکہ نیم نوآبادیاتی اور نوآبادیاتی دنیا کے عوام ہیں۔
یہ درست ہے کہ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے طاقتور سامراجی ریاست ہے لیکن بعض بائیں بازو کے حصے اس حقیقت سے یہ غلط نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ گویا وہ واحد سامراجی طاقت ہے۔ یہ تصور خاص طور پر مارکسی لیننی اورماؤ نواز روایت کے بعض دھڑوں میں پایا جاتا ہے جہاں سامراجی طاقتوں کے باہمی تصادم کو بنیادی تضاد قرار دیتے ہوئے اکثر ان ممالک کے محنت کشوں کی جدوجہد کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے جن کی حکومتیں امریکہ سے ٹکراؤ میں ہوں۔
اسی سوچ کا ایک اور اظہار مرحلہ وار انقلاب کے نظریے میں ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق سب سے پہلے کسی ملک کو سامراجی غلبے سے نجات حاصل کرکے ایک مضبوط قومی ریاست یا مخالف کمپ تشکیل دینا چاہیے اور اس کے بعد ہی طبقاتی جدوجہد، سوشلسٹ شعور اور سوشلسٹ انقلاب کا مرحلہ آ سکتا ہے۔
اگرچہ یہاں اس نظریے کی صرف ایک مختصر وضاحت کی جا سکتی ہے لیکن اس کے سیاسی نتائج بالکل واضح ہیں۔ مرحلہ وار انقلاب کا نظریہ بالآخر موقع پرستی اور اصلاح پسندی کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں محنت کش طبقے کی آزاد طبقاتی سیاست کو سرمایہ دار، قوم پرست یا رجعتی حکومتوں کے ساتھ اتحاد اور ان کی حمایت کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ یوں سوشلسٹ سیاست اپنی انقلابی سمت کھو بیٹھتی ہے۔
اسی طرح ہم اس نقطہ نظر کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ سامراجی ممالک کا پورا محنت کش طبقہ فطری طور پر رجعتی ہے یا اسے لازماً نیم نوآبادیاتی دنیا کے استحصال سے فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ تجزیہ سرمایہ داری کے بنیادی تضاد کو مسخ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامراجی ممالک میں بھی محنت کش طبقہ مسلسل سرمایہ دارانہ حملوں کی زد میں رہتا ہے۔ بہتر اجرتیں، سماجی تحفظ اور جمہوری حقوق کوئی مستقل حاصل شدہ مراعات نہیں بلکہ سرمایہ اور محنت کے درمیان مسلسل کشمکش کا نتیجہس ہیں۔ آج مختلف سامراجی ممالک میں آٹھ گھنٹے کے یومیہ اوقاتِ کار سمیت محنت کشوں کے تاریخی حقوق پر ہونے والے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سامراجی ممالک کا پورا محنت کش طبقہ نیم نوآبادیاتی دنیا کے استحصال سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اصل فائدہ سامراجی سرمایہ دار طبقہ اٹھاتا ہے جو عالمی استحصال سے حاصل ہونے والے اضافی منافع کا ایک محدود حصہ محنت کش طبقے کے ایک نسبتاً مراعات یافتہ حصے کو دے کر اسے سیاسی طور پر اپنے ساتھ وابستہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پورے محنت کش طبقے کے مفادات سامراج سے وابستہ ہو چکے ہیں۔اس کے برعکس سامراجی ممالک کا محنت کش طبقہ بھی سرمایہ داری کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہے اور اس کا معروضی مفاد اسی میں ہے کہ وہ نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی ممالک کے محنت کشوں کے ساتھ بین الاقوامی طبقاتی یکجہتی قائم کرے اور پوری سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کو عالمی سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہمیشہ کے لیے ختم کرے۔
آج جب دنیا بھر میں دائیں بازو کی رجعتی سیاست مضبوط ہو رہی ہے۔ فلاحی ریاست کی حاصلات کو ختم کیا جارہا ہے اور محنت کشوں پر سرمایہ دارانہ حملے مسلسل تیز ہو رہے ہیں تو ہر ملک میں انقلابیوں کی بنیادی ذمہ داری اپنے ہی حکمران طبقے اور اپنی ہی سرمایہ دار ریاست کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری سامراجی ممالک میں کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر استحصال، لوٹ مار اور قومی جبر کی ذمہ داری انہی ریاستوں پر عائد ہوتی ہے۔
سامراجی ممالک میں انقلابی درحقیقت اس سرمایہ دارانہ نظام کے دل میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کی اولین ذمہ داری اپنے ہی سامراجی حکمران طبقے کو شکست دینا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی ممالک کے محنت کش طبقے میں وہ طاقت موجود ہے جو اپنے حکمران طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ عالمی سرمایہ داری کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی جدوجہد ایک دوسرے سے جڑ جائے اور ایک مشترکہ عالمی انقلابی تحریک کی شکل اختیار کرے۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ کیمپ ازم کے حامی حلقوں کا یہ رجحان ایران کی ہرعوامی احتجاجی تحریک کو صہیونی ایجنٹوں یا بیرونی سازشوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے درحقیقت نیم نوآبادیاتی معاشروں کے بارے میں ایک نہایت تحقیر آمیز اور نسل پرستانہ تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ گویا چند بیرونی ایجنٹ لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لے آنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایرانی عوام خود اپنی زندگی، اپنے مستقبل اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کی اہلیت ہی نہ رکھتے ہوں بلکہ وہ ہمیشہ عالمی حکمران طبقات کے ہاتھوں محض مہرے بنے رہیں۔ یہ تصور نہ صرف ایرانی عوام کی سیاسی خودمختاری کی نفی کرتا ہے بلکہ ہر اس عوامی تحریک کی توہین بھی ہے جو جبر، استحصال اور آمریت کے خلاف اپنی قوتِ بازو پر کھڑی ہوتی ہے۔
سامراج دشمن یکجہتی کی جدوجہد کا انقلابی لائحۂ عمل
اگرچہ آج سابقہ نوآبادیات کی اکثریت رسمی طور پر سیاسی آزادی حاصل کر چکی ہے لیکن ان کا معاشی انحصار بدستور برقرار ہے۔ سامراجی استحصال کا یہ رشتہ ہر ملک کے اندر جاری طبقاتی جدوجہد سے ناقابلِ جدا ہے۔ اس لیے سامراجی تسلط کا خاتمہ طبقاتی جدوجہد سے الگ ہو کر ممکن نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک ہی انقلابی عمل کے ذریعے شکست دیے جا سکتے ہیں۔
بائیں بازو کے لیے یہ بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ امریکی سامراج کے خلاف جدوجہد کو صرف امریکہ تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ دارانہ عالمی نظام کو برقرار رکھنے میں دیگر بڑی طاقتیں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے سامراج کے خلاف جدوجہد کا مطلب عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی تمام بڑی طاقتوں کے خلاف جدوجہد ہے نہ کہ ایک سامراجی کمپ کے مقابلے میں دوسرے کمپ کی حمایت ہے۔
اس پورے عمل میں طبقاتی جدوجہد کبھی ثانوی حیثیت اختیار نہیں کرتی بلکہ یہی سوشلسٹ حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے۔ صرف محنت کش طبقہ ہی ذرائع پیداوار پر اجتماعی اور جمہوری کنٹرول قائم کرکے سرمایہ دارانہ استحصال کا خاتمہ کر سکتا ہے اور سماج کو ایک نئی بنیاد پر استوار کر سکتا ہے۔
اسی لیے ہم ایرانی عوام سے غداری نہیں کرتے جب ہم ملائیت کی جانب سے اپنی ہی آبادی کو غلام بنانے اور کچلنے کی پالیسیوں کی حمایت سے انکار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہماری یکجہتی ایرانی عوام کے ساتھ ہے جو آمریت کے خاتمے، سیاسی آزادی اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ سامراج کے خلاف حقیقی فتح صرف عالمی محنت کش طبقے کی مشترکہ اور انقلابی جدوجہد کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
1979ء کے ایرانی انقلاب کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جانا چاہیے۔ اس وقت نہ صرف محنت کش طبقے کے طبقاتی شعور کو نظر انداز کیا گیا بلکہ اسے اپنی آزاد سیاسی قیادت اور تنظیم تعمیر کرنے سے بھی محروم کر دیا گیا۔ ایران میں محنت کشوں کی ہڑتالوں اور مزدور کونسلوں (شوراؤں) کی ایک طویل انقلابی روایت موجود ہے۔ بائیں بازو کا فرض ہے کہ وہ ان آزاد اور طبقاتی تنظیمی ڈھانچوں کی تعمیر اور مضبوطی کے لیے جدوجہد کرے۔
انقلابی شعورخودبخود جنم نہیں لیتا اسی وجہ سے منظم انقلابی مداخلت ناگزیر ہے۔ آج ایرانی ملائیت کے تحت مزدور تنظیمیں زیرِ زمین کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ان کے کارکن شدید ریاستی جبر، گرفتاریوں، تشدد اور سزائے موت تک کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے آمریت کے خاتمے کی جدوجہد کو ایک انقلابی مزدور پارٹی کی تعمیر کے فریضے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں ضروری ہے کہ ریاستی مسلح افواج میں سپاہی حکمران طبقے سے ناطہ توڑ کر محنت کش عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور سامراج و سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کا حصہ بنیں۔عوام کو منظم اور مسلح ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے تاکہ وہ ایک طرف ریاستی جبر اور دوسری طرف سامراجی جارحیت دونوں کا مقابلہ کر سکیں۔
حقِ خود ارادیت کا تعلق کسی ریاست کے جابر حکمران طبقے سے نہیں بلکہ اس ریاست کے محکوم عوام سے ہے۔ لہٰذا جو لوگ ایرانی ملاسئیت کے خاتمے کی ہر جدوجہد کو مغربی سامراج یا بادشاہت کی بحالی کی سازش قرار دیتے ہیں وہ درحقیقت طبقاتی سیاست سے انحراف کرتے ہیں اور حقیقی سامراج دشمن مزاحمت کی بنیاد کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ہم دنیا کی تمام محکوم اقوام اور مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور کرد عوام سمیت ان تمام قومی تحریکوں کے خلاف عائد کیے جانے والے “علیحدگی پسندی” اور “دہشت گردی” جیسے الزامات کی شدید مذمت کرتے ہیں، جن کے ذریعے ان کی آزادی کی جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہم اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی فتح عالمی سطح پر رجعتی قوتوں کو مزید مضبوط کرے گی، محنت کش طبقے کی عالمی جدوجہد کو کمزور کرے گی اور مغربی ایشیا کے عوام کو مزید تباہی، جنگ اور بربادی سے دوچار کرے گی۔

Leave a Reply