خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی: بوناپارٹسٹ ریاست اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کا بحران

Posted by:

|

On:

|

تحریر:شہزاد ارشد

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پاکستانی ریاست کے گہرے ہوتے ہوئے سیاسی بحران اور بڑھتی ہوئی آمریت کا اظہار ہے۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی میں اضافے، صوبائی حکومت کی  ناکامی اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کو اس اقدام کا جواز بنایا ہے۔ تاہم ان اقدامات کا وقت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں کی وجہ سے یہ واضح ہے کہ  دہشت گردی کے خطرے کو سیاسی مخالفت دبانے کے لیے  استعمال  کیا جا رہا۔

وزیراعلیٰ اور دیگر وزرا کی گرفتاریوں، تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، دفعہ 144 کے نفاذ اور مختلف شہروں کے درمیان آمدورفت کی پابندیوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنا اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی ترجیحات میں عوامی اختیار کے بجائے سیاسی کنٹرول کو فوقیت حاصل ہے۔

یہ بحران محض دو سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ریاستی طاقت، سرمایہ دارانہ مفادات اور جمہوری حقوق کے درمیان بنیادی تضاد موجود ہے۔ ریاست دہشت گردی کے مسئلے کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہوئے ہر اس مخالفت کو کچل رہی ہے  جو اس کی بڑھتی ہوئی آمریت، ۔سامراجی گمشتگی یا سرمایہ دار طبقے کے منافع کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے

۔9مئی سے گورنر راج تک: جمہوری حقوق پر بڑھتا ہوا دباؤ

موجودہ بحران کی شدت کو سمجھنے کے لیے 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد شروع ہونے والے کریک ڈاؤن اور فروری 2024ء کے متنازع انتخابات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ تحریک انصاف کے خلاف گرفتاریوں، مقدمات اور تنظیمی پابندیوں کے بعد انتخابات نے سیاسی بحران کو مزید گہرا کردیا۔ تحریک انصاف اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے انتخابی رکاوٹوں کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل کی لیکن نتائج میں ردوبدل اور دھاندلی نے انتخابی عمل کی ساکھ کو مجروح کیا۔ ان انتخابات پردھندلی کے اعتراضات دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی سامنے آئے تاہم فوجی سرپرستی میں مسلم لیگ نواز کی قیادت میں وفاقی حکومت قائم ہوگئی۔

اس کے بعد پارلیمان کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، آزاد صحافت اور سیاسی تنظیم سازی پر مسلسل حملے ہوئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ریاستی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی تنظیموں کو پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا، پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جاری عوامی تحریک کو کچلا جارہا ہے۔ یہ گورنر راج اسی عمل کا تسلسل ہے جس میں عوامی مینڈیٹ اور سیاسی اختلاف کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے انتظامی و ریاستی طاقت سے کچلا جارہا ہے۔

تحریک انصاف کی سرمایہ دارانہ سیاست سے اختلاف کے باوجود اس کے خلاف ریاستی جبر کی مخالفت ضروری ہے۔ جمہوری حقوق کا دفاع کسی سیاسی جماعت کی معاشی پالیسیوں کی توثیق نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اپنی حکومت منتخب کرنے، پالیسیوں پر تنقید کرنے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کا حق حاصل ہے یا نہیں۔

خیبر پختونخوا کے عوام فوجی آپریشنوں کے خلاف کیوں ہیں؟

گزشتہ دو عشروں میں خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں کے عوام نے طالبان کی دہشت گردی، فوجی آپریشنوں، جبری نقل مکانی، تباہ شدہ کاروبار اور بنیادی سہولتوں کی بربادی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ بہت سے خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے، لوگوں نے اپنے عزیز کھوئے اور متعدد خاندان آج بھی لاپتا افراد کی تلاش میں ہیں۔ بارودی سرنگوں، مسلح حملوں اور غیر یقینی حالات نے معمول کی زندگی کو برباد کردیا ہے۔

اس وجہ سے  عوام میں فوجی آپریشنوں کے بارے میں گہری بے اعتمادی ہے۔ لوگوں کا سوال ہے کہ بار بار کی کارروائیوں کے باوجود دہشت گردی کا مستقل خاتمہ کیوں نہیں ہوسکا اور ان کی انسانی و معاشی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ امن محض فوجی آپریشن نہیں، اس کے لیے محفوظ زندگی، روزگار، تعلیم، علاج اور مقامی آبادی کے سیاسی اختیار کی ضمانت بھی ضروری ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ، اولسی تحریک اور عوامی جرگوں کی جانب سے فوجی آپریشنوں، جبری گمشدگیوں اور شہری حقوق کی پامالی کے خلاف آوازیں اسی تاریخی تجربے کا اظہار ہیں۔

اندرونی نوآبادیاتی ڈھانچہ اور وسائل کی سیاست

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو پاکستان کے ریاستی ڈھانچے میں موجود عدم مساوات کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اندرونی نوآبادیات سے مراد ایسی صورتِ حال ہے جس میں مظلوم قومیتوں اور محروم خطوں کو اپنے سیاسی مستقبل اور قدرتی وسائل پر اختیار حاصل نہیں ہوتا جبکہ ان سے متعلق فیصلے مرکزی حکام مقامی آبادی کی مؤثر شرکت کے بغیر کرتے ہیں۔ ان فیصلوں کے نتائج بھی زیادہ تر انہی آبادیوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے مجوزہ معدنیاتی قانون کی منظوری سے خیبر پختونخوا اسمبلی کا انکار قدرتی وسائل پر اختیار کے تنازع کو واضح کرتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کس کے کام آئے گی اور ان کے استعمال کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟ جب مقامی آبادی عدم تحفظ، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہی ہو جبکہ اپنے قدرتی وسائل پر اختیار بھی مرکز کے پاس ہو تو معاشی استحصال قومی جبر کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

بلوچستان میں بھی یہی تضادات نظر آتے ہیں۔ وہاں طویل فوجی آپریشنز، سیاسی جبر اور وسائل کی ملکیت کے تنازعات نے ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کیا ہے۔ یہ تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ اختیارات کا ارتکاز محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق دولت اور سیاسی طاقت کی تقسیم اور مظلوم قومیتوں کے حقِ خودارادیت سے بھی ہے۔

اس طرح گورنر راج اور فوجی آپریشنز مقامی آبادیوں پر مرکزی حکومت کا کنٹرول مضبوط کرنے اور اندرونی نوآبادیاتی تعلقات کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے قومی حقِ خودارادیت اور قدرتی وسائل پر عوام کے جمہوری اختیار کی جدوجہد کو سیاسی جبر اور طبقاتی استحصال کے خلاف وسیع تر جدوجہد سے جوڑنا ضروری ہے۔

بوناپارٹسٹ ریاست اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کا بحران

مارکسی نظریے میں بوناپارٹ ازم ایسی صورتِ حال کو کہا جاتا ہے جب ریاستی مشینری خصوصاً فوج اور انتظامیہ، منتخب سیاسی اداروں سے بڑی حد تک خودمختار ہو کر معاشرے پر اپنا غلبہ قائم کر لیتی ہے۔ ریاست بظاہر خود کو سیاسی جماعتوں اور طبقاتی کشمکش سے بالاتر ظاہر کرتی ہے لیکن عملاً وہ موجودہ سماجی نظام اور ملکیت کے رائج ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا کردار ادا کرتی ہے۔

پاکستان میں فوجی آمریتوں، منتخب حکومتوں کی برطرفیوں اور غیر منتخب مراکزِ طاقت کے مسلسل اثر و رسوخ نے تاریخی طور پر اس رجحان کو مضبوط کیا ہے۔ انتخابات ہوتے ہیں، پارلیمنٹ موجود رہتی ہے اور سویلین حکومتیں بھی قائم ہوتی ہیں لیکن جب سیاسی فیصلے طاقتور ریاستی اداروں یا حکمران طبقے کے مفادات سے ٹکراتے ہیں تو ان حکومتوں کے اختیارات محدود کر دیے جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اس تضاد کی واضح مثال ہے۔ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرکے انتظامی اختیارات وفاق کے کنٹرول میں دینا عوامی نمائندگی اور ریاستی طاقت کے ارتکاز کے درمیان تصادم کو واضح کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوری ادارے بظاہر برقرار رہنے کے باوجود منتخب نمائندوں کو غیر منتخب اداروں اور مرکزی اقتدار کے تابع کیا جا سکتا ہے۔

پااکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی حکمران طبقے کی جماعتوں کا کردار بھی اس حوالے سے اہم ہے۔ اگرچہ یہ جماعتیں انتخابات کے ذریعے اپنا سیاسی جواز حاصل کرتی ہیں لیکن جب آمرانہ ریاستی اقدامات ان کے سیاسی اور معاشی مفادات کے حق میں ہوں تو جمہوری اصولوں سے ان کی وابستگی کمزور پڑ جاتی ہے۔ یوں پارلیمانی ادارے تو موجود رہتے ہیں لیکن اہم فیصلوں پر عوام کا اثر و رسوخ بتدریج گھٹتا جاتا ہے۔

یہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا ایک بنیادی تضاد ہے۔ جب موجودہ نظام کے بحران اور تضادات شدت اختیار کرتے ہیں تو حکمران طبقہ اپنی طاقت برقرار رکھنے اور مخالفت کو دبانے کے لیے ریاستی جبر پر زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کو اسی وسیع تر آمرانہ رجحان کے تناظر میں سمجھنا چاہیے خصوصاً جب دہشت گردی اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلاف اور مخالفت محدود کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جائے۔

سامراجی مفادات، نیولبرل پالیسیاں اور جبر

پاکستان کا سیاسی بحران اس کی معاشی کمزوری عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں اس کی پوزیشن کی وجہ سے ہے ۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں، قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی خسارے میں کمی کے نام پر نافذ کی جانے والی نیولبرل پالیسیوں کا بوجھ محنت کشوں اور غریب عوام پر پڑتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بھاری یوٹیلیٹی بل اور تعلیم و صحت کی ناکافی سہولتیں عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بناتی ہیں جبکہ اشرافیہ ٹیکس رعایتوں اور دیگر فوائد سے مستفید ہوتے ہیں۔

یو این ڈی پی کی پاکستان میں عدم مساوات سے متعلق تحقیق میں اشرافیہ کو حاصل ہونے والی معاشی مراعات کی مالیت تقریباً 17 ارب ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔ یہ تضاد سرمایہ دارانہ ریاست کی طبقاتی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ عوام سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر طاقتور معاشی طبقات کے مفادات محفوظ رہتے ہیں۔

ان پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کو روکنا حکمران طبقے کے لیے اہم ہوجاتا ہے کیونکہ عوامی جدوجہد معاشی فیصلوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اقتدار اور دولت کی تقسیم پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اسی لیے جمہوری آزادیوں پر پابندیوں کو معاشی استحصال سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں، دفاعی و خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں پارلیمانی اختیار کی محدودیت بھی اسی مسئلے کا حصہ ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت اور یمن کے تنازع پر 2015ء کی پارلیمانی قرارداد جیسے معاملات اس سوال کو اہم بناتے ہیں کہ قومی پالیسیوں پر حقیقی فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے۔

عالمی سرمایہ اور قومی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے خلاف عوامی مزاحمت ان کے لیے سیاسی مسئلہ بن جاتی ہے۔ ریاستی آمریت اس مزاحمت کو کچلتی ہے تاکہ موجودہ معاشی و سیاسی نظام کو برقرار رکھا جاسکے۔ یوں دہشت گردی کا سیاسی استعمال، سامراجی گمشتگی اور سرمایہ داروں کے منافع کا تحفظ ایک ایسے ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں جہاں آزاد سیاسی مخالفت کو برداشت کرنے کی گنجائش مسلسل کم ہورہی ہے۔

جمہوری جدوجہد اور متحدہ محاذ کی ضرورت

گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کا مقصد صرف تحریک انصاف کی حکومت کی بحالی نہیں بلکہ اس اصول کا دفاع ہے کہ کسی منتخب حکومت یا عوامی تحریک کو غیر جواب دہ ریاستی طاقت کے ذریعے خاموش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر دہشت گردی کے نام پر سیاسی گرفتاریوں اور احتجاج پر پابندیوں کو قبول کرلیا جائے تو یہی منطق کل مزدوروں کی ہڑتالوں، طلبہ تحریکوں اور مظلوم اقوام کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے بھی استعمال ہوگی۔

گرفتاریوں اور ریاستی دباؤ کے باوجود وکلا اور سیاسی کارکنوں کے احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوری حقوق سلب کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔ اصل ضرورت اس مزاحمت کو محنت کشوں، کسانوں، طلبہ، خواتین اور مظلوم قومیتوں کی جدوجہد سے جوڑنے کی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک متحدہ محاذ تشکیل دینا چاہیے جو گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی، جبری گمشدگیوں کے خاتمے، سیاسی تنظیم سازی کی آزادی، صوبائی خودمختاری اور عوامی وسائل پر جمہوری اختیار کے مطالبات کو یکجا کرے۔

ان مطالبات کو روزگار، بہتر اجرتوں، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی، اور ان نیولبرل پالیسیوں کے خاتمے کی جدوجہد سے بھی جوڑنا ضروری ہے جو معاشی بحران کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالتی ہیں۔ معاشی انصاف اور قوموں کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو الگ کرکے جمہوریت کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔

حکمران طبقہ جبر کے ذریعے اس بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن گرفتاریاں اور پابندیاں نہ تو دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی معاشی محرومی اور قومی جبر کی بنیادی وجوہات دور کر سکتی ہیں۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد دراصل باقی ماندہ جمہوری حقوق کے دفاع کی جدوجہد ہے جو ہر قسم کے جبر کے خاتمے اور سوشلزم کے قیام کی وسیع تر جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ ان حقوق کے دفاع کے لیے محنت کشوں، کسانوں، طلبہ اور مظلوم قومیتوں کو آزادانہ طور پر منظم ہو کر اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس طرح جمہوری آزادیوں کے دفاع کی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ استحصال، سامراجی غلبے اور بوناپارٹسٹ ریاست کے خلاف ایک متبادل طبقاتی نظام کی تعمیر یعنی سوشلزم کی جدوجہد سے جوڑا جا سکتا ہے۔

Posted by

in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *