برازیل میں عوامی مزاحمت کی فتح، بولسونارو ازم کو شکست

Posted by:

|

On:

|

تحریر: ویرونیکا اوکیلی

عوامی جدوجہد اس فتح میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اب ہمیں سڑکوں پر نکلنے کا سلسلہ جاری رکھنا، انتہائی دائیں بازو کو فیصلہ کن شکست دینا اور ایک ایسی آزاد سیاسی قوت تعمیر کرنا ہوگی جو محنت کشوں، نوجوانوں اور تمام مظلوم طبقات کے مفادات کی نمائندگی کرے۔

برازیل کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے محنت کشوں، نوجوانوں اور معاشرے کے سب سے مظلوم طبقات کے خلاف منصوبوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ لولا کی فتح بولسونارو ازم اور ان قوتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو عوام کے حاصل کردہ حقوق پر بڑے حملے کرنا چاہتی تھیں۔

لیکن یہ فتح حکومت کے لیے بھی ایک پیغام ہے، برازیل کے عوام اب سرمایہ داروں کے پیدا کردہ بحران کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ لولا کی چوتھی حکومت جسے ’’لولا 4.0‘‘ کہا جا رہا ہے، اسکو ایسے عوام کا سامنا کرنا پڑے گا جو کفایت شعاری کی پالیسیوں اور محنت کش طبقے کے مفادات کے خلاف نئے مالیاتی منصوبوں کو قبول کرنے کے لیے مزید تیار نہیں ہیں۔

اس فتح میں عوامی جدوجہد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ نوجوانوں کی پیش قدمی میں ہزاروں لوگ خودبخود سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں کی اپیل کا انتظار نہیں کیا۔ انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد پیر سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیلنے لگی۔ بڑے اور چھوٹے شہروں میں جلسے، جلوس، ووٹروں کو اپنا ووٹ تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کمپینز، عوامی اجتماعات، اجلاس اور لاتعداد دوسری سرگرمیاں سامنے آئیں۔ ان سب نے ظاہر کر دیا کہ معاشرے کے وسیع حلقے جدوجہد کے لیے پُرعزم ہیں۔

یہ تحریک اوپر سے نہیں چلائی گئی تھی بلکہ ہزاروں لوگوں نے اپنی پہل قدمی اور اجتماعی کوششوں سے اسے آگے بڑھایا۔ انہوں نے صورتِ حال کی سنگینی کو سمجھا اور انتہائی دائیں بازو کی پیش قدمی روکنے کے لیے مل کر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ نوجوانوں نے اس جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کیا اور ثابت کیا کہ وہ آمریت، غیر محفوظ روزگار اور حقوق کی پامالی پر مبنی مستقبل کو خاموشی سے قبول نہیں کریں گے۔

بولسونارو، ٹرمپ، میلی اور سارا انتہائی دایاں بازو ۔۔۔۔  شکست سے دوچار

بولسونارو ازم کی انتخابی شکست بین الاقوامی انتہائی دائیں بازو کے ان حلقوں کے لیے بھی ایک دھچکا ہے جو لاطینی امریکہ میں اپنے اتحادیوں کی کامیابی کے منتظر تھے۔ بولسونارو، میلی اور ٹرمپ کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ سماجی اور جمہوری حقوق پر حملے کرنا، آمرانہ پالیسیوں کو فروغ دینا اور محنت کش طبقے کی تنظیموں کے خلاف جارحانہ مہم چلانا۔

ٹرمپ نے برازیل کے انتخابی عمل میں براہِ راست مداخلت کی اور فلاویو بولسونارو کو کامیاب کرانے کی کوشش کی۔ لیکن عوامی جدوجہد اور انتخابی نتائج نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ بولسونارو ازم کی شکست سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو ناقابلِ شکست نہیں۔ جب عوام بڑی تعداد میں متحد ہو کر میدان میں اترتے ہیں تو اس کی پیش قدمی روکی جا سکتی ہے۔

تاہم ہمیں ان قوتوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ محض انتخابی شکست سے اس رجعتی یلغار کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انتہائی دائیں بازو کی اپنی سماجی بنیادیں ہیں اور اسے بین الاقوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ وہ ان بنیادوں اور روابط کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی حمایت حاصل کرنے اور دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی جگہ بنانے کی کوشش کرتا رہے گا۔

ہم نے یہ لڑائی جیت لی لیکن جدوجہد جاری ہے

انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد بولسونارو ازم کی جانب سے سامنے آنے والا ردِعمل تشویش کا باعث ہے۔ نتائج پر سوال اٹھانا اور فلاویو بولسونارو کی جانب سے عوام کو ’’برازیل کے دفاع‘‘ کے لیے پکارنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم چوکس اور متحرک رہیں ہمیں ان گروہوں کی آئندہ سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی اور عوام کے فیصلے کو مسترد کرنے یا ہمارے جمہوری حقوق کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ہم نے ایک اہم فتح حاصل کی ہے لیکن بولسونارو ازم اور انتہائی دائیں بازو کے خلاف جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں اس سیاسی منصوبے کو شکست دینی ہے، اس کی حمایت کرنے والی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے اور اسے دوبارہ محنت کش عوام کے حقوق اور آزادیوں کے لیے خطرہ بننے سے روکنا ہے۔

اس مقصد کے لیے سڑکوں سے پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ اپنی جدوجہد کو مزید آگے بڑھانا ہوگا۔ جس عوامی تحریک نے یہ فتح ممکن بنائی ہے، اسے جاری رہنا چاہیے، اسے مزید وسعت دینی چاہیے اور عوامی شرکت کے مستقل فورم قائم کرنے چاہییں۔ صرف انتخابات کے فیصلہ کن مواقع پر سڑکوں پر نکلنا کافی نہیں۔ ہمیں کام کی جگہوں، تعلیمی اداروں اور محلوں میں اپنی تنظیمیں مضبوط کرنا ہوں گی اور محنت کش عوام پر ہونے والے ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد بنانا ہوگا خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی حکومت ہو۔

انتہائی دائیں بازو کو شکست دینے کے لیے عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے

بولسونارو ازم کے خلاف عوامی جدوجہد کو آبادی کی اکثریت کے لیے ٹھوس کامیابیوں میں بدلنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں 99 فیصد عوام کے مفادات کے لیے لڑنا ہوگا۔ اس میں محنت کش، نوجوان، خواتین، سیاہ فام برادری اور معاشرے کے تمام مظلوم طبقات شامل ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ غیر محفوظ روزگار کے مسئلے سے نمٹا جائے، معاشی و سماجی نابرابری کے خلاف جدوجہد کی جائے، عوام کے حقوق میں توسیع کی جائے اور ہر شخص کے لیے باعزت زندگی گزارنے کے حالات یقینی بنائے جائیں۔

گزشتہ چند برسوں کے سیاسی تجربات نے واضح کر دیا ہے کہ محنت کشوں کے مفادات کو بڑے کاروباری گروہوں، بینکاروں اور زرعی کاروبار سے وابستہ طاقتور طبقات کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی پالیسی کی اپنی حدود ہیں۔ جب تک بالادست طبقات کے مفادات کو ترجیح دی جاتی رہے گی، عام لوگوں کی ضروریات اور مطالبات نظرانداز ہوتے رہیں گے۔ یہی صورتِ حال انتہائی دائیں بازو کے دوبارہ ابھرنے کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔

اسی لیے ہمیں سڑکوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھنی، عوامی جدوجہد جاری رکھنی اور اپنی تنظیموں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ہفتے میں چھ دن کام اور ایک دن چھٹی کے نظام (6×1) کے خاتمے کی جدوجہد اس کی واضح مثال ہے۔ عوامی تحریک نے اس مطالبے کو آگے بڑھایا اور حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ ہفتہ وار اوقاتِ کار میں کمی کی حمایت کرے۔

بائیں بازو کے ایک آزاد سیاسی متبادل کی تعمیر

سڑکوں پر عوامی طاقت کے اس مظاہرے نے ایک بنیادی تذویراتی سوال ہمارے سامنے رکھا ہے ہم اس عوامی تحریک کو ایک مستقل تنظیم اور ایسی سیاسی قوت میں کیسے بدل سکتے ہیں جو نہ صرف انتہائی دائیں بازو کا مقابلہ کرے بلکہ طبقاتی مفاہمت کی سیاست کی حدود کو بھی چیلنج کرے؟

ہماری تنظیم ’ریوولوشن سوشلسٹا‘ نے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں لولا کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ان کی حکومت پر بھروسا کریں یا یہ توقع رکھیں کہ وہ خودبخود عوام کے مفادات کے لیے ضروری اقدامات کرے گی اور سامراجیت و سرمایہ داری سے اپنا تعلق توڑ لے گی۔

ہم ایک ایسے سوشلسٹ متبادل کی تعمیر کے حامی ہیں جو حکومت سے آزاد ہو اور محنت کش طبقے اور تمام مظلوم طبقات کے مفادات کے لیے جدوجہد کرے۔ ایسا سیاسی متبادل جو محض موجودہ نظام کو چلاتا نہ رہے بلکہ استحصال اور جبر کو چیلنج کرے اور ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے لڑے جہاں نظام اور وسائل کی تنظیم اکثریت کی ضروریات کے مطابق ہو۔

ایسا متبادل محض سیاسی رہنماؤں کے درمیان معاہدوں یا انتخابی مہمات کے ذریعے تعمیر نہیں ہو سکتا۔ اسے عوامی جدوجہد، نچلی سطح پر تنظیم سازی اور ان لوگوں کی عملی شرکت سے جنم لینا ہوگا جو سڑکوں پر نکلے تھے۔ اسے اس اجتماعی طاقت کی سیاسی ترجمانی کرنی ہوگی جس کا اظہار اس تاریخی عوامی تحریک میں ہوا اور تبدیلی کا ایسا راستہ پیش کرنا ہوگا جو انتخابی سیاست کی حدود سے آگے جاتا ہو۔ فاشزم مخالف اس فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ جب عوام متحد ہو کر میدان میں اترتے ہیں تو رجعتی سیاست کو شکست دی جا سکتی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک سے پیدا ہونے والی توانائی کو ضائع نہ ہونے دیا جائے، اپنی تنظیموں کو وسعت دی جائے اور ایک ایسے سوشلسٹ، سرمایہ داری مخالف اور انقلابی متبادل کی تعمیر کے لیے جدوجہد تیز کی جائے جو محنت کشوں اور تمام مظلوم طبقات کے مفادات کی حقیقی ترجمانی کرے۔

Posted by

in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *