تحریرِ: ربیکا اینڈرسن اور کے ڈی ٹائٹ
یور پارٹی جس کی بنیاد گزشتہ سال سابق لیبر رہنما جیرمی کوربن اورسابق لیبررکنِ پارلیمان زارا سلطانہ نے مل کر رکھی تھی اس کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی نے12 اپریل 2026 کو فیصلہ کیا کہ منظم سوشلسٹ رجحانات سے وابستہ ارکان کو پارٹی سے نکال دیا جائے۔ ہزاروں لوگ اس امید کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوئے تھے کہ یہ برطانوی لیبر پارٹی کے بائیں طرف ایک حقیقی متبادل بنے گی خاص طور پر اس وقت جب وزیرِاعظم کیراسٹارمرکی قیادت میں لیبر پارٹی مسلسل دائیں طرف جا رہی ہے لیکن پارٹی کے قیام کے چند ہی ماہ بعد اس کی قیادت نے اپنے ہی سوشلسٹ بائیں بازو کو تنظیم سے باہر کر دیا ہے۔
یہ اخراج ایک پورے مرحلے کے خاتمے کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہو گیا کہ یور پارٹی کس قسم کی تنظیم بنے گی ایک افسر شاہانہ انداز میں چلائی جانے والی انتخابی مشین جو شکل میں عوامی مگر حقیقت میں سیاسی طور پر بے سمت ہے جو بائیں بازو سے آنے والی منظم مخالفت کو برداشت نہیں کرتی ہے۔ یہ واقعہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پراہم ہے کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ بائیں بازو کی پاپولسٹ سیاست کرنے والی تحریکیں جب اپنے اندر سیاسی بیداری کا سامنا کرتی ہیں تو وہ کس طرح افسر شاہانہ رویہ اختیار کر لیتی ہیں۔
ایک پر حملہ سب پر حملہ
قیادت کا یہ فیصلہ دراصل سرگرم کارکنوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ منظم اختلاف کو دبانے، سیاسی بحث کو روکنے اور پارٹی کو ایک جمہوری مزدورپارٹی بنانے کے بجائے ایک سخت کنٹرول والی انتخابی تنظیم میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
اس قیادت نے برطانیہ میں ایک بڑی سوشلسٹ عوامی پارٹی بنانے کا تاریخی موقع ضائع کر دیا ہے۔ ابتدا میں آٹھ لاکھ افراد نے اس تحریک میں دلچسپی دکھائی مگر اوپر سے کنٹرول کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ تعداد کم ہو کر تقریباً ساٹھ ہزار رہ گئی۔ اس کے بعد سیاسی سرگرمی اورواضح حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگ یا تو سیاست سے دور ہو گئے یا پھر گرین پارٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز کی طرف چلے گئے جو حالیہ برسوں میں ایک مبہم بائیں بازو کے رجحان کے ساتھ مضبوط ہوئی ہے۔
پارٹی نے مزدور تحریکوں کی حمایت کرنے، ہڑتالوں میں شامل ہونے یا مہنگائی، جنگ اور نسل پرستی کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کے بجائے اندرونی صفائی اور اختلافی آوازوں کو نکالنے پر توجہ دی۔ قیادت نے دعویٰ کیا کہ یہ سب “جمہوریت، شفافیت اوراعتماد” کے لیے ضروری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف کنٹرول قائم رکھنا ہے۔دوہری رکنیت کا حق جو پارٹی کے آئین میں موجود تھا اسے عملاً ختم کیا جا رہا ہے۔ اب حقوق صرف اسی وقت موجود ہوں گے جب قیادت انہیں تسلیم کرے۔
تاسیسی کانفرنس میں ہی ایک بیوروکریٹک چال کے ذریعے مندوبین کو اس ترمیم پر ووٹ دینے سے روک دیا گیا جس میں سوشلسٹ گروہوں پر پابندی کو ختم کرنے کی بات کی گئی تھی حالانکہ یہ سب سے زیادہ حمایت حاصل کرنے والی ترامیم میں سے ایک تھی۔ یہ طرزِ عمل اس نام نہاد جمہوری طریقۂ کار اور شخصیت پرستی کی عکاسی کرتا ہے جس میں اب کوربن اور ان کے قریبی حلقے مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ یہی طرزِ سیاست اسپین سے فرانس تک مختلف بائیں بازو کی عوامی سیاست پر مبنی جماعتوں میں بھی دیکھی گئی ہے۔
یہ کہنا کہ اراکین صرف انفرادی حیثیت میں “یور پارٹی” سے وابستہ رہیں اور ہم خیال افراد کے ساتھ منظم ہونے سے گریز کریں ایک غیر سنجیدہ بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دھڑے پر ایک جیسے اصول لاگو نہیں ہوں گے اصل طاقت رکھنے والے افراد ان پابندیوں سے محفوظ رہیں گے۔ ابتدا میں کارروائی شاید انقلابی بائیں بازو کے خلاف ہو لیکن اس کا حقیقی ہدف ہر وہ منظم مزاحمت ہے جو مستقبل میں قیادت کی موقع پرستی کے خلاف ابھر سکتی ہے۔
افسر شاہانہ اصلاح پسندی: کوربن کی لیبر پارٹی سے “یور پارٹی” تک
“یور پارٹی” سے منظم انقلابی سوشلسٹوں کو باہر رکھنے کی کوشش دراصل اسی تجربے کی توسیع ہے جو 2015 سے 2020 کے دوران جیریمی کوربن کی قیادت میں لیبر پارٹی میں سامنے آیا تھا۔ دونوں صورتوں میں اصل رکاوٹ صرف دائیں بازو یا میڈیا کا دباؤ نہیں تھا بلکہ برطانوی محنت کش تحریک کے اداروں سے چمٹی ہوئی ایک افسر شاہانہ اصلاح پسند پرت تھی۔ جیسا کہ ہم نے دیگر مواقع پر واضح کیا ہے یہ پرت جدوجہد کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کا کام کرتی ہے اور سیاسی وضاحت اور عوامی تحریک کے بجائے انتخابی انتظام اور تنظیمی استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔
کوربن کے دور میں لیبر پارٹی مختصرمدت کے لیے وسیع سیاسی بیداری اورانقلابی امیدوں کا مرکز بن گئی تھی۔ لاکھوں افراد پارٹی میں شامل ہوئے جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی جو پہلی بار منظم سیاست کا حصہ بن رہے تھے۔ لیکن پارٹی کا افسر شاہانہ مرکز،پارلیمانی قیادت، غیر منتخب عہدیداراورٹریڈ یونین قیادتیں مسلسل کوشش کرتی رہیں کہ بحث کو محدود رکھا جائے، منظم بائیں بازو کو حاشیے پر دھکیلا جائے اور کسی بھی پروگرام کی بنیاد پر انقلابی سمت کو آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قیادت اپنے ہی ڈھانچے کے اندر محصور ہو کر رہ گئی وہ لفظی طور پر سوشلزم کی بات کرتی رہی لیکن نہ پارٹی کو بدل سکی اور نہ ہی اسے محنت کش طبقے کی جدوجہد سے جوڑ سکی۔
حقیقت یہ ہے کہ کوربن نے ان افسر شاہانہ حدود کےمطابق بڑی حد تک خود کو ڈھال لیا اور آخرکارانہی کواراکین کی واضح خواہش کے برعکس استعمال بھی کیا مثلاً امیگریشن، دوسرے بریگزٹ ریفرنڈم اور یہود دشمنی کے تنازعے کے معاملات میں۔ ان کی پارلیمانی سوشلزم اس خیال پر قائم تھی کہ اقتدار صرف اسی صورت حاصل کیا جا سکتا ہے جب دائیں بازو کے اراکینِ پارلیمان اور ان کے (زیادہ تر متوسط طبقے کے) سماجی حلقے ساتھ ہوں تاکہ ایک نرم اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے حکومت تک رسائی ممکن ہو۔ مگر لیبر پارٹی میں یہ تصور مکمل طور ناکام ہوا۔ اس کے باوجود اس کا بنیادی رجحان یعنی بائیں بازو کی لیبرزم اب بھی “یور پارٹی” میں موجود ہے جہاں پراپرٹی مالکان ارکانِ پارلیمان اورحتیٰ کہ سابق کنزرویٹو کونسل امیدوار بھی پارٹی کے پلیٹ فارم سے امیدوار بنائے جا رہے ہیں۔
“یور پارٹی” اب اسی راستے کو مختصر اور کم پیمانے پر دہرا رہی ہے۔ ایک بار پھر ایک اصلاح پسند قیادت اس سوال کا سامنا کر رہی ہے کہ سیاسی طور پر متحرک اراکین خصوصاً وہ جو انقلابی سوشلسٹ پروگرام کے گرد منظم ہیں اس بات کو اجاگر کریں گے کہ سوشلزم عملاً کیا ہے اسے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ریاست، سرمایہ داری اور موجودہ سیاسی نظام سے کس نوعیت کا ٹکراؤ درکار ہے۔ لیبر پارٹی کی طرح یہاں بھی جواب یہ نہیں کہ ان بحثوں کو کھولا جائے بلکہ انہیں انتظامی طریقوں سے محدود کیا جا رہا ہے۔
اصطلاحات بدل گئی ہیں۔ جہاں “نیو لیبر”کا دایاں بازو”الیکٹیبلٹی” بات کرتا تھا وہاں کوربن کے حلقے “وسیع اتحاد” کی وہاں اب قیادت “اہلیت”، “وضاحت”، اور “اعتماد” جیسے الفاظ استعمال کر رہی ہے۔ منطق وہی ہے، منظم سیاست کو خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اجتماعی دھاروں کو بے وفائی یا اجنبیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور جمہوریت کو ان فیصلوں کی محض توثیق تک محدود کر دیا جاتا ہے جو پہلے ہی کہیں اور ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح لیبر پارٹی ہو یا “یور پارٹی” افسر شاہانہ اصلاح پسندی سیاسی قیادت کے بجائے انتظامی کنٹرول کو قائم رکھتی ہے اور پروگرام کو اجتماعی بحث و جدوجہد کے بجائے انتخابی برانڈ میں بدل دیتی ہے۔
یہ مماثلت اتفاقی نہیں ہے۔ وہ مشیران، سابق لیبراسٹاف کل وقتی ٹریڈ یونین اہلکاروں اورپیشہ ورانتخابی کارکنوں کا حلقہ جو کوربن کے گرد لیبر پارٹی میں جمع ہوا تھا اب دوبارہ “یور پارٹی” میں اسی صورت میں موجود ہے۔ یہ لوگ وہی تجربات اور عادات ساتھ لائے ہیں جو انہوں نے ایک دہائی تک ایک بڑے اصلاح پسند ڈھانچے کے اندر رہ کر حاصل کیں۔ یہ رجحانات سوشلسٹ نہیں ہیں یہ اس سماجی پرت کے رویے ہیں جس کا وجود ہی اس بات پر منحصر ہے کہ منظم محنت کش طبقے اور سرمایہ دار ریاست کے درمیان تعلق کو منظم رکھا جائے یعنی محنت کشوں کو قابو میں رکھنا اور ریاست و سرمایہ کو مطمئن رکھنا۔
کیا بچایا جا سکتا ہے؟
“یور پارٹی” کی نوعیت کے حوالے سے جاری کشمکش اب بالائی سطح پر اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ تنظیمی سطح پر اخراج ہو چکے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پورے تجربے میں سے آنے والے دور کے لیے کیا کچھ بچایا اور آگے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ہزاروں لوگ اس امید کے ساتھ “یور پارٹی” میں شامل ہوئے تھے کہ یہ محنت کش طبقے کو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر مرکز میں رکھے گی اور آفیشل مزدور تحریک کی افسر شاہانہ سیاست کو چیلنج کرے گی۔ یہ خواہش اب بھی موجود ہے چاہے موجودہ قیادت نے اس سیاسی منصوبے کو بری طرح کمزور کر دیا ہو۔ مختلف مقامی شاخیں بنی تھیں، کمپین نیٹ ورک وجود میں آئے اور بہت سے نئے سیاسی کارکن پہلی بار منظم سیاست میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ختم نہیں ہو جاتا کہ قیادت نے ایک مخصوص راستہ اختیار کر لیا ہے۔
اب بچ جانے والی شاخوں، سوشلسٹ تنظیموں اورانفرادی کارکنوں کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ وہ اپنی توجہ باہر کی طرف مرکوز کریں یعنی آنے والے عرصے کی اصل طبقاتی جدوجہد کی طرف،کونسل کٹوتیوں کے خلاف مزاحمت، مہنگائی کے بحران کے خلاف جدوجہد، ہڑتال کرنے والے مزدوروں کے ساتھ یکجہتی، مہاجرین کا دفاع، نسل پرستی اور دائیں بازو کی انتہاپسندی کے خلاف لڑائی اور جنگی تیاریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی مخالفت وغیرہ۔ اسی بنیاد پرایک متحدہ محاذ جو ٹریڈ یونینوں، فیکٹری سطح کے سرگرم کارکنوں اور کمیونٹی تحریکوں تک پھیلا ہوا ہو اور صرف منظم بائیں بازو تک محدود نہ رہے “ورکرز پارٹی” کے مطالبے کو حقیقی سیاسی مواد دے سکتا ہے۔ اسی راستے سے “یور پارٹی” کے تجربے کی بہترین قوتوں کو مشترکہ جدوجہد میں جوڑا جا سکتا ہے جبکہ پروگرام اور تنظیم کے بڑے سوالات کو آگے چل کر حل کیا جائے۔
یہ سوالات پہلے سے طے نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے جواب صرف سنجیدہ سیاسی بحث کے ذریعے ہی سامنے آ سکتے ہیں کسی ایسے ڈھانچے کے اندر جو اس بکھراؤ سے ابھرے اور اس بنیاد پر کہ مختلف رجحانات کو منظم ہونے اور اپنے مؤقف کے حق میں آزادانہ دلائل دینے کا حق حاصل ہو۔ ایک انقلابی تنظیم کو یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے پاس پہلے سے تمام جوابات موجود ہیں اسے طبقے سے سیکھنے کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے۔ لیکن سیاسی پروگرام یعنی آج کی جدوجہد کو سوشلزم کی طرف لے جانے کی حکمتِ عملی کوصرف مقامی تجربات سے اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسےعہد کے بڑے سوالات کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور آج کی تحریک کے سامنے سب سے بنیادی سوال وہی ہے جسے “یور پارٹی”کے زوال نے دوبارہ واضح کر دیا ہے یعنی اصلاح یا انقلاب؟
عالمی سطح پر سوشلسٹوں کے لیے یہ سبق نیا نہیں لیکن اس تجربے کے ساتھ مزید واضح ضرور ہو گیا ہے۔ لیفٹ پاپولزم بظاہر ایک انقلابی مزدور پارٹی کے مقابلے میں تیز سیاسی اثر حاصل کرنے کا آسان راستہ دکھاتا ہے مگر درحقیقت وہ طبقے کی اجتماعی سیاسی زندگی کے بجائے ایک رہنما کی اتھارٹی، انتخابی برانڈ اور تکنیکی افسر شاہانہ ڈھانچے کو متبادل بنا دیتا ہے۔ جب اسے حقیقی جدوجہد یا اپنے ہی متحرک کارکنوں کے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا افسر شاہانہ مرکز دوبارہ خود کو بنیاد پرمسلط کر دیتا ہے۔ پوڈیموس، لا فرانس انسو میز، سیرزا، اور اب “یور پارٹی” نام بدلتے ہیں مگر بنیادی رجحان ایک ہی رہتا ہے۔
اصل کام اب بھی یہی ہے کہ برطانیہ اور عالمی سطح پر ایک انقلابی پارٹی تعمیر کی جائے جو محنت کش طبقے میں بنیاد رکھتی ہو، اپنی بحثوں میں کھلی ہو اور ایک ایسے پروگرام سے لیس ہو جو جدوجہد کو اقتدار تک لے جا سکے۔ اس کے بغیر ہر نیا نام اور ہر نیا برانڈ انہی حدود کو دہراتا رہے گا جنہوں نے بار بار ایک حقیقی سوشلسٹ متبادل کے ابھرنے کو روک دیا ہے۔

Leave a Reply