ورکرز کیمونسٹ پارٹی(اٹلی)
ٹرمپ کی نرمی کا پوٹن کی سختی سے مقابلہ: عالمی تعلقات میں انوکھی صورتحال
لینن کہتے تھے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ آج دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کی پالیسی میں جو بڑی تبدیلی آئی ہے اس نے لینن کے اس نکتہ نظر کو بالکل درست ثابت کیا ہے۔ دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، نت نئے موڑ آ رہے ہیں اور کئی باتیں سمجھ سے باہر ہیں۔ صدر ٹرمپ کی شخصیت اوران کا غیر متوقع انداز بھی اسی بدلتے ہوئے ماحول کا ایک حصہ ہے لیکن صرف وہی ذمہ دار نہیں ہیں۔ روس اور چین بھی عالمی سیاست میں پوری طرح سرگرم ہیں اور ان کے فیصلوں کا امریکی حکومت پر بھی خاصا اثر ہوتا ہے۔
ٹرمپ کا روس کی طرف جھکاؤ
ٹرمپ انتظامیہ کے آنے کے بعد کے مہینوں میں یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ نئی امریکی حکومت پوٹن اور یوکرین پر اس کے حملے کے بارے میں کافی نرم رویہ رکھتی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ایک “پردے کے پیچھے کی جنگ” ہے وہ حقیقت کو نہیں دیکھ رہےہیں۔
کچھ باتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے 24 فروری کو (یوکرین حملے کی تیسری برسی پر) اقوام متحدہ میں امریکہ، روس اور اسرائیل نے مل کر حملے کی مذمت والی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ میڈیا پر زیلنسکی کو جنگ کا “ذمہ دار” ٹھہرا کر اس کی توہین کی گئی اور اسے ہتھیار ڈالنے کو کہا گیا (“آپ کے پاس اب کچھ نہیں”)۔ کیف پر دباؤ بڑھانے کے لیے کرسک میں فوجی کارروائی کے دوران یوکرینی فوج کی سیٹلائٹ کوریج روک دی گئی۔ یوکرین کو بلیک میل کر کے اس کے معدنی وسائل لوٹنے کا ایک کا معاہدہ مسلط کیا گیا۔ امریکہ نے ایک “امن تجویز” دی جس میں روس کی یوکرین میں فوجی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کی بات تھی اور یوکرین کو تقسیم کرنے کا ایک نقشہ بھی دکھایا گیا تھا (مشرق میں روس کے ساتھ ملحق علاقے، بیچ میں کیف کے ساتھ ایک “فوج کے بغیر” یوکرین اور مغربی یوکرین جسے شاید یورپی طاقتیں بچائیں گی)۔ بائیڈن کی لگائی گئی پابندیوں کے علاوہ روس پر نئی امریکی پابندیاں لگانے سے انکار کیا گیا۔ ولادیمیر پوٹن کو امریکہ اور خاص طور پر صدر ٹرمپ کے ایک “خاص ساتھی”کے طور پر عوامی طور پر تسلیم کیا گیا (“ہمارا رشتہ اچھا ہے”، “وہ اپنے ملک کا دفاع کرنے والا شخص ہے”)۔ بائیڈن کی طرف سے دی گئی امداد ختم ہونے کے بعد یوکرین کو نئی فوجی امداد کم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یوکرین کے دفاع کو “بائیڈن کی جنگ” کہا گیا جسے مکمل طور پر ختم کرنا تھا (“اگر میں ہوتا تو یہ جنگ ہوتی ہی نہیں”)۔ یورپی طاقتوں کو امریکہ اورروس مذاکرات سے دور رکھا گیا (اور عام طور پر کسی بھی مذاکراتی بات چیت سے جیسے مشرق وسطیٰ کے معاملے میں)۔ ماسکو کے انداز اور دلیلوں پر مبنی یورپی یونین مخالف پراپیگنڈا اپنایا گیا (جس میں جرمنی اور رومانیہ کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی حمایت بھی شامل ہے) اور اس کے ساتھ یورپی یونین کے خلاف تجارتی جنگ بھی شروع کی گئی۔
یہ سارے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور بہت تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے روس کے بارے میں امریکی پالیسی میں گہرا ابہام دکھایا ہے۔ لگتا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ اپنے پرانے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو چھوڑ کر بڑی طاقتوں کے درمیان براہ راست تعلقات قائم کررہا ہے تاکہ عالمی طاقت کا توازن دوبارہ طے کیا جا سکے۔ ایران اور مشرق وسطیٰ کے بحران میں روس کی بالواسطہ شمولیت، تہران میں استحکام لانے والی طاقت کے طور پرامریکہ کے اس نئے مذاکراتی طریقے کا حصہ رہی ہے۔
ہم یعنی کمیونسٹ پارٹی آف ورکرز اور بین الاقوامی سوشلسٹ لیگ نے اس تبدیلی اس کی وجہ اور خصوصیات و مشکلات کا بار بار تجزیہ کیا ہے۔ کئی سوالات ابھی بھی باقی ہیں۔ کیا ٹرمپ روس کو چین سے الگ کرنا چاہتے ہیں تاکہ بیجنگ کے ساتھ اپنے اہم مقابلے پر توجہ دے سکیں؟ کیا وہ صرف یوکرین کی جنگ سے نکل کر وہ پیسے امریکی سرمایہ داروں کے لیے ٹیکس کم کرنے اور سماجی اخراجات میں کٹوتیوں پر خرچ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ان کا مقصد ماسکو کے ساتھ آرکٹک کے انتظام، اس کی بے پناہ دولت اور اس کے اہم کردار کے بارے میں کوئی معاہدہ کرنا ہے اور اس کے قیمتی خام مال کے بدلے روس میں نئی کاروباری اور سرمایہ کاری کے لیے مداخلت کرنا ہے؟ یا یہ ان سب باتوں کا مختلف انداز میں مجموعہ ہے؟ ان اور دیگر سوالوں کے جوابات آنے والے واقعات ہی دیں گے ایک ایسے عالمی ماحول میں جو ٹرمپ کے نکتہ نظر میں تبدیلی سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔
پوٹن کے منصوبے نے ٹرمپ کو حیران کر دیا
لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ولادیمیر پوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس کھلے پن کا کوئی خاص جواب نہیں دیا۔
بات کو صاف کرتے ہیں۔ رسمی، سیاسی اور سفارتی طور پر پوٹن نے ٹرمپ کے کھلے پن کا بخوبی خیرمقدم کیا جو شاید ان کی توقع سے کہیں زیادہ تھا۔ انہیں ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر پہچان ملی۔ یوکرین پر ان کی جنگ کو جائز قرار دیا گیااور درحقیقت انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جنگی مجرم کی حیثیت سے چھٹکارا مل گیا۔ انہوں نے نئے امریکی صدر کو عوامی طور پر “امن کا آدمی” کہا اور پچھلی حکومت سے ان کے تعلقات میں فرق کو واضح کیا اور اپنے پراپیگنڈے میں امریکی سامراج (“امن پسند”) اور یورپی سامراج (“جنگ باز”) کے درمیان تضاد کا فائدہ اٹھایا۔ جنگی کارروائیوں کے کمانڈر انچیف کے طور پر ان کا وقار روس میں ان کی عوامی حمایت کے ایک بڑے حصے میں مضبوط ہوا۔ اور اس کے ساتھ یوکرین کے کمزور پڑنے کے ساتھ ہی ان کا فوجی دباؤ بھی بڑھ گیا۔
لیکن یہ سب کچھ پوٹن کے لیے کافی نہیں تھا اور نہ ہے۔ روسی صدر امریکہ کی اس نئی پیشکش سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ اپنے “خصوصی فوجی آپریشن” اور اس کے بنیادی مقاصد کی مکمل فتح چاہتے ہیں۔ کم از کم وہ جنگی مقاصد جو کیف کو فتح کرنے میں ابتدائی ناکامی کے بعد دوبارہ طے کیے گئے۔ چاروں قبضہ شدہ علاقوں پر مکمل کنٹرول، یوکرینی فوج کو مکمل طور پر کمزور کرنا (“فوجی طاقت کا خاتمہ”)، زیلنسکی کا سیاسی خاتمہ (جسے “نازفیکیشن کا خاتمہ” کہا جاتا ہے)۔ یہ سب یوکرین پر مکمل قبضے کے ساتھ ہوگا، پرانی زار شاہی روایات پر چلتے ہوئے یورپ میں ایک نیا روسی شاہی علاقہ قائم ہوگا۔ “عظیم روسی قوم پرستی”(دُگِن) اسی کا کھلے عام خیرمقدم اور دعویٰ کرتی ہے، جس میں آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک کیرل (سابقہ کے جی بی ایجنٹ) اور مغرب کی “شیطانیت” کے خلاف ان کی مہم کی حمایت شامل ہے۔
پوٹن کا یہ ہدف نہ تو آسانی سے حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے یقینی سمجھا جا سکتا ہے۔ میدان جنگ میں روس کی فوجی پیش قدمی جو اب واضح ہے بہت سست ہے۔ تین سال کی جنگ کے باوجود، فوجوں کے بڑے عدم توازن کے باوجود یوکرین کا جو علاقہ فوجی طور پر فتح کیا گیا ہے اور جسے کنٹرول میں سمجھا جاتا ہےوہ ملک کے 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ لوگ جو تین سال سے ہر روز یوکرین کی شکست اور روس کی فتح کا جشن منا رہے ہیں (خاص طور پر اطالوی صحافی مارکو تراوگلیو اور اطالوی ‘کیمپسٹ’ دانشوروں کے دیگر ارکان) کو حقیقت اور منطق دونوں سے مسئلہ ہے۔ روس کی جنگی معیشت سے متعلق مشکلات (مہنگائی، بلند شرح سود، مزدوروں کی کمی، معاشی سست روی کا خطرہ) بھی مجموعی طور پر بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور اس کے ساتھ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی بڑھ گئی ہے۔
اس کے باوجود پوٹن اپنے کھیل کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ جنگی محاذ پر وہ یوکرین کے دفاع کی نسبتاً کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ملک کے اندر وہ “عظیم محب وطن جنگ” کی یاد کے گرد قوم پرستانہ جذبات جو بنیادی طور پر جرمن مخالف ہیں ان کو ابھار رہے ہیں کھلے عام سٹالن کو “عظیم روسی قوم پرستی”میں شامل کر رہے ہیں۔ مجسموں اور یادگاروں کی بحالی کو فروغ دے رہے ہیں۔ وہ اندرونی جبر کو تیز کر رہے ہیں (آج جنگ کے پہلے مرحلے کے مقابلے میں یہ بہت زیادہ سخت ہے)۔ وہ سماجی بے چینی کو غیر ملکیوں سے نفرت کی طرف موڑ رہے ہیں۔ فاشسٹ تنظیم “روسی کمیونٹی”کی حمایت سے تارکین وطن کے خلاف قتل عام کی پالیسی کو چھپا رہے ہیں۔ وہ جیلوں اور فیڈریشن کے ہمسایہ علاقوں سے فوجیوں کو بھرتی کر رہے ہیں تاکہ اپنی سفید روسی آبادی کو زیادہ سے زیادہ بچایا جا سکےجو ان کی حمایت کا بنیادی مرکز ہے اور انہیں اچھی تنخواہیں دے رہے ہیں۔ وہ شمالی کوریا کے فوجیوں اور ہتھیاروں سے بڑے پیمانے پر مدد لے رہے ہیں (جو کورسک پر دوبارہ قبضے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے)۔ سب سے بڑھ کر وہ اپنے چینی اتحادی کی بڑی مادی طاقت (تیل کی خریداری، ٹیکنالوجی کی فراہمی) اور بین الاقوامی تعلقات کے ایک وسیع جال (جیسے متحدہ عرب امارات) پر بھروسہ کر رہے ہیں جو انہیں مغربی پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ اسد کے شام میں زوال اور اس کے ایرانی اتحادی کی کمزوری کے باوجود یہ حکومت کی مضبوطی ہے (ماسکو نے ایران کی مدد کرنے سے گریز کیا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہ پہنچے)۔
اس عمومی صورتحال میں پوٹن نے امریکی انتظامیہ کی سمت میں تبدیلی اور امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان نئے تضادات کو جنگ کو “امن”کے حل کے ساتھ ختم کرنے کے موقع کے طور پر نہیں دیکھا (جو روسی سامراج کے لیے بنیادی طور پر فاتحانہ ہوتا جیسا کہ ٹرمپ نے پیش کیا تھا) بلکہ انہوں نے اسے اپنی فوجی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے اور جنگی غنیمت حاصل کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا۔ یہ نیٹو کے سامراجی کیمپ کے اندرونی اختلافات کا بے شرمی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ ماسکو اور کیف کے درمیان مذاکرات کے دو دور، قیدیوں کے تبادلے کے علاوہ کو پوٹن نے ایک سفارتی دکھاوے کے پیچھے جنگ کے لیے وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ حیران رہ گئے، وہ پوٹن سے “مایوس” ہیں، انہیں شک ہے کہ کریملن کے رہنما نے انہیں “استعمال”کیا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی صدر نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے انہوں نے یورپی سامراجی طاقتوں سے دوبارہ رابطہ کیا یوکرین کے لیے کچھ فوجی امداد کو دوبارہ فعال کیا اور پوٹن کو ایک “الٹی میٹم” دیا کہ پچاس دن میں “امن قائم ” کیا جائے نہیں تو نئی اور سخت پابندیوں کے لیے تیار رہیں۔
ایک نئے منظرنامے کی غیر یقینی صورتحال
کیا ہم امریکہ کی اپنی پرانی اتحادیوں کی طرف واپسی دیکھ رہے ہیں یعنی “اٹلانٹک ازم” کی بحالی؟ نہیں ابھی ایسا نہیں ہے۔
ٹرمپ کی پوزیشن میں تبدیلی اگرچہ اہم ہے لیکن یہ صرف ایک چال ہے۔ ٹرمپ کہتے ہیں “میں ابھی پوٹن کے ساتھمعاملات طے کرنا چاہتا ہوں” اور یہ سچ ہے۔ یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی فی الحال آہستہ آہستہ، سست طریقہ سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے اور اس کا خرچ یورپی طاقتیں اٹھا رہی ہیں (جو امریکی ہتھیاروں کی صنعت کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے)۔ “پچاس دن” بالکل وہی مدت ہے جو پوٹن نے 4 جولائی کو ٹرمپ کو منسلک علاقوں کی مکمل فوجی فتح کے لیے بتائی تھی۔ یہ حقیقت میں”الٹی میٹم” نہیں ہے۔
ان پچاس دنوں کے نتائج کا اندازہ لگانے کا طریقہ کار فی الحال بہت مبہم ہے (کیا یہ ایک “امن” معاہدہ ہوگا یا مذاکرات کا آغاز؟)۔ کسی بھی دھمکی آمیز پابندیوں کا خاکہ بھی غیر واضح ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر ہے جو کہ واضح طور پر معمولی ہے۔ ان ممالک کے خلاف بالواسطہ پابندیاں (“100فیصد”) جو درحقیقت روس کی حمایت کرتے ہیں، جیسے کہ چین اور بھارت، عالمی معیشت پر بڑے پیمانے پر منفی اثرات مرتب کریں گی۔ وہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک طور پر قیمتی تعلقات کو خطرے میں ڈالیں گی اور اس لیے یہ نہیں لگتا کہ امریکہ پر عمل دراآمد کرئے گا لہذا امریکی حکمت عملی کا مقصد فی الحال تعلقات توڑنے کے بجائے روس پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ماسکو اسٹاک ایکسچینج نے امریکی “دھمکیوں” کا جواب شیئر کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دیا گویا وہ ایک بال بال بچت کا جشن منا رہا ہے۔ کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے ٹرمپ نے جلدی سے سب کو یقین دلایا “میں نہ روس کے ساتھ ہوں اور نہ یوکرین”کے ساتھ، میں انسانیت کے ساتھ ہوں۔
تاہم یہ سچ ہے کہ ٹرمپ پوٹن سے نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر امریکی سامراج کی عزت اور اندرونی محاذ پر ٹرمپ کی شبیہہ داؤ پر ہےاور ایسا کیوں نہ ہو؟ فنانشل ٹائمز کے صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا “اگر پچاس دن کے بعد صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟” ٹرمپ نے جواب دیا: “براہ کرم مجھ سے یہ سوال نہ پوچھیں۔” حقیقت یہ ہے کہ نئی امریکی سامراجی انتظامیہ ایک اچھے تجربے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
عالمی بے چینی کی اصل حقیقت
دو بنیادی باتیں آج بھی اہم ہیں:
امریکی سامراج کی کمزوری
امریکہ اب اپنے پرانے اثر و رسوخ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر امریکہ بحرالکاہل میں چین کے ساتھ اپنے اہم مقابلے پر توجہ دینا چاہتا ہے تو اسے دیگر علاقوں میں اپنی موجودگی کم کرنی ہوگی۔ مشرق وسطیٰ میں جہاں ٹرمپ ابراہیمی معاہدوں کو سعودی عرب اور یہاں تک کہ نئے شام تک بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کو تحفظ ملے (لیکن نتن یاہو کی خود غرضانہ پالیسی کے ساتھ اس کے کچھ تضادات بھی ہیں جو خود ایردوان کے ‘نو عثمانی’ منصوبے سے متصادم ہیں) اور یورپ میں بھی جہاں وہ امریکہ کو یوکرین کی جنگ سے باہر نکالنے اور براعظم پر امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس وقت 67,000 ہیں جنہیں ٹرمپ آدھا کر کے 30,000 کو انڈو-پیسفک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
پوٹن کے ساتھ ایک معاہدہ دونوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا پوٹن چاہتے ہیں۔
یورپی طاقتوں کا دوبارہ مسلح ہونا، یورپی سامراجی طاقتیں امریکی عدم شمولیت کے خطرے کے جواب میں بڑے پیمانے پر خود کو دوبارہ مسلح کر رہی ہیں۔
نیٹو اپنی جگہ پر موجود یورپ کی جانب سے اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے، نئے ہتھیار خریدنے، فوجیوں کی تربیت کرنے اور دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کے جتنے بھی اقدامات ہو رہے ہیں وہ سب کے سب نیٹو کے اندر ہی ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے اندر کے تعلقات میں گہری تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ٹرمپ نے تو نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی آزادانہ تشریح کا دروازہ بھی کھول دیا ہے جو پوٹن کے لیے ایک اہم پیغام ہے جس کا انہیں جواب دینا ہے۔ اسی دوران فرانس اور جرمنی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ فوجی امداد کے معاہدے کر رہے ہیں جو یورپی دائرے میں واپس آ گیا ہے اور ڈنمارک اپنا فوجی خرچ دوگنا کر رہا ہے یہ جزوی طور پر گرین لینڈ کی حفاظت کے لیے ہے۔
دنیا کے ہر کونے میں عالمی تعلقات میں بے چینی ہے۔ ہر جگہ پرانی اور نئی سامراجی طاقتیں مذاکرات میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اپنی طاقت کو استعمال کرتی ہیں۔ ہر جگہ، محنت کش اور مظلوم عوام صرف سودے بازی کے مہرے یا جنگ کا ایندھن ہیں۔ دنیا کو نئی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے صرف اسوشلسٹ انقلاب ہی ایک راستہ ہے۔
