افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ۔ سامراجی پالیسیوں کا تسلسل اور انقلابی متبادل

Posted by:

|

On:

|

, ,

تحریر:شہزاد ارشد

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی میں دوحا مذاکرات کے اختتام تک توسیع کر دی گئی ہے مگر اس عارضی وقفے کے باوجود خطے کی صورتحال بدستور دھماکہ خیز ہے۔ دیورند لائن پر پانچ دن تک جاری رہنے والی جھڑپیں، کابل پر پاکستانی فضائی حملے اور دونوں جانب کے دعوے  یہ سب اس بات کا اظہار ہیں کہ دو دہائیوں سے “دہشت مخالف جنگ” کے نام پر لڑی جانے والی پالیسی اب مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس کے 23 اہلکار مارے گئے جبکہ اس نے 200 سے زائد افغان فوجیوں کو ہلاک کیا۔ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ 58 پاکستانی فوجی مارے گئے اور ان کے 9 جنگجو ہلاک ہوئے۔ اعداد و شمار سے زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب کے عام عوام اور محنت کش طبقے ان جھڑپوں کا اصل نشانہ بن رہے ہیں۔

گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کی جانب سے افغانستان پر متعدد حملے کیے گئے  دسمبر 2024 میں پکتیکا کے برمال علاقے میں 46 افراد اور اگست 2025 میں خوست و ننگرہار میں کئی عام شہری مارے گئے۔ پاکستان نے ان حملوں کو طالبان کے ٹھکانوں پر کارروائی قرار دیا۔

دہشت مخالف جنگ اور قبائلی عوام کی بربادی

یہ تنازعہ محض سرحدی نہیں بلکہ ریاستی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بغاوت ریاست کی افغان پالیسی کا نتیجہ ہے جس میں سوویت یونین کے خلاف امریکہ حکم پر مجاہدین کی حمایت اور بعدازں تحریک طالبان افغآنستان کی کابل پر قبضے کی حمایت نیز دہشت مخالف جنگ میں امریکہ کی حمایت اور دوغلی پالیسی کا نتیجہ ہے جس کی قیمت عام پشتون محنت کش عوام اور افغان عوام ادا کررہے ہیں۔ پشتون خطے میں فوجی آپریشنز، گھروں سے بیدخلی، اور مقامی خودمختاری کے مطالبات کو کچلنے کی وجہ سے طالبان کے اثر میں اضافہ ہواہے۔

ریاست کی “انسدادِ دہشت گردی” پالیسی دراصل قبائلی علاقوں پر عسکری کنٹرول بڑھانے کی کوشش ہے جہاں پی ٹی ایم اور اولسی تحریک جنگ کے خاتمے، فوجی انخلا اور وسائل پر مقامی حقِ ملکیت کے مطالبات کر رہے تھے۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں لاکھوں پشتون بے گھر ہوئے، ہزاروں مارے گئے اور ہر “امن آپریشن” کے بعد طالبان کے خاتمے کی بجائے ان کی قوت میں اضافہ ہوا۔اس وقت بھی طالبان کے نام پر روازنہ کی بنیاد پرقبائلی علاقے کے پشتون عوام پر حملے ہورہے ہیں۔

معدنیات، سرمایہ اور جنگ

خیبر پختونخوا اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں موجود اربوں ڈالر کے معدنی ذخائر  خاص طور پر لیتھیم اور دیگر نایاب معدنیات  عالمی سرمایہ داری کی نظر میں بے حد اہم ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ریاستی پالیسیاں بن رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 اور قبائلی اضلاع کو دوبارہ الگ کرنے کی تجاویز دراصل کارپوریٹ مفادات کے لیے زمین ہموار کرنے کے منصوبے ہیں۔

ریاست “ترقی” کے نام پر کمیونٹی ملکیت کو ختم کرکے عالمی سرمایہ کے لیے دروازے کھول رہی ہے۔ پشتون عوام کے وسائل کو “قومی مفاد” کے لبادے میں عالمی منڈی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔  ٹی ٹی پی اور سرحدی جھڑپوں کا شور دراصل اسی لوٹ مار پر عوامی مزاحمت کو دبانے کا حربہ ہے۔

تزویراتی گہرائی کا دیوالیہ پن

پاکستان کی موجودہ عسکری پالیسی اس پرانے خواب کا تسلسل ہے جو اسٹیبلشمنٹ نے 1980ء کی دہائی میں “تزویراتی گہرائی” کے نام پر دیکھا تھا۔

امریکہ اورسوویت جنگ کے دوران اسلام آباد نے افغانستان کو اپنی “نیم نوآبادی” بنانے کا تصور تشکیل دیا تاکہ ایک تابع حکومت کے ذریعے بھارت کے خلاف دفاعی گہرائی حاصل کی جا سکے۔ یہی وہ پالیسی تھی جس نے مجاہدین کو استعمال کیا، طالبان کو منظم کیا اور بعد ازاں “اچھے” اور “برے” طالبان کی تفریق کو نظریاتی جواز فراہم کیا۔

دوحا مذاکرات میں پاکستان کے کردار نے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی  مگر آج یہی پالیسی ریاست کے گلے کا پھندا بن چکی ہے

ٹی ٹی پی کی بغاوت، سرحدی جنگیں، علاقائی تنہائی اور اندرونی سیاسی بحران سب اسی “تزویراتی گہرائی” کے زوال کی علامت ہیں۔

افغانستان میں دفاعی گہرائی حاصل کرنے کا پاکستانی منصوبہ جو دراصل سامراجی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش تھی مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔

پاکستان حکومت کا افغان حکومت سے تحریک طالبان پاکستان کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ ایک ریاستی غلطی ہے۔ ریاست کو یقین تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان کو سمجھا لیں گئیں۔ یہ اگر کابل میں اقتدار میں آگئےلیکن افغان طالبان جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی کی تو ٹی ٹی پی داعش کی طرف جاسکتی ہے اور خود افغان طالبان میں ٹوٹ پھوٹ  ہوسکتی ہے۔کیونکہ طالبان ایک ٹھوس اور یکجا قوت نہیں ہے۔

خاص کر علاقائی کمانڈروں کی ٹی ٹی پی کے ساتھ دہائیوں پرانی جنگی رفاقت ہے۔ افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے بہت سے جنگجوؤں کے اب افغان طالبان کے ساتھ خاندانی مراسم بھی ہیں۔

افغان مہاجرین کا طبقاتی استحصال

پاکستانی حکومت سیکیورٹی خدشات کو افغانوں کی بیدخلی کے لیے جواز کے طور پر پیش کررہی ہے حالانکہ اس کی وجوہات سیاسی ہیں۔اب تک اس پالیسی کے نتیجے میں لاکھوں افغانوں کو بیدخل کیا جاچکا ہے۔ افغان مہاجرین جن میں ایک بڑی تعداد دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ یہ محنت کش افغان پاکستان کی تعمیر، صنعت اور زراعت میں سستی لیبر کے طور پر استعمال ہوتے رہے آج ریاست کے انتقامی اقدامات کا نشانہ بن رہے ہیں اوران کی تیسری یا چوتھی نسل کے لیے افغانستان ایک اجنبی ملک ہے۔پاکستان میں ان کا روزگار،گھر اور تعلقات ہیں جو دہائیوں کی کڑی محنت سے بنے ہیں اور اب ان کو اس طرح بیدخل کرکے طالبان کی حکومت میں افغانستان بھیجنے کا مطلب ہے ان کی زندگیوں اور رہن سہن کو برباد کرنا جو یہاں مقامی آبادی سے مل کر پروان چڑھا ہے۔ خاص طور پر عورتوں،لڑکیوں،نسلی و جنسی اقلیتوں اورہزارہ،صحافی نیزسابق حکومت یا بین الاقوامی تنظیموں سے جڑے ہوئے افراد کی زندگیاں اور ان کا مستقبل افغانستان میں شدید خطرے میں ہے۔۔ان پاکستانی سرمایہ دار طبقہ ان مہاجرین کی محنت سے فائدہ اٹھاتا رہا اور اب انہیں “سیکیورٹی خطرہ” بنا کر اپنے جرائم سے توجہ ہٹا رہا ہے۔کی گرفتاریاں، جبری ملک بدری اور املاک کی ضبطگی نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ طبقاتی جبر کی انتہائی شکل ہے۔

سامراجی تعلقات اور موجودہ صورتحال

مئی میں بھارت کے ساتھ فوجی جھڑپوں اور اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری نے پاکستان کے حکمران طبقے کو نئی امید دی ہے۔

امریکی صدر کی طرف سے افغانستان پر بگرام ایئر بیس امریکہ کے حوالے کرنے کا دباؤ اور حملے کی دھمکی  یہ سب عالمی طاقتوں کے مفادات کے تصادم کو ظاہر کرتے ہیں۔

پاکستان کی ریاست بھی اسی سامراجی کشمکش کا حصہ ہے ۔ کبھی چین، کبھی امریکہ  مگر ہر حال میں مقصد ایک ہی رہتا ہے سرمایہ دارانہ منافع کا تحفظ اور اس کا نتیجہ محنت کشوں اور مظلوم اقوام پر جبرہے۔

انقلابی سوشلسٹ موقف

انقلابی سوشلسٹ پاکستان کی افغانستان پر جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔پاکستانی محنت کش طبقے کو اس جنگ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے حکمران طبقے کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور طبقاتی جدوجہد کے ذریعے اس نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا جو جنگ،دہشت گردی اور تباہی پیدا کررہا ہے۔

یہ جنگ دراصل سرمایہ دارانہ استحصال اور سامراجی مفادات کی جنگ ہے جس کا مقصد خطے کے وسائل پر قبضہ اور عوامی مزاحمت کو کچلنا ہے۔

ہم افغان طالبان کی رجعتی، عورت دشمن اور سرمایہ دارانہ حکومت کے مخالف ہیں لیکن ان کے خاتمے کے لیے کسی سامراجی یا  پاکستانی ریاستی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

افغان عوام کی آزادی اور ترقی صرف انقلابی عوامی تحریکوں، مزدور تنظیموں اور عوامی کمیٹیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

افغانستان اور خیبرپختونخوا میں محنت کش طبقہ کی مشترکہ جدوجہد ہی نہ صرف طالبان اور پاکستانی ریاستی جبر کو شکست دے سکتا ہے بلکہ خطے میں سامراجی بالادستی کا خاتمہ بھی ممکن بنا سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے کے محنت کش عوام  طبقاتی بنیادوں پرایک مشترکہ انقلابی جدوجہد کریں جو سامراج، طالبان اور ریاستی جبر، تینوں کو چیلنج کر سکے۔