تحریر:شہزاد ارشد
پاکستان کو ایک گہرے، ہمہ گیراورنامیاتی بحران کا سامنا ہے۔ یہ بحران محض معاشی جمود، سیاسی عدم استحکام یا آئینی ترامیم تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاست، معیشت، سماج اور حکمران طبقے کی تاریخی ساکھ ایک ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ حکمران طبقہ اب پرانے طریقوں سے حکمرانی کے قابل نہیں رہاہے۔یہ وہ کیفیت ہے جہاں پورا سماجی ڈھانچہ اپنی بنیادوں سمیت لڑکھڑا رہا ہے۔یہ بحران اس حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے کہ جن بنیادوں پر پاکستانی ریاست کھڑی تھی وہ کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ سامراجی سرپرستی میں ریاستی جبرو تشدد پر مبنی یہ ہائیبرڈ نظام شدید دباو میں ہے۔
ریاست کی تاریخی ساخت اور بحران کی جڑیں
پاکستانی ریاست اپنی تشکیل ہی سے ایک نیم نوآبادی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں پاکستان کی پوزیشن، سامراجی طاقتوں پر انحصار اور حکمران طبقے کی بدعنوانی نے یہاں کبھی جمہوری تسلسل کو پنپنے نہیں دیا ہے۔ فوجی آمریتیں، صدارتی نظام، ہائبرڈ بندوبست اورآئینی انجینئرنگ اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں۔
آج اگرچہ مارشل لاء نہیں ہے لیکن تحریک انصاف کی انتخابی شکست کو منظم طریقے سے “منیج” کر کے ایک ایسی حکومت مسلط کی گئی ہے جس کی عوام میں کوئی حقیقی حمایت نہیں ہے۔ یہ بوناپارٹسٹ طرزِ حکمرانی ہے جس میں آئین، پارلیمنٹ اور عدلیہ محض نمائشی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ اصل طاقت غیر منتخب ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہے۔
۔26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کسی حادثے یا وقتی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس نظام اور حکومت کو قائم رکھنے کی ضرورت سے جڑے ہوئے ہیں جو اپنی معاشی ناکامیوں اور عوام دشمن پالیسیوں کے باعث شدید غیر مقبول ہو چکی ہے۔ اسی لیے ایک طرف بورژوا اپوزیشن تحریک انصاف کو پابندیوں، گرفتاریوں اور سیاسی جبر کا سامنا ہے اور عمران خان جیل میں ہیں تو دوسری طرف ہر قسم کی عوامی مزاحمت کو بھی کچلا جا رہا ہے۔بلوچستان میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت مہینوں سے جیلوں میں ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور علی وزیر ایک طویل عرصے سے جیل میں ہے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر میں ابھرتی ہوئی عوامی تحریکوں کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کسی ایک جماعت یا تحریک سے نہیں بلکہ خود عوامی سیاست سے خوفزدہ ہے۔
طبقاتی جدوجہد اور جمہوریت کا سوال
پاکستان میں جمہوری آزادیوں کی جدوجہد آج طبقاتی جدوجہد کا ایک اہم سوال ہے۔ اسے یہ کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ صرف حکمران طبقے کی باہمی لڑائی ہے اور محنت کش طبقے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دلیل نہ صرف سطحی ہے بلکہ عملی طور پر ریاستی جبر کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ 1973ء کے آئین، نام نہاد آزاد عدلیہ میں بھی محنت کشوں، کسانوں، عورتوں اور مظلوم اقوام کو حقیقی جمہوری حقوق میسر نہیں تھے۔ یہی ادارے دہائیوں سے نجکاری، نیولبرل پالیسیوں اور سامراجی معاہدوں کا دفاع کرتے رہے ہیں اور عمران خان کے دور حکومت میں بھی یہی سب کچھ ہورہا تھا اسی لیے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتیں جمہوری آزادیوں کی لڑائی نہیں لڑسکتی ہیں کیونکہ ان کا طبقاتی مفاد سرمایہ کے پھیلاو کے ساتھ جڑا ہے جس کے خلاف مزاحمت کو فوج ہی کچل سکتی ہے ان میں سے اکثریت کی دلچسپی جمہوریت سے زیادہ طاقت میں حصہ داری میں ہے۔
انقلابی سوشلسٹوں کے نزدیک جمہوری آزادیوں کی جدوجہد کا مطلب حکمران طبقے کی جماعتوں پر اعتماد یا ان کے ساتھ اتحاد نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوری حقوق کی لڑائی کو محنت کش طبقے، مظلوم قومیتوں، عورتوں، طلباء اور نوجوانوں کی اجتماعی جدوجہد کے ساتھ جوڑا جائے۔ یہ ہی محنت کشوں کی قیادت میں اکھٹے ہو کرہی اس ملک میں جمہوری آزادیوں کی لڑائی لڑسکتے ہیں کیونکہ ان کا مفاد اس نظام کے خلاف ہے جو جمہوری آزادیوں پر حملہ آور ہے۔
معاشی بحران، سامراجی گماشتگی اور ریاستی جبر
حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے احکامات پر گزشتہ کئی برسوں سے نافذ کی جانے والی پالیسیوں کے باوجود بحران کم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہو رہا ہے۔ خود حکمران طبقے کے نمائندے اعتراف کر رہے ہیں کہ آئندہ کئی برسوں تک کسی معاشی بہتری کے امکانات نہیں ہیں۔ نجکاری، سبسڈیوں کا خاتمہ، اجرتوں کا جمود، بیروزگاری اور مہنگائی یہ سب آئی ایم ایف کے پروگرام کا حصہ ہیں۔ اس معاشی یلغار کو نافذ کرنے کے لیے ریاست کو لازماً سیاسی جبر میں اضافہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ عوام کی مزاحمت کو کچلے بغیر یہ پالیسیاں لاگو نہیں ہو سکتی ہیں۔
ٹرمپ سے قربت،چین کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور پیس بورڈ جیسے فورمز میں شمولیت یہ سب حکمران طبقے کی اس کوششوں کا حصہ ہیں کہ وہ سامراجی سرپرستی کے ذریعے اپنے اقتدار کو بچا سکیں۔ لیکن اس کا لازمی نتیجہ ایک ایسا سخت گیر نظام ہے جس میں اختلاف، احتجاج اور تنظیم سازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاریاں، میڈیا پر قدغنیں، آئینی ترامیم اور عدالتی ڈھانچے میں تبدیلیاں اسی منصوبے کی کڑیاں ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد ریاست کو عالمی سرمایہ داری کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ نجکاری، زمینوں اور معدنیات کی فروخت، بندرگاہوں اور توانائی کے منصوبوں کو کسی عوامی یا عدالتی چیلنج کے بغیر آگے بڑھایا جا سکے۔یہ سب اقدامات سرمایہ دار طبقے کے منافع کو تو بڑھا سکتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ محنت کشوں، درمیانے طبقے اور مظلوم اقوام کے لیے مزید بدحالی، عدم استحکام اور ریاستی تشدد کی صورت میں ہی نکلے گا۔
طبقاتی یکجہتی اور سوشلسٹ متبادل
پاکستان کا بحران کسی “تحفظِ آئین تحریک” یا حکمران طبقے کے نئے اتحاد سے حل نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ یہ آئین اور یہ ریاست خود اس بحران کا حصہ ہیں۔ جمہوریت کا سوال حکمران طبقے کے ساتھ کھڑے ہونے کا نہیں ہے بلکہ اس نظام کے خلاف انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا سوال ہے۔ اگرچہ یہ سیاسی طور پر غلط ہوگا کہ انقلابی سوشلسٹ بورژوا آئینی تحریکوں میں خود کو مدغم کرلیں لیکن انہیں انہیں حقیقی جدوجہد سے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے جو عوام کو متحرک کرتی ہے۔
اگر آمرانہ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ابھرتی ہے چاہے وہ بورژوا قیادت کے تحت ہی کیوں نہ ہو تو سوشلسٹوں کو فعال طور پراس میں حصہ لینا چاہیے اور اپنے آزاد جمہوری و طبقاتی مطالبات کو سامنے لانا چاہیے۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ ایک آزاد اور خودمختار دستور ساز اسمبلی کا ہے جو ریاستی اداروں کی مداخلت کے بغیر منتخب ہو۔
انقلابی سوشلسٹ یہ سمجھتے ہیں کہ محنت کش طبقہ، جبری گمشدگیوں کے خلاف تحریک، پی ٹی ایم، بلوچ جدوجہد، گلگت بلتستان اور کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹیوں سب کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جوڑنا ہوگا۔یہی قوت ایک حقیقی جمہوری تحریک کو جنم دے سکتی ہے جو نہ صرف جمہوری آزادیوں بلکہ آئین ساز اسمبلی کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں۔ ایسی اسمبلی جس میں محنت کش طبقے کے نمائندے ہوں جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد منظم کرتے ہوئے اس نظام کا خاتمہ کردیں۔

Leave a Reply