ماحولیاتی تبدیلی صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ تباہی ہے
تحریر:اظہر علی
پاکستان کے شمالی علاقے بشمول خیبر پختوانخواہ، کشمیر اور گلگت بلتستان اس وقت شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ جس میں پورے کے پورے گاؤں تباہ ہو گئے اور سینکڑوں گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔بے پناہ انسانی اور معاشی نقصان ہوا ہے۔ بونیر کے ایک گاؤں میں 400سے زیادہ افراد کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ خیبر پختوانخواہ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس وقت ہزاروں افراد زخمی ہیں اور بڑی تعداد مال مویشی اور گاڑیاں سیلاب میں بہہ گی ہیں۔
اس صورتحال کی بظاہر وجہ بارش اور سیلاب ہے لیکن اس کی بنیاد میں ایک گہرا سماجی اور اقتصادی نظام کارفرما ہے جو مسلسل ماحول کو تباہ کر رہا ہے۔
یہ تمام تباہیاں محض موسمیاتی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے پیداواری عمل کا نتیجہ ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام ماحولیاتی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد منافع ہےجو وسائل کے بے تحاشا استعمال، پیداواری عمل میں اضافہ اور مسلسل کھپت کو فروغ دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ پیداوار میں فوسل فیولز (کوئلہ، تیل، گیس) پر مبنی توانائی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ کمپنیاں جو کہ بہت زیادہ منافع کماتی ہیں ان فوسل فیولز کے استعمال کو روکنے یا کم کرنے میں مزاحمت کرتی ہیں تاکہ ان کے منافع میں کمی نہ آئے۔ ان کا جلنا فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتا ہے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث ہے۔اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسی نیم نوآبادیوں کو ہے جن کا ماحولیاتی تباہی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستانی ریاست اس صورتحال میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اس کی پالیسیاں ہمیشہ عام شہریوں اور ماحولیات کی بجائے بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام قدرتی وسائل کو صرف خام مال کے طور پر دیکھتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، معدنیات کا بے تحاشا نکالنا اور پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قدرتی ماحول کی تباہی، مٹی کا کٹاؤ اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچتا ہے۔
ترقی یافتہ سامراجی ممالک نے صنعتی انقلاب کے بعد سے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ممالک آج بھی اپنی “ترقی” کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کے وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دنیا کا 80فیصد سے زیادہ ماحولیاتی نقصان امیر ممالک کی پیداوار کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ اس کے شدید اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ ماحولیاتی ناانصافی کی ایک واضح مثال ہے۔
پاکستان میں ریاست عام شہریوں اور ماحول کی بجائے بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ یہ پالیسیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت کی ترجیح سرمایہ کاروں کو منافع کمانے کے مواقع فراہم کرنا ہے چاہے اس کے لیے ماحول کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے۔ کراچی کے برساتی نالوں پر غیر قانونی تجاوزات اور ان کو بند کرنے کی اجازت اور شمالی علاقوں میں تعمیراتی قوانین کی نظر اندازی اسی سرمایہ دارانہ مفاد کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کشمیر اور گلگت بلتستان کے خوبصورت علاقے اس وقت شدید خطرے میں ہیں۔ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ پگھلنے والا پانی ندیوں اور جھیلوں میں شدید بہاؤ پیدا کرتا ہے جس سے سیلاب اور جھیلوں کے پھٹنے واقعات ہورہے ہیں۔ جو دیہاتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں۔
سیاحت اور ترقی کے نام پر ان علاقوں میں بڑے ہوٹل، سڑکیں اور دیگر تعمیرات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ تعمیرات نہ صرف قدرتی لینڈ سکیپ کو برباد کر رہی ہیں بلکہ درختوں کی کٹائی میں بھی اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ منافع کی دوڑ میں یہ تعمیرات قدرتی نالوں اور پہاڑوں پر بنائی جاتی ہیں۔ جو کسی بھی شدید بارش یا سیلاب کی صورت میں تباہی کا باعث بنتی ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی اس ماحولیاتی بحران سے محفوظ نہیں ہے۔ ہر سال مون سون کی بارشیں اس شہر کے لیے ایک امتحان بن جاتی ہیں جس سے شدید اربن فلڈنگ پیدا ہوتی ہے۔ اس سال ہونے والی بارش نے ایک خوفناک صورتحال اختیار کرلی جس میں پورا شہر ڈوب گیا اور 11 افراد کی اموات ہوئیں۔
شہر کے برساتی نالوں پر غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات نے پانی کے قدرتی بہاؤ کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ یہ تجاوزات بااثر سرمایہ داروں کی طرف سے کی جاتی ہیں جن کے مفاد کے لیے پورے شہر کو پانی میں ڈبو دیا گیا ہے۔ کراچی کا نکاسی آب کا نظام بھی پرانا، بوسیدہ اور ناکافی ہے۔ یہ نظام بڑھتی ہوئی آبادی اور شہر کے بے ہنگم پھیلاؤ کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔شہر میں کوڑے کرکٹ اور پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کچرا نالوں کو بند کر دیتا ہے، جس سے پانی شہر کی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ غیر منظم صارفیت پسند کلچر کا نتیجہ ہے۔
موسمیاتی بحران کو صرف ماحولیاتی مسئلہ کہنا اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتاہے۔ یہ ایک طبقاتی مسئلہ ہے جہاں اس بحران کی اصل ذمہ داری سرمایہ دار طبقے اور ان کے منافع کی ہوس پر عائد ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان محنت کش طبقے اور غریب عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی طبقہ سیلاب سے بے گھر ہوتا ہے، فضائی آلودگی سے بیمار ہوتا ہے اور خشک سالی کی وجہ سے بھوک و پیاس کا شکار ہوتا ہے۔
لہٰذا ماحولیاتی بحران کے خلاف جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک طبقاتی جدوجہد کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ یہ جدوجہد محض درخت لگانے یا کچرا اٹھانے کی مہم نہیں بلکہ پیداوار کے اس پورے نظام کو بدلنے کی جدوجہد ہے جہاں منافع کی بجائے انسانی اور قدرتی ضروریات کو فوقیت حاصل ہو۔ اس کے لیے ایک عالمی جدوجہد کی ضرورت ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کرتے ہوئے ایک عالمی انقلاب کے لیے جدوجہد کرئے۔
