پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ نامنظور

Posted by:

|

On:

|

, ,

انقلابی سوشلسٹ موومنٹ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جنگ نے ایک بار پھر پورے خطے کو عدم استحکام کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا فوجی آپریشن ”غضب للحق“یہ واضح کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں کے بعد افغانستان کے مختلف علاقوں خصوصاً ننگرہار، پکتیکا، خوست اور قندھار میں شدید لڑائی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ محض سرحدی تنازعہ یا دہشت گردی کے خلاف محدود کارروائی نہیں بلکہ خطے میں سرمایہ دارانہ ریاستوں کے بحران، سامراجی مفادات اور دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
جنگ کے انسانی نتائج: ہلاکتیں اور بے گھر ہونے والے لوگ
جنگ کے بارے میں دونوں ریاستوں کے دعوے مختلف ہیں لیکن مجموعی طور پر اس تصادم نے بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلائی ہے۔پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائیوں میں 641 افغان طالبان جنگجو ہلاک اور 855 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔افغان ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں درجنوں پاکستانی فوجی مارے گئے۔اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق افغانستان میں کم از کم 67 سے 128 شہری ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 115,000 افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ سرحدی علاقوں میں گولہ باری نے رہائشی علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے اور بہت سے لوگ رمضان کے دوران اپنے گھروں چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال افغانستان جیسے پہلے سے تباہ حال ملک کے لیے ایک نیا انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔
افغانستان کی بربادی اور جنگ کے اثرات
افغانستان گزشتہ چالیس سال سے مسلسل جنگوں کا شکار ہے۔ ثور انقلاب،سوویت مداخلت، خانہ جنگی، امریکی قبضہ اور پھر طالبان کی واپسی نے ملک کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو برباد کردیا ہے۔اس عرصے میں تقریبا 30لاکھ افغان مارئے گے جبکہ اگر اس میں بھوک،بیماری،ہجرت کے مصائب کو شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد 50لاکھ تک جاپہنچتی ہے اور اس کے ساتھ 70سے 80لاکھ افغان اس عرصے میں مہاجربنے۔یہ واضح کرتا ہے سامراج اور پاکستان نے افغانستان میں کیا بربادی اور تباہی پھیلائی ہے۔اب ایک بار پھر افغانستان پر جنگ مسلط کرنے کا مطلب ایک تباہ حال ملک کو مزید تباہی اور بربادی میں دھکیلنا ہے۔پاکستانی فضائی حملوں سے اب تک دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کوشدید نقصان پہنچا ہے۔ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔مقامی معیشت، تجارت اور زرعی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا کے مطابق سرحدی علاقوں میں ہونے والی لڑائی نے انسانی امداد کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے اور اس نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ٹی ٹی پی کا ابھار: ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ
پاکستانی ریاست اس جنگ کو تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی قرار دیتی ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ٹی ٹی پی کا وجود خود ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
۔1980کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان نے امریکی سامراج کے ساتھ مل کر جہادی گروہوں کی سرپرستی کی تھی۔ اس کے بعد افغان طالبان کی حمایت اور بعد ازاں امریکہ کی ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“میں شرکت، ان پالیسیوں نے پورے خطے کو عسکریت پسندی کے جال میں دھکیل دیاہے۔
قبائلی علاقوں میں مسلسل فوجی آپریشنز، ڈرون حملے، جبری بیدخلی اور سیاسی جبر نے شدید عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عسکریت پسندی کو مزید تقویت ملی اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ سامنے آئے۔اب بھی یہ واضح ہے کہ ریاست نے اپنی پالیسی کو تبدیل نہیں کیا بلکہ وہ طالبان کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔
قبائلی علاقوں میں ریاستی جبر اور پی ٹی ایم
اگر پاکستانی ریاست واقعی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہوتی تو وہ قبائلی علاقوں میں موجود جمہوری اور طالبان مخالف قوتوں کے ساتھ تعاون کرتی۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایک عوامی تحریک ہے جوجنگ کے خاتمے،جبری گمشدگیوں کے خاتمے،اور قبائلی علاقوں میں امن کا مطالبہ کررہی ہے اور طالبان کے خلاف ایک متبادل قوت کے طور پر ابھری تھی۔لیکن ریاست نے اس تحریک کو بارہا کچلنے کی کوشش کی، اس کے کارکنوں کو گرفتار کیا اور اس کی سرگرمیوں پر پابندیاں لگائیں۔یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں بلکہ ریاست کا مقصد سرحدی علاقوں پر عسکری اور سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا بھی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ نے افغانستان پر جنگ کی مخالفت کی اور کہا ہے کہ اس سے پہلے سے تباہ حال شہریوں کی زندگی دوبھر ہوگئی ہے۔جنگ اور فوجی آپریشن کا سب سے زیادہ نقصان دونوں طرف کے پشتون عوام کو ہورہا ہے۔
تزویراتی گہرائی کی پالیسی کی ناکامی
تزویراتی گہرائی کا خواب ریاست 1980ء کی دہائی سے دیکھ رہی ہے۔افغانستان میں ثور انقلاب کے بعد ہونے والی خانہ جنگی جس میں امریکی سامراج کے ساتھ پاکستان بھی شامل تھا۔اس وقت اسلام آباد نے افغانستان کو اپنی”نیم نوآبادی“بنانے کا تصور تشکیل دیا تاکہ ایک تابع حکومت کے ذریعے بھارت کے خلاف دفاعی گہرائی حاصل کی جا سکے۔ یہی وہ پالیسی تھی جس نے مجاہدین کو استعمال کیا، طالبان کو منظم کیا اور بعد ازاں ”اچھے“ اور ”برے“طالبان کی تفریق کو نظریاتی جواز فراہم کیا۔دوحا مذاکرات میں پاکستان کے کردار نے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی مگر آج یہی پالیسی ریاست کے گلے کا پھندا بن چکی ہے ٹی ٹی پی کی بغاوت، سرحدی جنگیں، علاقائی کشمکش اور اندرونی سیاسی بحران سب اسی ”تزویراتی گہرائی“کے زوال کی علامت ہیں۔افغانستان میں دفاعی گہرائی حاصل کرنے کا پاکستانی منصوبہ جو دراصل سامراجی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش تھی مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔لیکن پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کی بیدخلی یا افغانستان میں فضائی حملے یا موجود جنگ سے یہ واضح ہے کہ ریاست اس پالیسی سے پیچھے نہیں ہوئی ہے اور وہ اب بھی افغانستان کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک کے اندار اور باہر خود کو ایک برتر طاقت کے طور پر پیش کرئے۔
ڈیورانڈ لائن: سامراجی تقسیم اور پشتون قومی سوال
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد ڈیورانڈ لائن دراصل برطانوی سامراج کی مسلط کردہ سرحد ہے۔ 1893 میں برطانوی سامراج نے اس سرحد کو کھینچ کر پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیاتھا۔اس سرحد کی کوئی تاریخی، قومی اور نہ ہی جغرافیائی حیثیت ہے یہ برطانوی سامراج کے نوآبادیاتی مفادات کی پیداوار تھی۔ اس کا مقصد ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ایک بفر زون قائم کرنا اور پشتون علاقوں کو سیاسی طور پر تقسیم رکھنا تھا۔آج بھی اس سرحد کے دونوں جانب ایک ہی قوم، ایک ہی ثقافت اور ایک ہی سماجی ڈھانچے کے لوگ آباد ہیں۔ڈیورانڈ لائن کی وجہ سے پشتون قوم دو ریاستوں میں تقسیم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں مستقل سیاسی کشیدگی ہے۔قبائلی علاقوں کو دانستہ طور پر پسماندہ رکھا گیا۔پشتون قومی سوال اسی تاریخی تقسیم سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتاخطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل فوجی طاقت یا ریاستی جبر میں نہیں بلکہ پشتون قوم کی حقِ خود ارادیت میں ہے۔
افغان مہاجرین کے خلاف نسل پرستی
جنگی ماحول میں افغان مہاجرین کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ طالبان پر دباؤ ڈلا جاسکے۔ لاکھوں افغان جو دہائیوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اب گرفتاریوں، جبری ملک بدری اور املاک کی ضبطگی جیسے اقدامات کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ مہاجرین دراصل انہی جنگوں کا نتیجہ ہیں جن میں پاکستان اور عالمی طاقتیں شامل رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت میں سستی محنت کے ذریعے اہم کردار ادا کیا، لیکن اب انہیں سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔
افغان مہاجرین جن میں ایک بڑی تعداد دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں اور ان کی تیسری یا چوتھی نسل کے لیے افغانستان ایک اجنبی ملک ہے۔پاکستان میں ان کا روزگار،گھر اور تعلقات ہیں جو دہائیوں کی کڑی محنت سے بنے ہیں اور اب ان کو اس طرح بیدخل کرکے طالبان کی حکومت میں افغانستان بھیجنے کا مطلب ہے ان کی زندگیوں اور رہن سہن کو برباد کرنا جو یہاں مقامی آبادی سے مل کر پروان چڑھا ہے۔ خاص طور پر عورتوں،لڑکیوں،نسلی و جنسی اقلیتوں اورہزارہ،صحافی نیزسابق حکومت یا بین الاقوامی تنظیموں سے جڑے ہوئے افراد کی زندگیاں اور ان کا مستقبل افغانستان میں شدید خطرے میں ہے۔

طالبان
پاکستانی ریاست کی جارحیت کی مخالفت کا مطلب طالبان حکومت کی حمایت نہیں ہے۔ طالبان ایک رجعتی، عورت دشمن اور اقلیت مخالف حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔اگرچہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو براہِ راست اور مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرتے لیکن دونوں کے رجعتی مقاصد ایک جیسے ہیں۔ ان کا ہدف پشتون علاقوں میں ایک مذہبی حکومت قائم کرنا ہے جو وہاں کے عوام کے لیے ایک تباہ کن صورتحال ثابت ہوگی۔
لیکن افغانستان میں بیرونی فوجی مداخلت یا فضائی حملوں کے ذریعے کسی بھی قسم کی حکومت کی تبدیلی کی کوشش نہ تو جمہوریت اور نہ ہی عوامی آزادی لائے گی یہ افغانوں نے پچھلی دودہائیوں میں بھگتا جب امریکہ افغانستان میں قابض تھا۔افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف افغان مزدوروں، کسان، خواتین اور نوجوانوں ہی کرسکتے ہیں اور وہ ہی طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
انقلابی سوشلسٹ مؤقف
انقلابی سوشلسٹ پاکستان کی افغانستان پر جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔پاکستانی محنت کش طبقے کو اس جنگ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے حکمران طبقے کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور طبقاتی جدوجہد کے ذریعے اس نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا جو جنگ،دہشت گردی اور تباہی پیدا کررہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ جنگ دراصل حکمران طبقہ کے بحران، سامراجی سیاست اور خطے میں طاقت کے توازن کی کشمکش کا نتیجہ ہے۔
ہم افغان طالبان کی رجعتی، عورت دشمن اور سرمایہ دارانہ حکومت کے مخالف ہیں لیکن ان کے خاتمے کے لیے کسی سامراجی یا پاکستانی ریاستی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔افغان عوام کی آزادی اور ترقی صرف انقلابی عوامی تحریکوں، مزدور تنظیموں اور عوامی کمیٹیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

جنگ بند کرو
?اب تک یہ جنگ سرحدی علاقوں میں جھڑپوں اور فضائی حملوں تک محدود رہی ہے۔ ایک خطرہ یہ ہے کہ یہ صورتحال ہفتوں بلکہ مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے جس میں دونوں حکومتیں خود کو ”قوم کے محافظ“کے طور پر پیش کریں گئیں۔ طالبان کی انتہائی رجعتی اور نیم فسطائی حکومت عوامی جذبات کو بھڑکا کر یہ دعویٰ کرے گی کہ وہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک کے قومی مفادات کا ایک اور بیرونی جارحیت کے خلاف دفاع کر رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی حکومت نہ صرف سرحدی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرے گی بلکہ ملک کے اندر بھی فوجی آپریشنوں کے پھیلاؤ اور جمہوری حقوق کی مزید سلبی کو جائز قرار دے گی۔
لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک خدشہ اگرچہ اس کا امکان کم ہے کہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے اور پاکستان کی جانب سے باقاعدہ زمینی حملے تک نوبت پہنچ جائے۔ ایسی کسی بھی مہم جوئی کو ہر صورت روکا جانا چاہیے اور اسے روکنے کی حقیقی طاقت صرف محنت کش طبقے اور مظلوم عوام کے پاس ہے جو ایک وسیع اور طاقتور جنگ مخالف عوامی تحریک کو جنم دے سکتے ہیں۔دونوں ممالک کے عوام کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے کہ اس جنگ کو فوری طور پر روکا جائے۔ انہیں مل کر جدوجہد کرنی ہوگا تاکہ ان کے حکمران طبقات انہیں ایک طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں نہ جھونک سکیں۔
افغانستان اور خیبر پختونخوا کے محنت کشوں کی مشترکہ جدوجہد طالبان کی حکمرانی اور پاکستانی ریاستی جبر دونوں کو چیلنج کر سکتی ہے اور ساتھ ہی خطے میں سامراجی بالادستی کا بھی مقابلہ کر سکتی ہے۔ فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے خطے کے محنت کش عوام کی ایک مشترکہ انقلابی جدوجہد تعمیر کی جائے ایسی جدوجہد جو بیک وقت سامراج، طالبان اور ریاستی جبر سب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
افغانستان اور پاکستان میں قائم رجعتی نظاموں کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور تمام قومیتوں کی حقِ خودارادیت خصوصاً پشتون قوم کی حقِ خودارادیت کی حمایت پورے خطے میں ایک انٹرنیشنلسٹ اور انقلابی جدوجہد کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس جدوجہد کو محنت کشوں اور کسانوں کی حکومتوں کے قیام اور پورے خطے کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی جدوجہد سے جوڑنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *