ایران اسرائیلی جنگ پر لیگ فاردی ففتھ انٹرنیشنل کا بیان

Posted by:

|

On:

|

,

ترجمہ:عمران جاوید

ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کا بہانہ ایران کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ختم کرنا ہے حالانکہ تمام ذرائع بشمول امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس بات پر متفق ہیں کہ ایران فی الحال کوئی جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور ایسا کرنے میں اسے ابھی کئی سال لگیں گے لیکن صیہونی پروپیگنڈا مشین اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔
یہ وسیع پیمانے پر فضائی حملے جس میں قومی نشریاتی ادارے سمیت سرکاری تنصیبات، ہسپتال اور عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور تہران و دیگر شہروں کے باشندوں سے انخلاء کا مطالبہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی تبدیلی کی کوشش ہے جس کا مقصد فلسطین پر صیہونی نسل کشی اور قبضے اور مشرق وسطیٰ پر مغربی تسلط کی آخری رکاوٹ کو ختم کرنا اور اسے ڈرانا ہے۔
یہ نتن یاہو حکومت کی علاقائی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جس میں حزب اللہ کی تباہی، بیروت کے بڑے حصوں کی بربادی، شامی فضائیہ کا خاتمہ اورملک کے بڑے حصوں پر قبضہ، نیز ایران کے فضائی دفاعی نظام کے زیادہ تر حصے کی شروعات میں تباہی شامل ہے۔ نتن یاہو کو امید ہے کہ مولویوں کی پولیس حکومت کی وسیع پیمانے پر عدم مقبولیت اس کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ اسرائیل کی کامیابیوں اور ایران کی تقریباً بے بسی کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے کھل کر اس کے بظاہر مقصد ”ایران کی جوہری تنصیبات کی تباہی“کی حمایت کی اور ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ امریکی صدر نے خطے میں اضافی فوجی دستے تعینات کیے اور فخر سے کہا کہ وہ ”فی الحال“ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ آئی کو نہیں ماریں گے۔
اس حملے نے ایرانی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور کئی اپنے گھروں میں ہلاک ہو گئے حالانکہ امریکہ کو چند دن بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے تھے امریکہ جانتا تھا کہ اسرائیل اس کی فوجی قیادت اور سائنسدانوں کو قتل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حملے سے چند دن قبل عراق میں امریکی سفارت خانہ خاموشی سے خالی کرا لیا گیا تھا۔ واضح طور پر یہ جنگ دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور اس کے علاقائی چوکیدار کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ یہ نہ صرف ان کی عرب اتحادی ریاستوں کو ڈرانے اور حوصلہ شکنی کرنے کا کام کرتا ہے بلکہ چین اور روس کے لیے بھی ایک انتباہ ہے جو پہلے شام اور اب ایران کی حفاظت میں سیاسی اور فوجی طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے تمام اتحادی اس کی جارحیت کے خلاف ردعمل سے بچانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے ہیں۔ جو ممالک ایک دن پہلے اسرائیل کی غزہ میں ظالمانہ بھوک مری اور قتل و غارت گری پر نرم لہجے میں اعتراض کر رہے تھے وہ راتوں رات اسرائیل کے لیے ”وجود کے خطرے“کی مضحکہ خیز مذمتوں پر اتر آئے ہیں۔ روس اور چین نے اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیاہے لیکن یہ تہران میں اپنے اتحادی کو کوئی حقیقی مدد فراہم نہیں کررہے ہیں۔
غزہ کی تباہی، حزب اللہ کا کمزور ہونا، شامی حکومت کا خاتمہ، اور ایران سے مزاحمت کے کسی بھی باقی ماندہ امکان کی متوقع تباہی نے ثابت کیا کہ نام نہاد مزاحمتی محور ایک ”کاغذی شیر“ہے۔ اسرائیل کو روایتی یا گوریلا جنگ سے شکست نہیں دی جا سکتی جب تک وہ اپنا کام کرتا ہے اور اپنے سامراجی سرپرستوں کی حمایت برقرار رکھتا ہے۔ ایران پر اسرائیلی جنگ دو یکساں رجعت پسند ریاستوں کے درمیان علاقائی تسلط کے لیے کوئی تصادم نہیں ہے بلکہ مغربی سامراج کے چوکیدارکی طرف سے ایک نیم نوآبادیاتی ملک کے خلاف ایک رجعت پسندانہ حملہ ہے جس کی آزادی ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔
خود ساختہ ولی عہد اور ارب پتی رضا پہلوی نے ایرانیوں سے ”اٹھو اور اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کرو“کا مطالبہ کیا ہے۔ صیہونی طاقت کے زور پر شاہ کی واپسی یا سامراج نواز ”جمہوریت پسندوں“کا آنا ایران کے لیے عراق سے بہتر نہیں ہو گا۔ ایرانی حکومت ایرانی مزدوروں، خواتین اور ملک کی قومی اقلیتوں کے حقوق کی ایک سخت دشمن ہے۔ اسے ختم کیا جانا چاہیے اور ہمیں یقین ہے کہ ایران کے مزدوروں میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ لیکن امریکی اسرائیلی جارحیت کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ اور اس کی جگہ ایک نئے کٹھ پتلی شاہ کا آناصرف امریکی مفادات کے مخالف ایک رجعت پسند حکومت کو ایسی حکومت سے بدل دے گا جو زیادہ موافق ہو۔ یہ ایران میں انقلابی قوتوں کو مضبوط نہیں کرے گابلکہ انہیں ایک صیہونی حامی حکمران کے دباؤ میں لائے گا۔ اسرائیل میں یہ نتن یاہو اور اس کے فاشسٹ اتحادیوں کو مضبوط کرے گا اور غزہ کے خلاف نسل کشی کی جنگ اور مغربی کنارے کے الحاق کو مزید بڑھاوا دے گا۔
آیت اللہ کی حکومت کی انتہائی رجعت پسند اور انقلاب مخالف نوعیت صیہونی جنگ کے بارے میں ہماری رائے کو کسی بھی طرح تبدیل نہیں کرتی ہے۔ امریکی اوراسرائیلی حملے کی شکست یقیناً سامراجیوں کے علاقائی تسلط کے منصوبوں اور سب سے بڑھ کرفلسطین میں اسرائیل کی خونی نسل کشی کے لیے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی۔ اس صورت حال میں ایران کواپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔اس طرح ایرانی حکومت کو کسی قسم کی سیاسی حمایت دیے بغیرکمیونسٹ صیہونی ریاست کی شکست کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے لیے جدوجہدکرتے ہیں۔
ایران میں اس جنگ نے حکومت کی جعلی سامراج دشمنی کو بے نقاب کیا ہے۔ محنت کش طبقے اور انقلابی قوتوں کو حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد میں اسے واضح کرنا ہوگا۔ ایران کے لیے واحد ترقی پسند حل ایران میں ایک جمہوری اور سوشلسٹ یعنی مسلسل انقلاب میں ہے جو خطے کی تمام ریاستوں میں پھیل جائے۔ اگر حکومت میں بحرانپیدا ہوتا ہے تو ایرانی محنت کش طبقے کو مزدوروں کی ”شوراؤں“(کونسلوں) اور ہڑتالی کمیٹیوں کی بہادر روایات کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جنہوں نے حالیہ برسوں میں بہادری سے لڑائیاں لڑی ہیں لیکن اسے ملک کی آزادی کا بھی ہر امریکی حامی یا اسرائیلی حامی قوت کے خلاف دفاع کرنا چاہیے۔
تاہم صیہونی حملے کا خاتمہ صرف فوجی ذرائع سے نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہوگا۔ اسرائیل کی فوجی برتری اس حمایت پر منحصر ہے جو اسے اپنے سامراجی اتحادیوں اور ان کے عرب اتحادیوں کے خاموش تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔ مغرب میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے باوجود سامراجی طاقتوں کی طرف سے اسرائیل کو فراہم کی گئی فیصلہ کن سیاسی اور فوجی حمایت کو سنجیدہ خطرہ نہیں ہے یہ سب سوشل ڈیموکریسی اور ٹریڈ یونینوں کے رہنماؤں کے صیہونی اور سامراجی حامی موقف کی وجہ سے ہے۔ عرب دنیا میں حالات بہتر نہیں ہیں جہاں آمریتوں کا
امریکی سرمایہ کاری اور اسلحہ کی فراہمی پر منحصر ہونا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے نہیں آئیں گے اور یقیناً اپنے بڑے حریف ایران کی تو کسی طور پر بھی نہیں۔ عرب بہار کے دوران ان آمریتوں سے عوامی نفرت کی وجہ سے یہ اب اسرائیلی حملوں کے خلاف تحریک کو ہر ممکن طریقہ سے روک رہے ہیں۔
لیکن ایران کے خلاف جنگ کو شکست دی جا سکتی ہے اور پورے خطے میں اسرائیل کی دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک عالمی عوامی تحریک ہے جو صیہونی جارحیت اور ایران پر ممکنہ براہ راست امریکی حملے کے لیے فوجی، اقتصادی اور سیاسی حمایت کو روکنے کے لیے سڑکوں پر بڑے پیمانے پر تحریک چلائے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مزدوروں کی کارروائیوں کے ذریعے جنگی مواد یا درآمدات کی نقل و حمل اور پیداوار کو سبوتاژ کرے اور سرکاری ملازمین مغربی حکومتوں کی اسرائیل کی غیر قانونی جنگوں کی حمایت میں رکاوٹ ڈالیں۔ پورے مشرق وسطیٰ میں سوشلسٹوں اور تمام محنت کش طبقے اور ترقی پسند قوتوں کو اپنے حکمرانوں کی غیر فعالیت کے خلاف اور ایران اور فلسطین کی حمایت میں متحرک ہونا چاہیے، صیہونی ریاست کے ساتھ تمام تعلقات کو ختم کرنے کے لیے لڑنا چاہیے۔ ایسی تحریک اسرائیل اور مغربی طاقتوں کو سیاسی شکست دے سکتی ہے اور فلسطین کی آزادی اور ایران اور پورے مشرق وسطیٰ میں ایک انقلابی تبدیلی کا راستہ کھول سکتی ہے۔
ایران کا دفاع کرو۔ اسرائیل کی رجعت پسندانہ جنگ کو شکست دو۔ امریکہ اور سامراجیوں ایران سے دور رہو۔
مغربی سامراجی بحریہ اورفوجیں مشرق وسطیٰ سے نکلیں اور تمام اڈئے ختم کیئے جائیں۔اسرائیل کے لیے مغربی اقتصادی، فوجی اورانٹیلی جنس امداد ختم کرو۔
بڑے پیمانے پر مظاہرے، ہڑتالیں اور اسرائیل کے خلاف مزدوروں کی ناکہ بندی لڑاکا جدوجہد سے نافذ کی جائے۔
ایران میں مزدور انقلاب کے لیے جدوجہد کرو، ایران میں ملائیت کی آمریت کی مخالفت کرو اور بیرون سطح پر سامراجی اورصیہونی بلاک کی مخالفت کرو۔
نسل کشی بند کرو۔غزہ کا محاصرہ ختم کرو۔آئی ڈی ایف غزہ اور مغربی کنارے سے باہر جاؤ
سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے صیہونی ریاست کا خاتمہ کرو۔ایک متحدہ، سیکولر، سوشلسٹ فلسطین کے لیے جدوجہد کرؤ۔مشرق وسطیٰ کی سوشلسٹ فیڈریشن کے لیے جدوجہد کرو۔

Posted by

in

,