تحریر:شہزادارشد
ریاست کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف سخت کارروائی پوری شدت سے جاری ہے۔ 13 اکتوبر کو سیکورٹی فورسز نے ان پر بھرپور حملہ کرکے ان کو منتشر کردیا تھا۔یہ جبروتشدد اس وقت ہوا جب ٹی ایل پی کا غزہ کے ساتھ یکجہتی مارچ مریدکے میں تھا جو اسلام آباد جارہا تھا۔ ڈان اخبار کے مطابق اس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے، درجنوں زخمی ہوئے اور 2,716 کارکنان کو گرفتار کیا گیاجبکہ دیگرآزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ٹی ایل پی کے رہنماء اس وقت روپوش ہیں جبکہ ان کے ہزاروں حامیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ریاست نے ٹی ایل پی کی مساجد اور مدرسوں کو اپنی تحویل میں لینا شروع کردیا ہے اورپنجاب حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔
لبرل اور لیفٹ میں ریاستی تشدد کی حمایت
لبرل اور لیفٹ میں اس اقدام کی حمایت پائی جاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ریاستی تشدد ہی اس عفریت سے نجات کا ذریعہ بنئے گا اور وہ حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ نمائشی اقدامات کی بجائے وہ حقیقت میں تحریک لبیک کو سبق سکھئے۔
انقلابی سوشلسٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کے تشدد کی حمایت کوئی حل نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کو مزید جواز دئے گا کہ وہ ایسا ہی حل محنت کشوں اور مظلوم اقوام پر مسلط کرئے جو ہم بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ میں دیکھ رہے ہیں اور جس طرح کشمیر میں کامیاب تحریک کو ریاست نے خون میں نہلانے کی کوشش کی گئی یہ واضح ہے کہ جبر وتشدد کے آلہ کی کسی طور حمایت نہیں جاسکتی ہے۔ایسی حمایت بدترین طور پر دوبارہ محنت کش عوام پر ہی جبر وتشدد کو مسلط کرئے گی۔اس لیے ٹی ایل پی کے خلاف لڑائی ریاست کی حمایت یا ریاست کے جبر کی خاموش حمایت سے ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ اس فاشسٹ تنظیم کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں چاہتی ہے۔
لیون ٹراٹسکی کے مطابق “مزدوروں کا نعرہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست فاشسٹ گروہوں کو غیر مسلح کرے کیونکہ یہ ایک “مجرمانہ فریب” ہے۔ اس کی بجائے، محنت کش عوام کو چاہیے کہ وہ خود اپنی حفاظت کے لیے مسلح ہوں اور عوامی اینٹی فاشسٹ ملیشیا قائم کریں۔ سرمایہ دار ریاست کو کسی فاشسٹ جماعت کو کچلنے کا مطالبہ دراصل اسی ریاست کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو محنت کشوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے”۔
فاشزم اور ریاستی سازش
اسی طرح لیفٹ اور لبرلز کا ایک حصہ اسے سازش کے طور پر دیکھ رہا ہیں اوریہ کہتے ہیں کہ اس سب کے پیچھے ریاست ہے کیونکہ ریاست ہی ہے جو ٹی ایل پی کی حمایت کرتی ہے اور ٹی ایل پی کو ریاست نے ہی بنایا ہےیہ ٹی ایل پی اور ایسے ہی طالبان یا پی ٹی آئی کے مظاہر کا تاریخی مادیت پر مبنی تجزیہ کی بجائے اس کو ریاست کی سازش تک محدود کردیتے ہیں اور یوں یہ لبرل بن کرریاست کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو کچل دو۔ ان کا مطالبہ اسی ریاست سے ہوتا ہے جس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس نے ٹی ایل پی کو تخلیق کیا۔
یہ سرمایہ دارانہ نظام کے عدم استحکام،سامراجی جنگوں،قبضوں اوراس کی کچلتی ہوئی ترقی کے خلاف غصے اور نفرت کو نظرانداز کرتے ہیں جس نے پچھلی دہائیوں بڑی تعداد میں کسانوں اور دیہی غریبوں کو شہرکی کچی آبادیوں میں دھکیل ہے جہاں شہر کی تیز رفتار ترقی ان کا کچومر نکالتی ہے۔اسی طرح چھوٹا دکاندار،مالز میں ورکرز،رکشہ ڈرائیور،آن لائن ڈلیوری بوائے، رائڈر سروس والے،مارکیٹ میں چھوٹی مینوفیکچرنگ یا سیلز کا کام کرنے والے یا بڑے دفاتر میں معمولی نوکریاں کرنے والے سرمایہ دارانہ بحران کی وجہ سے شدید عدم استحکام اور ہیجان میں مبتلا ہیں۔ان کا غصہ اورنفرت ایک انقلابی اور سوشلسٹ متبادل کی عدم موجودگی میں رجعتی شکل میں ٹی ایل پی جیسی فاشسٹ تنظیم کا حصہ بنتا ہے۔
لیون ٹراٹسکی کہتا ہے کہ اگر سوشلزم انقلابی امید کی ترجمانی ہے تو فاشزم درحقیقت ردِ انقلاب کی مایوسی کا اظہار ہے۔ فاشزم کو شکست دینے کے لیے عوام کی اس مایوسی کو سرمایہ داری کے خلاف ایک انقلابی حملے میں بدلنا پڑے گایہ وہ نظام ہے جو فاشزم کو پروان چڑھاتا ہے۔ چونکہ فاشزم اپنی قوت سرمایہ دارانہ بحران کے اثرات سے غصے میں آئے ہوئے عوام کو متحرک کرنے سے حاصل کرتا ہے لہٰذا فاشزم کے خلاف جدوجہد کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب اس کے ماخذ یعنی سرمایہ داری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
تحریکِ لبیک حکمران طبقہ کے پاس محنت کش طبقہ کو تقسیم کرنے کا آوزارہے اس لیے ہم اس کے مخالف ہیں اور اس کے خلاف جفاکش فاشزم مخالف اتحاد کے حامی ہیں لیکن تحریک لبیک کے خلاف جدوجہد نامکمل ہوگئی اور وہ اس کی بنیادوں کو ختم نہیں کرسکے گئی جب تک وہ ان حالات کے خلاف یعنی سرمایہ داری کے خلاف نہیں لڑتی جو ان کو جنم دیتے اور پروان چڑھاتے ہیں۔
اس لیے انقلابی سوشلسٹ یہ سمجھتے ہیں سرمایہ دار طبقہ اور ریاست کے آمرانہ کردار کے خلاف جدوجہد بنیادی ہے اورمحنت کش طبقے کی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنی تنظیمی، اتحاد اور سوشلسٹ پروگرام کے ذریعے اس جبر کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
فلسطینی یکجہتی کی مخالف اور سامراج کے منصوبے کی حمایت
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ٹی ایل پی نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔یہ محض ایک اتفاق نہیںہے۔ حکومت نے ٹی ایل پی کے خلاف اس وقت کوئی قدم نہیں اٹھایا جب وہ بلاسفمی کے الزامات کے تحت مسیحوں،ہندوں اور احمدیوں پر حملہ آوار ہورہی تھی مگر جیسے ہی اس نے امریکی حل کی مخالفت کی یہ ریاستی جبر کا نشانہ بن گئی۔یہ واضح کرتا ہے کہ حکومت کی اصل وفاداری کدھر ہےوہ فلسطینیوں کی آزادی کے لیے عوامی ہمدردی کو دبانا چاہتی ہے کیونکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے نوآبادیاتی منصوبے کی حامی ہے۔
اسی حکومت نے خود “بین الاقوامی استحکام فورس” کے لیے فوجی دستے بھیجنے کی پیشکش کی ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف قابض افواج کا ہی حصہ بنے گئی۔
کیا فاشزم اور عسکری تنظیموں پر پابندی سے ان پر قابو پایاجاسکتا ہے؟
پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی کا طریقہ ہمیشہ ناکام رہا ہے۔اس کا آغاز کیمونسٹ پارٹی پر پابندی سے ہوا تھا بعدازں عوامی نیشنل پارٹی اور مزدور تنظیموں پر بھی پابندی لگی اور 2021 میں ٹی ایل پی پر جو پابندی لگی تھی وہ عارضی ثابت ہوئی۔اسی طرح جن عسکری تنظیموں پر پابندی لگی تھی وہ آج بھی مخلف ناموں سے کام کررہی ہیں۔ان پابندیوں کا اصل مقصد ریاست کے جرائم کو چھپانا ہے۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ پابندیوں سے نہ فاشزم اور نہ انتہا پسندی ختم ہوئی ہے۔ بلکہ اس سے ریاستی جبر کو جواز ملتا ہےاور وہ عوامی مزاحمت پر حملہ آور ہوتی ہے اور اسے کچلتی ہے۔
اس وقت بھی پی ٹی ایم اور بلوچ یکجہتی کمیٹی پر پابندی ہے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پابندی ہی حقیقی ہے کیونکہ یہ حکمران طبقہ اور نظام کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔اسی وجہ سے انقلابی سوشلسٹ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے حامی نہیں ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ رجعتی یا بنیاد پرست گروہ پر بھی ریاستی جبر کے ذریعے پابندی لگوانا دراصل انہی اداروں کے آمرانہ کردار کو مزید تقویت دیتا ہے جو پہلے ہی مظلوم اقوام کی تحریکوں،محنت کشوں اور عورتوں کی جدوجہد پر حملہ آور ہیں۔
تحریک لبیک اور انقلابی سوشلسٹ نکتہ نظر
ہم تحریکِ لبیک پاکستان کی رجعتی سیاست، اقلیتوں کے خلاف اس کے حملوں اور مذہبی تعصب پر مبنی نعروں کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔مگراس مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سرمایہ دار ریاست کے جبر کی حمایت کریں کیونکہ یہ ریاست ان کو ختم کرنے کی بجائے اپنے جرائم پر پردہ ڈال کران کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔اس لیے سوشلسٹ ریاستی پابندی کے مخالف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک لبیک کے خلاف حقیقی لڑائی محنت کش عوام،مظلوم اقلیتیں اور عورتیں ہی لڑسکتی ہیں اور اس کو ختم کرسکتی ہیں۔
ہمارے مطالبات
مریدکے میں ہونے والی ہلاکتوں اور تشدد کی آزادانہ تحقیقات کرائی
تمام گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے حق کو تسلیم کیا جائے اور ایسے مظاہروں پر پابندی ختم کی جائے۔ فاشزم مخالف جدوجہد ریاستی اداروں کے ذریعے نہیں بلکہ محنت کشوں، دیہی و شہری غریبوں، طلبہ، خواتین اور ترقی پسند عوام کے فاشزم مخالف اتحاد سے ہی ممکن ہے۔
