انقلابی سوشلسٹ موومنٹ
۔2 جنوری کی صبح امریکہ کی وینزویلا کے خلاف وحشیانہ سامراجی جارحیت ایک نہایت خطرناک اور کھلے فوجی مرحلے میں داخل ہوگئی اور دارالحکومت کاراکاس سمیت متعدد شہروں میں فوجی تنصیبات اور شہری علاقوں پر شدید بمباری کی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے فخریہ اعلان کیا کہ امریکی نام نہاد ’’انسدادِ دہشت گردی‘‘ دستوں نے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر لیا ہے۔
ریاستی دہشت گردی اور کھلی سامراجی مداخلت پوری طرح واضح کرتی ہے کہ امریکی سامراج کی اصل حقیقت کیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا وینزویلا کوجیسے پورے لاطینی امریکا کواپنے زیر اثر خطہ یعنی نیم نوآبادی سمجھتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد وہاں سے ان تمام حکومتوں اور نظاموں کا صفایا کرنا ہے جو مکمل طور پر اور بلا چون و چرا امریکی بالادستی تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ان کی جگہ وفادار اور تابع دار حکومتیں مسلط کرنا ہے۔
بعض مواقع پر یہ مقصد ’’پرامن‘‘ طریقوں سے حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مثلاً انتخابات کے ذریعے دائیں بازو اورانتہائی رجعتی قوتوں کی بھرپور سرپرستی کر کے لیکن جہاں یہ حربے ناکام ہوں وہاں امریکا کھلم کھلا عدم استحکام پیدا کرتا ہے اور حکومتوں کی تبدیلی کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتا ہے۔چاہے وہ معاشی ناکہ بندیاں ہوں، تعزیری محصولات، جنگی دباؤ کے تحت جہازوں اور کشتیوں کی ضبطگیاں ہوں یا براہِ راست بمباری اور زمینی افواج کی یلغارہو۔
ان جارحانہ اقدامات کے لیے پیش کیے جانے والے جوازجیسے ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ یا یہ کہ وینزویلا کا تیل دراصل امریکا کی ملکیت ہےمحض مضحکہ خیز اور فریب پر مبنی دعوے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ جواز اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکا نے بین الاقوامی قانون اور آفاقی اقدار کا لبادہ اوڑھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اس کی سرکاری ’’سیکیورٹی ڈاکٹرین‘‘ صاف کہتی ہے: جو چیز امریکی سامراج کے مفاد میں ہو وہی ٹھیک ہےباقی سب بے معنی ہے۔
اسی تناظر میں مادورو حکومت کا تختہ الٹنا اور وینزویلا میں ایک امریکی تابع دار حکومت قائم کرنا محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پیغام کسی ایک حکومت کو نہیں بلکہ دنیا بھر کو دیا جا رہا ہے۔ امریکا کو وینزویلا کے روس اور چین کے ساتھ تعلقات سے اس لیے مسئلہ نہیں کہ وہ سامراج کے زیرِ اثر ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ’’غلط‘‘ سامراجی طاقتوں کے ساتھ جڑ رہا ہے۔
مادورو حکومت کے رجعتی پہلو جیسے محنت کش طبقے کا استحصال، سیاسی جبر اور ریاستی اشرافیہ و بولیوارین بورژوازی کی بدعنوانی امریکی سامراج کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی مداخلت کا مقصد نہ محنت کشوں کو نجات دلانا ہے نہ جمہوریت اور نہ ہی خود ارادیت ہے۔ اس کا اصل ہدف دہائیوں کی بولیوارین سیاست کے بعد پرانی امریکا نواز اشرافیہ کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔ اسی لیے دائیں بازو کی انتہائی رجعتی ’’اپوزیشن‘‘ امریکی حملے کا خیر مقدم کر رہی ہے اور مستقبل میں امریکی گماشتہ بن کر اقتدار اور دولت حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
امریکی جنگ کے ذریعے حکومت کی تبدیلی وینزویلا کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے لاطینی امریکا کے محنت کشوں اور مظلوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ اس سے نہ صرف ایک انتہائی رجعتی اور امریکا نواز دائیں بازو کا اقتدار قائم ہوگا بلکہ پورے خطے میں مزید سامراجی مداخلتوں کا راستہ بھی ہموار ہوگا۔ اسی لیے ہم وینزویلا کا امریکی جارحیت کے خلاف دفاع کرتے ہیں اور امریکی مداخلت کی شکست کے حامی ہیں۔
وینزویلا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امریکی فضائی حملوں اور زمینی افواج کے خلاف ہر ممکن ذریعے سے اپنا دفاع کرے۔ ایسی مزاحمت جائز ہے اور اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔ ہم امریکی حملے اور بغاوت کے ذریعے مسلط کی جانے والی کسی بھی حکومت کو مسترد کرتے ہیں تاہم اس کا مطلب مادورو حکومت کی پالیسیوں اور حکمتِ عملی کی حمایت نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ محنت کشوں اور بائیں بازو کے ناقدین کے خلاف تمام جبر ختم کیا جائے، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، اجرتوں اور محنت کے پامال شدہ حقوق فوری بحال کیے جائیں اور جمہوری عمل کو دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کر سکیں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ اور عوامی مقامات تک رسائی دی جائے تاکہ حکومت سے باہر تمام سامراج مخالف قوتیں بھی امریکی جارحیت کے خلاف اپنی آواز بلند کر سکیں۔
چین اور روس کی جانب سے امریکی حملے کی مذمت محض رسمی ہے اور اس سے امریکی جارحیت نہیں رکے گی۔ یہ تمام سامراجی طاقتیں چاہے اتحادی ہوں یا حریف بالآخر وینزویلا پر امریکی غلبے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں بالکل اسی طرح جیسے وہ اسرائیلی ریاست کو غزہ میں نسل کشی اور خطے میں جارحیت کی کھلی چھوٹ دے رہے ہیں۔
کولمبیا کی حکومت جو خود امریکی دباؤ کا شکار ہے یہ اقوامِ متحدہ سے رجوع کرنے کی بات کر رہی ہے۔ اصلاح پسند اور بائیں بازو کی بیوروکریٹک قیادتیں بھی محض سفارتی اپیلوں تک محدود ہیں۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ محض مذمتیں اور بیانات سامراجی جنگیں نہیں روک سکتے ہیںؐ۔
وینزویلا کی حقیقی مدد صرف ایک عالمی عوامی تحریک ہی کر سکتی ہے۔ اسی لیے ہم محنت کش طبقے، مظلوم قوموں اور تمام سامراج مخالف قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر امریکی سفارت خانوں کے سامنے احتجاج کریں، یکجہتی ہڑتالیں منظم کریں، امریکی جنگی رسد کی ترسیل روکیں اور دنیا بھر میں امریکی فوجی اڈے بند کرنے کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔
وینزویلا سے یکجہتی
امریکی جارحیت مردہ باد
وینزویلا، کیریبین اور لاطینی امریکا میں سامراجی مداخلت نامنظور
