تحریر:کے ڈی ٹیٹ ، ترجمہ:رضاخان
23جنوری کو منی ایپلس میں امیگریشن نفاذ کے خلاف گزشتہ کئی برسوں کی سب سے بڑی عوامی تحریک دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک بڑے عوامی مارچ اور وسیع تر”شٹ ڈاؤن“کی اپیل نے روایتی ایکٹوسٹ حلقوں سے نکل کر سماج کے وسیع حصوں پر اثر ڈالا ہے۔ ہزاروں افراد سڑکوں پر آئے اور یہ مطالبہ کیا کہ آئی سی ای (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کو شہر سے باہر نکالا جائے۔اس احتجاج کے ساتھ ساتھ کام کا بائیکاٹ، کام کی جگہ پر یکجہتی کے اقدامات اور چھوٹے مالکان کی جانب سے دن بھر کاروباربند رکھے گے۔اس تحریک کی فوری وجہ 7 جنوری کو رینی نکول گُڈ کا قتل تھا جیسے شہر میں ایک چھاپے کے دوران آئی سی ای کے ایک افسر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ قتل خلا میں نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے سیاسی ماحول میں ہوا جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی وفاقی کارروائیوں اور جارحانہ طاقت کے اظہار پر مبنی ہے جوچھاپے، دھونس اور خوف کو دانستہ طور پر حکمرانی کے ایک آوزار کے طور پر استعمال کرتاہے۔
نعرے اور حقیقت میں ”عام ہڑتال“
بہت سے لوگوں نے اس اقدام کو”عام ہڑتال“قرار دیا۔یہ ایک صحت مند رجحان کی عکاسی کرتا ہے یعنی یہ احساس کہ معمول کا احتجاج کافی نہیں ہے بلکہ اس سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔ ایکٹوسٹ کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ امیگریشن چھاپوں کو اخلاقی اپیلوں سے نہیں روکا جا سکتابلکہ انہیں عملی طور پربڑی تحریک سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔تاہم حقیقت کو بیان کرنا چاہیے ہے اسی سے ایک واضح حکمتِ عملی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ ایک حقیقی عام ہڑتال کسی احتجاج کے حجم یا دکانوں کے بند ہونے پر مبنی نہیں ہوتی ہے۔ اس کی اصل بنیاد کلیدی صنعتوں اور کام کی جگہ پر منظم طور پر کام کا بند ہونا ہے اور یہ فیصلہ خود محنت کش اپنی تنظیموں کے ذریعے کریں۔
منی ایپلس میں جو کچھ ہوا وہ ایک بڑے پیمانے پر سیاسی ہڑتال تھی جس میں اگرچہ شرکت متاثر کن لیکن ناہموار رہی تھی۔ اس ہڑتال میں محنت کش طبقہ کی شرکت محدود تھی جو ریاست کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتا تھا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ احتجاج کم اہمیت کا حامل تھا۔ منی ایپلس جیسے شہر میں پچاس ہزار افراد کا سڑکوں پر آنا آبادی کے ایک نمایاں حصے کی نمائندگی کرتا ہے حتیٰ کہ جزوی شٹ ڈاؤن بھی تیزی سے اہم سبق دیتا ہے کہ طاقت کہاں مرتکز ہے، کمزور نقطے کون سے ہیں جب معمولات درہم برہم ہوں تو پولیس اور وفاقی ادارے کیسے ردعمل دیتے ہیں اور ہمیں اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کس نوعیت کی تنظیم درکار ہے۔
ریاستی جبر میں تیزی
ریاست کے ردعمل نے واضح کر دیا کہ کیا کچھ داؤ پر ہے۔ جمعہ کے مظاہروں کے محض 24 گھنٹے بعد آئی سی ای کے اہلکاروں نے ایلیکس پریٹی کو گولی مار کر قتل کر دیاجو ایک آئی سی یو ہیلتھ ورکرتھے اور انہیں ایک احتجاج میں شرکت کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایک ہی شہر میں دو قتل کسی حادثے کی نہیں بلکہ دانستہ تشدد میں اضافے کی علامت ہیں۔ یہ تشدد ایک ایسی آبادی کے خلاف استعمال ہو اجس نے بار بار ٹرمپ کی پالیسیوں کو چیلنج کیا ہے۔ یہ قتل امیگریشن کریک ڈاؤن کی سب سے سفاک شکل ہے عسکری طرز کی کارروائیاں، نقاب پوش اہلکار، مہلک طاقت کا استعمال اور پھر اسی ریاستی مشینری کی جانب سے ایک تیار شدہ جواز جوجبروتشد اور قتل کررہی ہے۔
یونینوں کا مرکزی کردار
اس وقت ٹریڈ یونینیں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ محنت کشوں کی اجتماعی طاقت کے بغیربڑے عوامی احتجاج سے فیصلہ کن کامیابی تک پہنچنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔اس کے باوجود یونین قیادت کا غالب حصہ اب بھی قانونی حدود، ریاست کے ساتھ شراکت داری اور ڈیموکریٹک پارٹی پر انحصار کی حامی ہے۔ یہ تضاد اتفاقی نہیں بلکہ اسی نظام میں پیوست ہے جس کے ذریعے یونین بیوروکریسی اپنی حیثیت محفوظ رکھتی ہے یہ تصادم کے بجائے مذاکرات اور کھلی جدوجہد کے بجائے محدود دباؤ کے حامی ہیں۔اسی لیے مؤثر جدوجہد کے لیے یونینوں کے اندر لڑائی ناگزیر ہے اس لیے رینک اینڈ فائل کے اقدام کی پیش قدمی، کام کی جگہ پر جمہوریت اور ایسی قیادت کے لیے جدوجہد جوبراہِ راست ایکشن کی اہمیت کو سمجھے اور اسے استثناقرار نہ دئے۔
منی ایپلس نے کچھ بنیادی عملی سوالات کھڑے کیئے ہیں
اگر چھاپے تیز ہوتے جا رہے ہوں لیکن فیکٹریاں، دفاتر اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق کام کررہے ہوں تو امیگرنٹ کمیونٹیوں سے یکجہتی کا حقیقی مطلب کیا رہ جاتا ہے؟جب ملک بدری کا پورا نظام ٹرانسپورٹ سسٹم، کنٹریکٹرز، مقامی انتظامیہ اور عوامی انفراسٹرکچر پر منحصر ہوتو یکجہتی کی عملی شکل کیا ہونی چاہیے؟گُڈ اور پریٹی کا قتل اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے۔ امیگریشن قوانین کا نفاذ محض انتظامی یا قانونی عمل نہیں رہا بلکہ اسے اندرونی بغاوت کو کچلنے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس عمل میں خوف پھیلانا (دہشت)، طاقت کا نمایشی مظاہرہ اور مثالی تشددیعنی ایسا تشدد جو دوسروں کے لیے عبرت بنے۔ ریاست چاہتی ہے کہ یہ سبق ذہن نشین کر ایا جائے یعنی مزاحمت نہ کرو، اکھٹے نہ ہواور اپنی اجتماعی طاقت کو آزمانے کی جسارت نہ کرو۔
اسی لیے ضروری ہے کہ اسی مشینری کے کسی”زیادہ پیشہ ور“یا”زیادہ جوابدہ“ورژن کی تمام باتوں کو قطعی طور پر مسترد کیا جائے۔ جب لبرل حلقے آئی سی ای کے طریقہ کارمیں ”اصلاحات“کی بات کرتے ہیں مگر سرحدی پولیسنگ کے پورے نظام کو معمول اور جائز مانتے ہیں تو وہ اصولی بنیاد تسلیم کر کے محض طریقوں پر سودے بازی کر رہے ہوتے ہیں۔
فرے اور ڈیموکریٹس: حکمتِ عملی کا اختلاف
منی ایپلس کے میئر جیکب فرے اور منیسوٹا کی ڈیموکریٹک قیادت نے وفاقی اقدامات پر تنقید ضرور کی ہے اور خود کو”سینکچوری“ماڈل کے محافظ کے طور پر پیش کیا ہے مگر درحقیقت وہ اپنے اختیارات اور کردار کا دفاع کر رہے ہیں۔ان کا پیغام اگر سیاسی بیان بازی سے الگ کر دیا جائے تو یہ ہے کہ نظم و ضبط بحال کیا جائے، مقامی کنٹرول دوبارہ قائم ہواور وفاقی اداروں کے ساتھ انہی شرائط پر تعاون کیا جائے جو انہیں قابلِ قبول ہوں۔یہ دراصل عملیت پسندی کے نام پر تعاون ہے۔ اختلاف امیگریشن پولیسنگ اور ملک بدری پر نہیں ہے بلکہ حکمتِ عملی اور دائرہ اختیار پر ہے یعنی چھاپے کس انداز میں ہوں، بیانیے پر کس کا کنٹرول ہو اور تشدد کی کون سی سطح سیاسی طور پر قابلِ برداشت سمجھی جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ تحریک بلیک لائیوز میٹر کے ابھار کے بعد کے دور سے سیاسی طور پر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اس وقت ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ سڑکوں کے غصے کو برداشت کر سکتی تھی کیونکہ اسے انتخابی سیاست، این جی او طرز کی اصلاحات اور علامتی اقدامات میں جذب کیا جا سکتا تھا۔ احتجاج بڑے تھے مگر محنت کش طبقہ بڑی حد تک غیر متحرک رہا تھا۔
منی ایپلس نے حکمران طبقے کے لیے ایک زیادہ خطرناک امکان کو ظاہر کیا ہے۔طبقاتی بنیادوں پر محنت کشوں کا متحد ہو کر عمل میں آنانسل اور قانونی حیثیت کی تقسیم سے بالاتر ہو کراور پیداوار روکنے اور شہر کے نظام کو مفلوج کرنے کی طاقت کا اظہار یہی وہ چیز ہے جسے کوقبول کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ نہ صرف ریپبلکن سخت گیر عناصر بلکہ ریاست کے منتظم کے طور پر ڈیموکریٹس کے کردار کو بھی چیلنج کرتاہے۔جیسے ہی کام رکنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ڈیموکریٹس احتجاج کے اتحادی بننے کے بجائے”معمول“کے محافظ بن جاتے ہیں۔ وہ”کشیدگی کم کرنے“کی بات کریں گے،”اشتعال انگیزی“کی مذمت کریں گے اور خود کو وہ ذمہ دار قوتیں ظاہر کریں گے جو تحریک کو حدود میں رکھتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ابھرتی ہوئی ہڑتالی حرکیات پورے نظام کے لیے ایک سیاسی چیلنج میں تبدیل نہ ہو سکیں۔
دونوں جماعتیں: نسل پرستی اور جبر کی محتاج
وفاقی جارحیت کو محض ٹرمپ کی اپنی بنیاد کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کہا جا سکتا یہ کلنٹن دور سے پالیسیوں کا تسلسل ہے۔یہ دراصل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے دور میں محنت کش طبقے کو نظم و ضبط میں رکھنا ہے جب مہنگائی کا دباؤ، بوسیدہ عوامی خدمات، پولوائرزیشن اور ایک عالمی صورتحال جو حریف سامراجی بلاکس کے درمیان کھلے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔نسل پرستی یکجہتی توڑنے اور توقعات گھٹانے کا سب سے پرانا ہتھیار ہے۔ یہ لوگوں کے درمیان نفرت اورالزام ترشی کو ہوا دیتی ہے اور کام کی جگہ پر تقسیم پیداکرتی ہے اور ریاست کو ایسے جابرانہ طریقے آزمانے کا موقع دیتی ہے جو بعد میں پورے سماج پر نافذ کر دیے جاتے ہیں۔
حکمرانی آہستہ آہستہ بوناپارٹسٹ طرز کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں پارلیمانی اور جمہوری عمل کو پسِ پشت ڈال کر فرمانوں کے ذریعے حکومت، مستقل ہنگامی اقدامات اور ریاستی طاقت خصوصاً پولیس کے عسکری استعمال کو معمول بنا دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ عوام کی رضامندی اور اخلاقی جواز کھو چکا ہے یعنی سماج میں رضامندی کا ایک گہرا بحران جنم لے چکا ہے۔
ایسے حالات میں جب انتہائی دائیں بازو کو سیاسی برتری یا پہل حاصل ہو جاتی ہے تو وہ اس فضا کو مزید اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا اظہار گلیوں اور محلّوں میں خوف اور دھونس کے ذریعے دباؤ ڈالنے، جارحانہ اور جابرانہ قوم پرستی کو ہوا دینے اور فاشزم سے مشابہہ سیاست کے ساتھ دانستہ یا نادانستہ قربت اختیار کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ یوں یہ رجحان سماج کو بتدریج زیادہ آمرانہ، جابرانہ اور خطرناک سمت میں دھکیل دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن ایک جیسے ہیں۔ ان کے بیانیے، مختلف سیاسی و سماجی قوتوں کو ساتھ رکھنے کے طریقے اور جارحیت کی رفتار میں فرق ہے لیکن ان کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے یعنی محنت کش طبقے کو منقسم رکھنا تاکہ ان کی حکمرانی برقرار رہے اور سماج کو ایک سخت تر دور کے لیے تیار کرناہے جس میں اندرونِ ملک کفایت شعاری، سامراجی مقابلہ اور اس سب کے ردِعمل کو سنبھالنے کے لیے جبرمیں اضافہ کیا جاتا ہے۔ایک ایسی تحریک جو طبقاتی بنیادوں پر محنت کشوں کو متحد کرے اور ہڑتال کی طاقت کی طرف قدم بڑھائے اس پورے ایجنڈے کو تہس نہس کردیتی ہے۔ اسی لیے امریکی اسٹیبلشمنٹ تیزی سے اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ اس ابھار کو قابو میں رکھا جائے۔یہ انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ اس خوف کا اظہار ہے کہ محنت کشوں کی سیاست نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
آگے کا راستہ
ایسی اجتماعی اور منظم سرگرمیاں درکار ہیں جو صرف علامتی احتجاج تک محدود نہ ہوں بلکہ عملی اثر ڈال سکیں یعنی کھلی میٹنگیں ہوں جہاں اجتماعی طور پر یہ طے کیا جائے کہ کیا اقدام کرنا ہے، منتخب کمیٹیاں ہوں جو مختلف جگہوں اداروں یا مقامات کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی قائم کر سکیں اور ایسے واضح اہداف مقرر کیے جائیں جو چھاپوں اور ملک بدری کے پورے نظام کی عملی صلاحیت کو براہِ راست نقصان پہنچائیں۔
ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے آنے والی نام نہاد”اچھے پولیس والی“جیسی پیشکشوں کو رد کیا جائے یعنی ایسی تحقیقات، کمیشنوں اور انکوائریوں کو قبول نہ کیا جائے جو بظاہر اصلاح کے دعوے تو کرتی ہیں مگر درحقیقت ریاستی جبر کے پورے ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھتی ہیں۔یہی طریقہ ماضی میں بھی استعمال کیا گیا جیسا کہ جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد پولیس ڈیپارٹمنٹ کو تحلیل کرنے کا جھوٹا اور فریبی اعلان کیا گیا مگر عملی طور پر نہ پولیس کا کردار بدلا اور نہ ہی جبر کا نظام ختم ہوا۔
اس کی قیمت پہلے ہی خون کی صورت میں ادا کی جا چکی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ آیا شہر کی محنت کش تحریک یکجہتی کے اس جذبے کو منظم، اجتماعی طاقت میں ڈھال پاتی ہے یا نہیں یا پھر یہ کہ اس جدوجہد کی پہلے بتدریج کمزور پڑ جائے، ریاست کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع ملے اور وہ اپنے ہی طے کردہ قواعد و شرائط کے تحت جبر اور کارروائیاں دوبارہ شروع کر دئے۔
منی ایپلس نے واضح کیا ہے کہ جب دسیوں ہزار لوگ ایک ساتھ متحرک ہوتے ہیں تو کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے مگر اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا اس اجتماعی جوش اور توانائی کو اس واحد جگہ پر منظم طاقت میں بدلا جاتا ہے جہاں سے چھاپوں کو واقعی روکا جا سکتا ہے یعنی کام کی جگہ پر جو اس پورے نظام کو چلاتی ہیں۔
