یومِ مئی: واحد راستہ انقلابی سوشلزم

Posted by:

|

On:

|

عالمی یومِ مزدور کے موقع پر انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (آئی ایس ایل) کا بیان

پینتیس سال پہلے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا بھر کے سرمایہ دار حکمران طبقوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اب انسانیت ایک ایسے دور میں داخل ہورہی ہے جہاں امن، خوشحالی اور ترقی کا راج ہوگا۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ دنیا تیزی سے بربریت، جنگوں، استحصال اورعدم استحکام کی طرف بڑھتی گئی۔ سرمایہ داری کا بحران آج محنت کش طبقےاورانسانیت کی اکثریت پر تباہ کن بوجھ بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد محنت کشوں نے جو سماجی حقوق اورمراعات حاصل کی تھیں انہیں ایک ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے۔ ماحولیات کو بے رحمی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ بنیادی جمہوری حقوق مسلسل حملوں کی زد میں ہیں جبکہ نسل پرستی، قوم پرستی اوررجعتی رجحانات دنیا بھر میں فروغ پا رہے ہیں۔ نوآبادیاتی جبرنئی شکلوں میں واپس آ رہا ہے جس کی بدترین مثال فلسطین میں جاری صہیونی بربریت ہے۔ پرانی اورنئی سامراجی طاقتیں دنیا کی منڈیوں، وسائل اور اثر و رسوخ کی تقسیم کے لیے ایک دوسرے سے برسرِپیکارہیں اوراسی کشمکش نے اسلحہ کی نئی دوڑاور تباہ کن جنگوں کو جنم دیا ہے۔ آج ٹرمپ، پوٹن اور نیتن یاہوسامراجی اورنوآبادیاتی جارحیت کی نمایاں علامتیں بن چکے ہیں۔

بائیں بازو کے وہ حلقے جو”ملٹی پولرازم” کو ٹرمپ ازم کے متبادل یا عالمی امن کی امید کے طور پر پیش کرتے ہیں درحقیقت حقیقت کو الٹا دیکھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف سامراجی طاقتوں کا وجود ہی جنگوں اورعالمی کشمکش کو جنم دیتا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکی سامراج نے پوری دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی مگر روسی سامراج کے دوبارہ ابھاراورخاص طور پرچین کے ایک نئی سامراجی طاقت کے طور پر سامنے آنے کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی زوال کا جواب ایک جارحانہ قوم پرستانہ پالیسی یعنی “امریکہ سب سے پہلے” کی صورت میں دیتا ہے۔ اس پالیسی کا مطلب سرمایہ دارانہ گلوبلائزیشن کے پرانے “کثیرالجہتی” ڈھانچوں سے علیحدگی، تجارتی جنگوں کا آغاز، امریکی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں(وینزویلا کے خلاف قزاقانہ حملے اور کیوبا کودی جانے والی دھمکیاں) اور مشرقِ وسطیٰ میں صہیونی ریاست پر انحصار کرتے ہوئے جارحانہ مداخلت اور دنیا کے مختلف خطوں کی بندربانٹ کے لیے دوسری سامراجی طاقتوں کے ساتھ طاقت کی بنیاد پر سودے بازی ہے جس میں یوکرین بھی شامل ہے۔ امریکہ اور یورپی سامراجی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اسی پالیسی کا اظہار ہے جبکہ جرمنی کی قیادت میں یورپ کی دوبارہ عسکری تیاری اسی کا نتیجہ ہے۔

اس عالمی سامراجی کشمکش میں کوئی بھی “اچھا سامراج” موجود نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسا سامراجی کیمپ ہے جس کا دفاع کیا جا سکے اور نہ ہی کوئی ایسی طاقت ہے جسے ترقی پسند کردار دیا جا سکے۔ تمام پرانی اور نئی سامراجی طاقتیں محنت کش طبقے اور محکوم قوموں کی دشمن ہیں۔ سبھی سامراجی قوتیں اقوام کے حقِ خود ارادیت کو پامال کرتی ہیں اور محکوم عوام کے حقوق کو محض سودے بازی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ فلسطین کے معاملے پر اقوامِ متحدہ میں روس اور چین کی جانب سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے نوآبادیاتی منصوبے پرغیر جانبداری اختیار کرنا تاکہ یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکہ سے رعایتیں حاصل کی جا سکیں اسی سفاک سامراجی سیاست کی ایک واضح مثال ہے۔

تمام سامراجی طاقتوں کی مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس محکوم قوم اورعوام کا غیرمشروط دفاع کیا جائے جو سامراجی جارحیت، قبضے یا حملے کا شکار ہوں چاہے حملہ آور سامراج کوئی بھی ہواورمتاثرہ عوام کی قیادت کیسی ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری تنظیموں کے برعکس آئی ایس ایل “دوہرا معیار” اختیار نہیں کرتی ہے۔ ہم فلسطینی عوام کا صہیونی نسل کشی کے خلاف غیر مشروط دفاع کرتے ہیں لیکن حماس کو سیاسی حمایت نہیں دیتے ہیں۔ ہم ایران کا صہیونی وامریکی جارحیت کے خلاف دفاع کرتے ہیں جبکہ ایرانی محنت کشوں اور نوجوانوں کے نقطۂ نظر سے وہاں کی مذہبی آمریت کے خلاف جدوجہد بھی کرتے ہیں۔ ہم لبنان پر اسرائیلی حملوں اور قتلِ عام کے خلاف ہیں مگر لبنانی حکومت اور حزب اللہ کی سیاسی حکمتِ عملی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ ہم روسی سامراجی جارحیت کے خلاف یوکرین کے دفاع اورمزاحمت کے حق کی حمایت کرتے ہیں لیکن زیلنسکی کی سرمایہ دار حکومت کی مخالفت اور ڈونباس کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ ہرجگہ ہم قومی آزادی کی جدوجہد کوسوشلسٹ انقلاب کے تناظرسے جوڑتے ہیں کیونکہ صرف سوشلزم ہی محکوم اقوام کی حقیقی آزادی اور حقِ خود ارادیت کی ضمانت دے سکتا ہے۔

فلسطین میں نسل کشی کے خلاف دنیا بھر میں ایک نئی نسل سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ یہی نسل امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ یورپی حکومتوں کی صہیونیت نواز پالیسیوں اور اسلحہ کی دوڑ کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اورافریقہ و ایشیا کے مختلف ممالک میں جابرانہ حکومتوں کے خلاف بغاوتوں میں حصہ لے رہی ہے۔ اس نئی نسل کی قیادت دوبارہ حاصل کرنا عالمی محنت کش طبقے کا ایک اہم تاریخی فریضہ ہے۔

عالمی محنت کش طبقہ ایک عظیم طاقت رکھتا ہے مگر اسے اپنی اجتماعی قوت کا شعور حاصل نہیں ہے۔ اس شعور کو سب سے زیادہ نقصان اس کی سیاسی اورٹریڈ یونین قیادتوں کی غداریوں اور ناکامیوں نے پہنچایا ہے۔ اس شعور کو بحال کرنا اور محنت کش طبقے کو ایک انقلابی پروگرام سے لیس کرنا دنیا بھر کے انقلابی مارکس وادیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اصلاح پسندی کا تاریخی دور بہت پہلے ختم ہو چکا ہے۔ پہلے جنگ کے بعد کے معاشی استحکام کے خاتمے کے ساتھ پھر سوویت یونین کے انہدام کے بعد اور آخرکار 2008ء کے عالمی سرمایہ دارانہ بحران کے بعد آج سامراجی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشمکش نے اصلاح پسندی کے تمام فریبوں کو دفن کر دیا ہے۔ پرانا اور نیا اصلاح پسند بایاں بازو چاہے وہ سانچیز ہو، لولا ہو یا لاطینی امریکہ کی بورژوا اور پیٹی بورژوا قوم پرست تحریکیں جو وقتاً فوقتاً سرمایہ داری میں اصلاحات کے خواب کو زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آ کر یہی حکومتیں محنت کش دشمن پالیسیاں نافذ کرتی ہیں۔ نام نہاد “ریڈیکل” بایاں بازو جو ان حکومتوں میں شامل ہوتا ہے شدید بحران اور پسپائی کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ اٹلی، یونان اور آج کے اسپین میں دیکھا جا سکتا ہے اوران ناکامیوں سے اکثر سب سے زیادہ فائدہ انتہائی رجعتی اور دائیں بازو کی قوتیں اٹھاتی ہیں۔

اسی لیے آج ضرورت ایک حقیقی انقلابی بائیں بازو کی ہے۔ انسانیت کے سامنے بنیادی سوال انقلاب یا رجعت، سوشلزم یا بربریت کا ہے۔ عالمی سطح پر متضاد قوتوں میں بڑھتی ہوئی تقسیم اسی بنیادی تضاد کی عکاس ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ محنت کش طبقے کو اس تاریخی فریضے کے مطابق منظم اورباشعور بنایا جائے۔ یہ کام صرف ایسا بایاں بازو کر سکتا ہے جو ناکام اصلاح پسندی، وزارتوں کی ہوس، آئینی فریبوں اور سامراجی سفارت کاری کی غلامی سے آزاد ہو۔ ایسا بایاں بازو جو ہر جدوجہد کو سرمایہ داری کے خاتمے اور محنت کشوں کی اپنی طاقت اورتنظیم پر مبنی مزدور حکومت کے قیام کے انقلابی مقصد سے جوڑے۔

انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ (آئی ایس ایل) دنیا بھر میں اسی انقلابی بائیں بازو اور ایک نئی انقلابی انٹرنیشنل کی تعمیر کے لیے سرگرم ہے جو محنت کش طبقے اور نوجوانوں کے سب سے لڑاکا اور باشعور حصوں کو منظم کرے۔ ایسی پارٹی کی تعمیر ایک مشکل مگر ناگزیر فریضہ ہے کیونکہ انسانیت کے بہتر مستقبل کا راستہ اسی سے ہو کر گزرتا ہے۔ دوسری تنظیموں کے برعکس ہم فرقہ وارانہ نعروں اور خود ساختہ دعوؤں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ہم مختلف انقلابی تنظیموں اوررجحانات کے درمیان ایک مشترکہ لیننسٹ پروگرام کی بنیاد پر صبر آزما انقلابی اتحاد کے حامی ہیں۔ اصولوں پر ثابت قدمی اور فرقہ واریت سے انکاریہی وہ طریقۂ کار ہے جس نے آئی ایس ایل کو دنیا کے چالیس ممالک اور تمام براعظموں تک پھیلایا ہے۔ یہی راستہ ہم دنیا بھر کے انقلابی مارکس وادیوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

تمام پرانی اور نئی سامراجی طاقتوں کے خلاف

تمام محکوم اقوام اور ان کی مزاحمت کے دفاع کی حمایت

عالمی سوشلسٹ انقلاب کے لیے

ایک نئی انقلابی انٹرنیشنل کی تعمیر کے لیے

Posted by

in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *