کشمیر:ریاستی جبر، قومی سوال،عوامی مزاحمت اور سوشلسٹ حل

Posted by:

|

On:

|

تحریر:شہزاد ارشد

پاکستان زیرانتظام کشمیرمیں ریاستی جبر و تشدد، گرفتاریوں، سیاسی انتقام، انٹرنیٹ کی بندش، خوراک و ادویات کی ناکہ بندی اورعوامی قیادت کو غدار ثابت کرنے کی منظم مہم جاری ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری اسی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے۔ان کو جس طرح گرفتار کیا گیا اور پورے علاقے میں خوفناک فائرنگ کی گی نیز گرفتاری کی ویڈیو جاری کی گی تاکہ خوف کو پھیلا کرتحریک کو روکا جائے۔یہ بنیادی جمہوری اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی گرفتاری نہیں بلکہ پوری عوامی تحریک کو خوف زدہ کرنے اور اس کی قیادت کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔

جس میں ریاست مکمل طور پر ناکام رہی اوردھرنے اور احتجاجات میں پہلے سے زیادہ تیزی آگی ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ تحریک کی جڑیں سماج میں کتنی گہری ہیں تمام ترریاستی جبراسے ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حتی کہ تحریک کے قیادت کے زبردستی ویڈیو بیانات جن میں وہ تحریک سے علیحدگی اوراس پر الزامات عائد کررہے ہیں اس کے باوجود تحریک کی وسعت اور گہرائی میں اضافہ ہوا ہے اوراس وقت راولاکوٹ شہر کے باہر جاری 5 دھرنوں میں ایک لاکھ سے زائد لوگ موجود ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

حکمران طبقہ کا پراپگنڈا

حکمران طبقے اورریاست کی طرف سے ان دھرنوں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے خلاف جھوٹا اور زہریلا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں تحریک پر بیرونی فنڈنگ اور اس کی قیادت پر را کے ایجنٹ اور پاکستان کے غدار ہونے اور دہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

صحافی ابصار عالم تو کھلے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر طالبان سے تعلقات اور دہشت گردی کے لیے ان سے تعاون کی بات کررہا ہے جس میں اس کے مطابق بھارت ملوث ہے اسی طرح کا پراپگنڈا دیگر صحافی بھی کررہے ہیں۔ نواز لیگ کا اہم راہنما اوروزیر دفاع خواجہ آصف کہا رہا ہے کہ راولاکوٹ اور میرپور کے لوگ تو کشمیری نہیں ہیں۔یہ وہی پراپگنڈا ہے جو بھارتی حکمران طبقہ اور دانشور دہائیوں سے کررہے ہیں۔ سالوں سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا پرچار کرنے والوں کی حقیقت اب کشمیری عوام کو عیاں ہورہی ہے۔حالیہ تحریک نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقات کا کشمیر کے ساتھ تعلق نوآبادیاتی ہے۔

عوامی مزاحمت کا نیا مرحلہ

راولاکوٹ کے دھرنے اس تحریک کے ارتقا میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئے ہیں۔ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے ریاستی تشدد نے احتجاج کو ایک طویل عوامی دھرنے میں تبدیل کر دیا۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات تک مزاحمت پھیل گئی۔

اس تحریک کی ایک غیر معمولی خصوصیت خواتین کی تاریخی شرکت ہے۔ پہلی مرتبہ ہزاروں خواتین نے گھروں سے نکل کر نہ صرف احتجاج میں حصہ لیا بلکہ تحریک کی سیاسی سمت پر بھی اثر ڈالا۔ اسی طرح نوجوانوں، طلبہ اور دیہی آبادیوں کی شرکت نے ثابت کیا کہ یہ محض چند رہنماؤں کی تحریک نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی بیداری کا اظہار ہے۔

یہ تحریک دہائیوں سے جاری معاشی لوٹ مار، مہنگائی، بے روزگاری، اشرافیہ کی مراعات، ریاستی بدعنوانی، سیاسی بے اختیاری اور قومی جبر کے خلاف عوام کے جمع ہوتے ہوئے غصے کا اظہار ہے۔ گزشتہ معاہدوں پر عملدرآمد نہ کرنا، عوامی مطالبات کو مسلسل نظر انداز کرنا اور پھر انہی مطالبات کو اٹھانے والوں پر گولیاں چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران طبقہ اپنے سیاسی بحران کا حل صرف جبر میں تلاش کر رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ ریاست کے جبر کی طبقاتی بنیاد

سرمایہ دار ریاست غیر جانبدارادارہ نہیں ہے۔ اس کا بنیادی کردارموجودہ معاشی اورطبقاتی نظام کا تحفظ کرنا ہے۔اسی لیے جب محنت کش عوام، نوجوان، طلبہ یا محکوم قومیں اپنے حقوق کے لیے منظم ہوتی ہیں تو ریاست کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، سندھ اورپنجاب میں مزدور تحریکوں پر حملے، خیبر پختونخوا میں سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات اورآج کشمیر میں گرفتاریاں، پابندیاں اورمحاصرہ دراصل ایک ہی ریاستی پالیسی کے مختلف اظہار ہیں۔

ریاست کا مقصد صرف ایک ہے کہ عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ اگر وہ منظم ہو کر اشرافیہ کے مفادات کو چیلنج کریں گے تو انہیں طاقت کے ذریعے خاموش کر دیا جائے گا۔اس جبر و تشدد کا مقابلہ محنت کش عوام کے اجتماع کی قوت سے ہی کیا جاسکتا ہے جو وہ اپنی تحریک میں تعمیر کرتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہو تو اس بات کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے کہ ریاست تحریک کو کچلا دئے یا پیچھے ہٹنے پر مجبور کردئے۔

کشمیر کا قومی سوال

کشمیر کی موجودہ تحریک قومی سوال کو طاقت ور انداز میں سامنے لائی ہے اس نے واضح کیا ہے کہ قومی سوال کو محدود خودمختاری یا انتظامی تبدیلیوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور بھارت دونوں سرمایہ دار ریاستوں نے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران کشمیر کو اپنے اپنے حکمران طبقات کے اسٹریٹجک، فوجی اور معاشی مفادات کے تابع رکھا ہے۔ دونوں ریاستیں اپنے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو عملاً پامال کررہی ہیں اگرچہ دونوں اپنے جبر کو مختلف سیاسی نعروں اور سفارتی بیانیوں کے ذریعے جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا غیر مشروط حق حاصل ہے یہ حق کسی ریاست، فوج، عدالت یا بین الاقوامی طاقت کی عطا کردہ رعایت نہیں بلکہ کشمیری عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے جسے کسی شرط یا مصلحت کے ساتھ مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم انقلابی سوشلسٹ اس حقیقت کو بھی واضح کرتے ہیں کہ قومی آزادی کا سوال سرمایہ دار طبقے یا سامراجی طاقتوں کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کی قومی آزادی کی جدوجہد کو محنت کش طبقے کی قیادت میں سرمایہ دارانہ نظام، قومی جبر اورسامراجی مداخلت کے خلاف انقلابی جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہمارا مقصد ایک نئی سرمایہ دار ریاست کا قیام نہیں بلکہ پورے خطے میں محنت کش عوام کی انقلابی طاقت کے ذریعے ایسی رضاکارانہ سوشلسٹ کنفیڈریشن کی تعمیر ہے جس میں ریاست جموں و کشمیر میں موجود تمام اقوام سمیت دیگرتمام قومیں مکمل برابری اور حقِ خود ارادیت کی بنیاد پر شریک ہوں۔

اسی تناظر میں کشمیر کی موجودہ تحریک کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اسے نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پاکستان کی دیگر محکوم قومیتوں اور ترقی پسند عوامی تحریکوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ بلوچستان یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ، گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کی تحریک، سندھ اور سرائیکی وسیب میں قومی و جمہوری حقوق کی جدوجہد نیز ملک بھر کی مزدور، کسان اور طلبہ تحریکیں، سب مختلف شکلوں میں ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، معاشی استحصال اور قومی محکومی کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔

یہ اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان کا سرمایہ دارانہ وفاق ایک گہرے سیاسی، معاشی اور قومی بحران سے دوچار ہے۔ اسی لیے کشمیر کی تحریک کو کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے بلوچستان، پختونخوا، سندھ، گلگت بلتستان، سرائیکی وسیب اور پاکستان بھر کے محنت کش طبقے کے ساتھ ایک متحدہ محاذ تشکیل دینا چاہیے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم قائدین جیسے جے کے ایل ایف کے راہنما امان اللہ نے واضح طورپرایک متحدہ جدوجہد کی اپیل کی ہے جس میں انہوں پاکستان بھر کے محنت کشوں اور مظلوم اقوام سے کہا ہے کہ وہ اس ظالم اشرافیہ کے خلاف جدوجہد کریں۔

ہم اس تصور کو مسترد کرتے ہیں کہ قومی سوال کو طبقاتی جدوجہد کے بعد تک مؤخر کیا جا سکتا ہے یا طبقاتی جدوجہد کو قومی سوال سے الگ رکھا جا سکتا ہے۔ مارکسی نقطۂ نظر سے دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ قومی جبر کے خلاف جدوجہد اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف جدوجہد ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ اسی لیے ہم ہر محکوم قوم کے حقِ خود ارادیت کا غیر مشروط دفاع کرتے ہوئے تمام قومیتوں کے محنت کش عوام کی انقلابی یکجہتی کی حمایت کرتے ہیں۔

کشمیر کی موجودہ تحریک اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہ تحریک اپنی عوامی، طبقاتی اور جمہوری بنیادوں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ محلے اور کام کی جگہ پرعوامی کمیٹیوں کی تشکیل کو فروغ دیتی ہے اوران کو باہم منسلک کرتی ہے اور پورے خطے کے محنت کشوں اور محکوم قومیتوں سے عملی اتحاد استوار کرتی ہے تو یہ نہ صرف کشمیر بلکہ پورے برصغیر میں سرمایہ دارانہ جبر اور قومی محکومی کے خلاف ایک نئے انقلابی دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

تحریک کے مسائل

تحریک کی قیادت پر زور دیا جائے کہ تحریک کے تمام فیصلےعوام کی جمہوری مشاورت ہوں۔عورتوں، نوجوانوں اور محنت کش طبقے کی نمائندگی کو مضبوط بنایا جائے اور نچلی سطح پر موجود کمیٹیوں کو منظم کرتے ہوئے ان کو باہم منسلک کیا جائے۔جہاں یہ کمیٹیاں جمہوری طورسیاسی اور معاشی پروگرام طے کریں۔

دھرنے، عوامی اجتماعات اور مقامی کمیٹیوں کو محض احتجاجی مراکز کے بجائے سیاسی تعلیم، تنظیم سازی اوراجتماعی فیصلہ سازی کے مراکز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آگے کا راستہ

کشمیر کی موجودہ عوامی تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ جب محنت کش عوام، نوجوان، خواتین اور محکوم طبقات منظم ہوتے ہیں تو ریاستی جبر بھی ان کی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکتا۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف بہادری، قربانی اورمسلسل احتجاج اپنے آپ میں فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اگر تحریک کے پاس واضح انقلابی پروگرام، جمہوری تنظیم اور طبقاتی قیادت موجود نہ ہو تو حکمران طبقہ یا تو خونریز جبر کے ذریعے اسے کچل دیتا ہے یا مذاکرات، اصلاحات اور انتخابی وعدوں کے ذریعے اسے بے اثر بنا دیتا ہے۔

اسی لیے اس تحریک کا اگلا مرحلہ محض احتجاج کو جاری رکھنا نہیں بلکہ عوامی طاقت کو منظم سیاسی طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔ ہر دھرنے، قصبے، گاؤں، تعلیمی ادارے اور کام کی جگہ پر منتخب عوامی ایکشن کمیٹیاں قائم کی جائیں جو مقامی سطح پر تمام فیصلے جمہوری انداز میں کریں اورمرکزی سطح پر جوائینٹ ایکشن کمیٹی کے ذریعے باہم مربوط ہوں۔ یہی ادارے مستقبل میں عوامی اقتدار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

موجودہ سرمایہ دارانہ ریاست کے انتخابات عوام کو حقیقی اختیار منتقل نہیں کرتے بلکہ حکمران طبقے کی بالادستی کو نئے جواز فراہم کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہم ایک انقلابی آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ کرتے ہیں جو عوامی کمیٹیوں کے جمہوری کنٹرول میں منتخب ہو جہاں محنت کش، کسان، خواتین، نوجوان اورمحکوم طبقات کے نمائندے اپنے پروگرام کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں اورمحنت کشش عوام اپنی جدوجہد سے سیکھتے ہوئے۔اس سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرکے محنت کش عوام کی حکومت قائم کرسکتے ہیں۔

لیکن یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ قومی آزادی، جمہوری حقوق اور سماجی انصاف سرمایہ دارانہ نظام کے اندر مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ یہی نظام قومی جبر، استحصال، نجکاری، مہنگائی، بیروزگاری اور جنگوں کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے کشمیرکی آزادی کی جدوجہد کو پورے خطے میں سرمایہ داری، سامراج اور قومی جبر کے خلاف محنت کش طبقے کی مشترکہ انقلابی جدوجہد سے جوڑنا ناگزیر ہے۔

آج پاکستان، بھارت اور پورا جنوبی ایشیا گہرے معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف کی مسلط کردہ معاشی پالیسیاں، نجکاری، بیروزگاری، مہنگائی، صحت و تعلیم پر حملے اور فوجی اخراجات پورے خطے کے محنت کش عوام پر ایک جیسے حملے ہیں۔ یہی مشترکہ بحران محنت کشوں، کسانوں، نوجوانوں اور محکوم قومیتوں کی مشترکہ جدوجہد کی مادی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اسی لیے کشمیر کی موجودہ تحریک کو بلوچستان، سندھ، پختونخوا، گلگت بلتستان، سرائیکی وسیب، پاکستان اور بھارت کے محنت کش عوام، کسان تحریکوں، طلبہ تحریکوں اور ترقی پسند قومی تحریکوں کے ساتھ عملی یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔ یہی اتحاد سرمایہ دارانہ ریاستوں کی تقسیم، نفرت اور قوم پرستی کی سیاست کا حقیقی متبادل ہے۔

اس جدوجہد کی فیصلہ کن شرط ایک ایسی انقلابی سوشلسٹ پارٹی کی تعمیر ہے جو روزمرہ کے عوامی مطالبات کو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد سے جوڑ سکے، تحریک کے اندر جمہوری مباحث کو فروغ دے، محنت کش طبقے کی قیادت کو مضبوط کرے اور اقتدار کو سرمایہ دار اشرافیہ سے چھین کر محنت کش عوام کے منتخب اداروں کے حوالے کرنے کی جدوجہد منظم کرے۔

ریاستی جبر کا مستقل خاتمہ صرف حکومتوں کی تبدیلی سے نہیں بلکہ پورے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے ممکن ہے۔ ہمارا مقصد ایک ایسی رضاکارانہ سوشلسٹ کنفیڈریشن کی تعمیر ہے جس میں ریاست جموں و کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کی تمام قومیں مکمل برابری، حقِ خود ارادیت اور محنت کش عوام کی جمہوری حکمرانی کی بنیاد پر شریک ہوں۔ یہی راستہ قومی آزادی، سماجی انصاف، حقیقی جمہوریت اور انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

ہمارا مؤقف

 شوکت نواز میر سمیت تمام گرفتار سیاسی کارکنان کو فوری طور رہا کیا جائے۔

 تمام جھوٹے مقدمات کو ختم کیا جائے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

 انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع کی فوری بحالی، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی آزادانہ ترسیل اور ریاستی جبر کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے قومی، جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق تسلیم کیے جائیں۔

کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو غیر مشروط تسلیم کرو۔

ریاست جموں و کشمیر میں دونوں اطراف سے غیر ملکی افواج اورنیم فوجی دستے واپس جائیں۔

بلوچستان، پختونخوا، سندھ، گلگت بلتستان اور تمام محکوم قومیتوں پر ریاستی جبر بند کرو۔

Posted by

in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *