ایران اسرائیل جنگ،سامراج مخالفت اور لیفٹ کی معیشت پسندی

Posted by:

|

On:

|

,

تحریر:شہزاد ارشد

اسرائیل اور امریکہ کے مطابق ان کی جانب سے ایران پر حملے کی  وجہ اس کی جوہری صلاحیت تھی مگریہ ایک سراسر جھوٹا دعویٰ تھا۔ متعدد ذرائع بشمول امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ واضح کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں سرگرم نہیں ہے اور اسے یہ صلاحیت حاصل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل کی بڑے پیمانے پرفضائی کارروائیوں میں سرکاری نشریاتی اداروں، ہسپتالوں، اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا اور اہم فوجی کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا۔یہ واضح کرتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تباہی ان کا اصل مقصد نہیں تھا۔ تہران اور دیگر شہروں کے شہریوں کو انخلا کی ترغیب دینا بھی اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ صرف اصل مقاصد کو چھپانے کے لیے ایک بہانہ تھا۔ ان کا اصل مقصد ایران کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر مزید کمزور کرنا اور اگر ممکن ہو تو ایک مغربی حامی حکومت قائم کرنا تھا۔ درحقیقت اس پوری جنگ کا مقصد صیہونی نسل کشی، فلسطین پر قبضے، شام میں اسرائیلی توسیع اور مشرق وسطیٰ پر مغربی بالادستی کے راستے میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو ہٹانا تھا۔

اس مقصد کے حصول کے لیے اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے خلاف ایک جارحانہ جنگ شروع کی تھی۔ امریکہ بھی اس بمباری میں شریک تھا جبکہ برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپی یونین نے بھی اس حملے کی مکمل حمایت کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکی اور یورپی سامراج کا ایک چوکیدار ہے جو ان کے جغرافیائی اور اقتصادی مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ اگرچہ ان ممالک میں اس وقت مکمل اتفاق رائے نہیں لیکن اسرائیل کی حمایت ان کی ریاستی پالیسی کا ایک بنیادی جزو ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی فتح دراصل صیہونی ریاست اور اس کے مغربی سامراجی اتحادیوں کی مشترکہ جیت تھی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایران جو پہلے ہی پابندیوں سے کمزور ہو چکا تھا۔ حملہ آوروں کی کہیں زیادہ طاقتورفورسزکا مقابلہ نہیں کر سکا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ برابر کے فریقوں کے درمیان نہیں تھی بلکہ ایک ایسی نیم نوآبادی کے خلاف تھی جو ایک مضبوط علاقائی طاقت بننے کی خواہشات کے باوجود کسی بھی طرح سامراج اور اس کے حامیوں کے مقابلے میں کھڑی نہیں ہو سکی۔

یکساں رجعت پسند سرمایہ دارانہ ریاستیں

ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے بائیں بازو کے اندر خاصہ کنفیثون پایا جاتا ہے۔ وہ اسرائیلی جارحیت کی تو مخالفت کرتے ہیں لیکن ایران کے دفاع کے حق کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی مزاحمت کی حمایت کا مطلب ملائیت کی حمایت ہے جس کے ہاتھ خواتین، کردوں اور کمیونسٹوں کے خون سے رنگے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایرانی حکومت حقیقی معنوں میں سامراج مخالف نہیں ہے۔ اس درست مشاہدے سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انقلابیوں اور محنت کش طبقے کو سامراجی حملے کے خلاف ایران کے دفاع کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔

بائیں بازو کا ایک حصہ یہ دلیل دیتا ہے کہ اسرائیل اور ایران دونوں سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں لہٰذا یہ حکمران طبقے کے درمیان جنگ ہے اور کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایران کی حمایت کیسے کر سکتا ہے کیونکہ یہ تنازع  دو یکساں رجعت پسند ریاستوں کے درمیان علاقائی بالادستی کی لڑائی ہے۔

یہ سچ ہے کہ ایران ایک سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس کے علاقائی عزائم ہیں لیکن اس کی معیشت اور سیاسی صورتحال واضح طور پر یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ کسی بھی طرح کی سامراجی طاقت نہیں ہے۔ اس کی بجائے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں اس کی پوزیشن ایک نیم نوآبادی کی ہے۔ ان کا نکتہ نظر سرمایہ داری کو ایک ہموار نظام سمجھتا ہے جہاں تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں برابر ہوتی ہیں اور یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر سامراجیت کے کنٹرول اور استحصال کو نظر انداز کرتا ہے۔

ایسے نظام میں ایک نیم نوآبادی کا حکمران طبقہ اپنے ملک میں بھی آزادانہ حکومت نہیں کرپاتا ہے۔ لینن اپنی تصنیف “سامراج” میں کہتا ہے کہ مظلوم اور ظالم اقوام کے درمیان تقسیم سرمایہ داری کے اس عہد کی ایک بنیادی اور لازمی خصوصیت ہے۔آج یہ تعلق سیاسی طور پر نوآبادیاتی عہد  سے مختلف ہے جو لینن کے عہد میں عام تھا  موجودہ عہد میں یہ نیم نوآبادی کی ایک شکل میں ہے۔ لیکن عالمی سامراج کا معاشی اور سیاسی نظام،بشمول محنت کی عالمی تقسیم اس نظام میں مختلف ریاستوں کی پوزیشن کا تعین کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ملک نیم نوآبادی سے سامراجی طاقت میں نہیں بدل سکتا ہے ہم چین کو دیکھ سکتے ہیں جو آج ایک عالمی سامراجی طاقت بن گیا ہے  لیکن اس کے لیے حقیقی سیاسی، اقتصادی اور فوجی ترقی کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی تمام تر خصوصیت کے ساتھ ہم روس اور چین میں دیکھ سکتے ہیں۔

کیا ایران ایک سامراجی طاقت ہے؟

بائیں بازو کا ایک حصہ یہ کہتا ہے کہ اس جنگ کی جڑیں اسرائیل اور ایران کے درمیان علاقائی طاقت اور اثر و رسوخ کے مقابلے میں ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس دشمنی کی وجہ سے ایران بھی اسرائیل کی طرح ایک چھوٹی سامراجی طاقت ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران کے علاقائی عزائم ہیں لیکن یہ کوئی غالب قوت نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسرائیل اور عرب ریاستوں کی مخالفت میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے اور ایران کو  سخت بین الاقوامی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ اس نے بشار الاسد کی جابرانہ حکومت کی حمایت کی تھی لیکن وہ حکومت دسمبر میں ختم ہو گئی اور اب ایران کا وہاں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔ اسی طرح اگرچہ ایران کو عراق میں حمایت حاصل ہے لیکن وہاں بھی اس کا کوئی غالب کردار نہیں ہے۔

ایران کی معیشت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک سامراجی ریاست نہیں ہے۔ ایک سامراجی ریاست عام طور پر ایک طاقتور معیشت اور فوجی قوت رکھتی ہے جو اسے دوسرے ممالک پر حاوی ہونے اور ان کا استحصال کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تاہم ایران کی اقتصادی پسماندگی کی بنیادی وجہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں اس کی نیم نوآبادی کی حیثیت ہے جس کی وجہ سے اسے سنگین اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ تیل کی فروخت کے لیے چینی سامراج پر انحصار کرتا ہےاور تیل کو مارکیٹ کی قیمتوں سے بھی کم پر فروخت کرتا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس کی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایران کی برآمدات بنیادی طور پر خام مال پر مشتمل ہیں جس میں قدرتی گیس، تیل اوراس سے متعلقہ مصنوعات کے علاوہ ان میں لوہا، سٹیل اور پلاسٹک شامل ہے۔

عالمی سرمایہ داری میں ایران کی پوزیشن

ایران کی صنعتی بنیاد کمزوراورتنزلی کا شکار ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں حکومت پیداوار کے تکنیکی ڈھانچے کو جدید بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بورژوازی کے لیے تجارت اہم شعبہ ہے اور وہ ایرانی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے کرنسی کی خریدوفروخت یا ترکی جیسے ممالک میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرکے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق ایرانی جی ڈی پی 2010 میں 644 بلین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھی جو 1990 کی دہائی اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں معیشت کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے بعد سے اس میں گراوٹ آئی ہے۔ 2024 میں یہ کم ہو کر 437 بلین امریکی ڈالر ہو گئی تھی (2020 میں کوویڈ کے نتیجے میں جی ڈی پی میں بڑی کمی ہوئی تھی)۔ 2023 میں اس کی جی ڈی پی آئی ایم ایف کے مطابق 41ویں نمبر پر تھی جو ملائیشیا، مصر، کولمبیا، رومانیہ یا پاکستان جیسی تھی (لیکن ترکی، سعودی عرب، ارجنٹائن، تائیوان اور حتیٰ کہ اسرائیل یا متحدہ عرب امارات سے نمایاں طور پر چھوٹی تھی)۔ 2024 میں ایران کا فی کس جی ڈی پی تقریباً $4,771.40 تھا جو 2023 میں عالمی سطح پر 123 ویں نمبر پر تھا۔ یہ واضح طور پر معیشت کی نیم نوآبادی حالت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کا زوال عوام کی آمدنی میں کمی اور بڑے پیمانے پر نوجوانوں اورعورتوں میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری میں ظاہر ہوا ہے۔ ایرانی حکومت اندرونی طور پر ظالم وجبر پر مبنی ہے یہ قومی اقلیتوں پر منظم جبر کرتی ہے۔ یہ ملائیت کے رجعت پسندانہ کردار کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس سے یہ ملک  سامراجی نہیں بناتا ہے اگر یہی کسی ملک کو سامراجی بنانے کا معیار ہوتا تو اس دنیا کے بیشتر نیم نوآبادی ممالک جن میں سے کچھ بہت زیادہ غریب اور بحران زدہ بھی ہیں ان کو بھی سامراجی ممالک کہا جاسکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ایران ایک نیم نوآبادی ہے۔

جنگ کی اصل نوعیت

اسرائیل ایک آباد کارنوآبادیاتی ریاست ہے جو فلسطینیوں کو بے دخل کرکے قائم کی گئی۔ یہ اپنے قیام کے بعد سے عرب ریاستوں کے ساتھ جنگ میں ہے اور شام اور لبنان کے علاقوں پر قابض ہے۔ اسرائیل کو مغربی طاقتوں سے زبردست حمایت حاصل ہے اور اسی فوجی امداد کی بدولت غزہ میں جاری نسل کشی ممکن ہے۔ تاہم اسرائیل اب ماضی کی طرح مغرب پر معاشی طور پر منحصر نہیں ہے۔ مغربی امداد نے اسرائیل کو معاشی طور پر ترقی کرنے کا موقع دیا خاص طور پر ٹیکنالوجی اور فوجی صنعتوں میں جہاں کافی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں مغربی سامراج کے لیے ایک چوکیدارکا کردار ادا کرتا ہے لیکن اب وہ زیادہ آزادانہ علاقائی فیصلے بھی کرتا ہے۔

اسی طرح گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی سامراج نے افغانستان، عراق، اور لیبیا پر حملے کیئے ہیں اور اب بھی ان اور خطے کے دیگر ممالک میں اس کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ کوئی بھی جو اس جنگ کو محض دو ریاستوں کے درمیان علاقائی بالادستی کی جدوجہد کے طور پر دیکھتا ہے وہ بنیادی طور پر اس صورتحال کو غلط سمجھتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس خطے کو کنٹرول کرتے ہیں اور اپنے راستے میں ہر رکاوٹ کو مٹا دیتے ہیں جبکہ ایران مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے۔

بائیں بازو کی معیشت پسندی

امریکہ اور اسرائیل کی فتح نےایرانی حکومت کو کمزورکیا ہے بلکہ اس نے ایران سمیت تمام ممالک میں محنت کش طبقے اور مظلوموں کی جدوجہد کو بھی نقصان پہنچایاہے۔ کیونکہ انہیں ایک زیادہ طاقتور عالمی طور پرغالب دشمن کا سامنا ہے۔

جب سامراج ایک نیم نوآبادی پر حملہ کرتا ہے تو یہ کہنا کہ ہم کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کریں گےاور صرف مزدوروں کی سیاست اور انقلاب ہی جنگوں، نسل کشی اور صیہونیت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس جنگ کے حقیقی کردار کو سمجھنےمیں ناکامی اور معیشت پسندی ہے۔جو سامراجی حملے میں انقلابیوں کو لاتعلق کردیتی ہے۔ اس لیے یہ دلیل دینا کہ صرف ایک مزدور انقلاب ہی سامراجیت کو روک سکتا ہے مارکسی نکتہ نظر سے غلط ہے بلکہ یہ معیشت پسندی یا سامراجی معیشت پسندی ہے جس کے خلاف لینن اور بالشویکوں نے سیاست کی اور انہوں نے روس میں ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی بنائی تھی۔

معیشت پسندی مارکسزم کا رد ہے۔ یہ مزدور طبقے کو ایک سامراجی بحران اور جنگ کے دوران مظلوموں کا ساتھ دینے سے روکتی ہے صرف اس لیے کہ ہماری سیاست سرمایہ داری کے خلاف ہے اور حکمران طبقے کی حمایت نہیں کی جاسکتی ہے یہ طریقہ کار سامراج مخالفت کو ملاؤں اور دیگر بورژوا یا پیٹی بورژوا قوتوں پر چھوڑ دیتا ہے جو سامراج یا سرمایہ کے ساتھ تنازع میں ہوتے ہیں اس طرح یہ انقلابی سیاست کو لاتعلق بنا دیتی ہے۔ یہ  موقف سرمایہ داری اس کی جنگوں اس کے جبراور جمہوری مطالبات (بشمول قومی آزادی) کی جدوجہد اور سوشلزم کی جدوجہد کے درمیان تعلق کے بارے میں معیشت پسندی کے نکتہ نظر سے پیدا ہوتا ہے اس کا مارکسزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامراجی دور میں جنگوں اور ریاستی تنازعات میں سامراج مخالف موقف اختیار کرنا انقلابی جدوجہد کی تعمیر کے لیے بہت اہم ہے۔

ٹراٹسکی نے 1930 کی دہائی میں چینی حکومتی افواج کی جاپانی سامراجی حملے کے خلاف حمایت کی تھی یہ اس کے باوجود تھا کہ اس کی قیادت چیانگ کائی شیک کر رہا تھے جس نے 1920 کی دہائی کے آخر میں 250,000 چینی کمیونسٹوں کا قتل عام کیا تھا۔

ٹراٹسکی نے 1938 میں برازیل کے بارے میں یہ موقف بہت واضح طور پر بیان کیا تھا۔

برازیل میں اس وقت ایک نیم فاشسٹ حکومت ہے جسے ہر انقلابی صرف نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم فرض کریں کہ کل برطانیہ کا برازیل کے ساتھ فوجی تنازع  ہوتا ہے۔ تومیں آپ سے پوچھتا ہوں اس تنازع میں محنت کش طبقہ کس کے ساتھ ہوگا؟ میں ذاتی طور پر اپنے لیے جواب دوں گا اس صورت میں میں “فاشسٹ” برازیل کے ساتھ اور “جمہوری” برطانیہ کے خلاف ہوں گا۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے درمیان تنازع میں جمہوریت یا فاشزم کا سوال نہیں ہے۔ اگر برطانیہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ ریو ڈی جینیرو میں ایک اور فاشسٹ مسلط کرے گا اور برازیل پر دوہری زنجیریں ڈال دے گا۔ دوسری صورت میں اگر برازیل کامیاب ہوتا ہے تو یہ ملک کے قومی اور جمہوری شعور کو ایک زبردست تحریک دے گا اور وارگاس کی آمریت کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ برطانیہ کی شکست اسی وقت برطانوی سامراج پر ایک کاری ضرب لگائے گی اور برطانوی پرولتاریہ کی انقلابی تحریک کو ایک نئی توانائی دے گی۔ واقعی عالمی دشمنیوں اور فوجی تنازعات کو فاشزم اور جمہوریت کے درمیان جدوجہد تک محدود کرنے کے لیے ایک خالی دماغ ہونا ضروری ہے۔ ہر نقاب کے پیچھے استحصال کرنے والوں، غلاموں کے مالکوں، اور ڈاکوؤں کو پہچاننا آنا چاہیے۔

کیا ایران کی پراکسیز جنگ کی وجہ ہیں؟

جب بائیں بازو میں ایران کو سامراجی ملک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس کا ایک جواز حزب اللہ، حماس، اور حوثیوں کا دیا جاتا ہے یعنی محور آف مزاحمت یہ کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ تاہم حقیقت میں یہ تنظیمیں اسرائیلی جارحیت کے دوران قومی مزاحمتی تحریکوں کے طور پر ابھریں ہیں۔ حالانکہ وہ واقعی ایرانی اتحادی ہیں لیکن وہ محض پراکسیز نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر حماس اس وقت فلسطینی مزاحمت کی واحد علامت ہے جو اسرائیل کے قتل عام کے خلاف لڑ رہی ہے۔ حزب اللہ لبنان میں ایک اہم قوت ہے کیونکہ اس نے اسرائیلی جارحیت کی کامیابی سے مزاحمت کی۔ یمن میں حوثی باغی 2015 سے سعودی عرب کی بیرونی جارحیت کا کامیابی سے مقابلہ کر رہے ہیں اور آخر میں یہ بہت واضح ہے کہ ایرانی حکومت گزشتہ سالوں میں اپنے “پراکسیز” کا دفاع کرنے کے لیے تیار یا اہل نہیں تھی بلکہ وہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی حقیقی تنازع سے بچنا چاہتی تھی۔ یہ دراصل اسرائیل تھا جس نے ایران کے ساتھ ساتھ شام اور حزب اللہ پر حملہ کیا باوجود اس کے کہ وہ سب درحقیقت فلسطینیوں کا دفاع نہیں کررہےتھے۔

چین اور روس کا ایران کے ساتھ تعلق

بائیں بازو میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ سامراجی تضادات کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس اور چین کے ایک اتحادی کو کمزور کیا ہے لیکن یہ اسرائیلی حملے کی وجہ نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی ملاؤں کو اپنے “سامراجی اتحادیوں” روس اور چین سے کوئی خاص مادی امداد نہیں ملی ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ انہوں نے صیہونی اور امریکی حملوں پر تنقید کی اور جنگ بندی اور امن مذاکرات کا مطالبہ کیا لیکن دونوں ممالک نے اپنے اتحادی کی مکمل حمایت کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اندرایران کی نیم نوآبادی کی حیثیت کو مزید اجاگر کرتا ہے جہاں چین اور روس کا ایران کے ساتھ تعلق انتہائی استحصال پر مبنی ہے۔

روس کے لیےامریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا اور یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں آزادانہ کارروائی کرنا نیز اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ایران کی خاطر اس سب کو خطرے میں ڈالنے سے زیادہ اہم تھا۔ اسی طرح چین بھی امریکہ کے ساتھ ایک اور تنازع کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا ہے۔ دونوں بڑی طاقتوں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب یہ ان کا مفاد خطرے میں ہوگا تو وہ انہیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چھوڑ دیں گے۔

ایران عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ایک نیم نوآبادی ہے جو ایک سامراجی جنگ کا سامنا کر رہی ہے۔ لہذا ایرانی ملاؤں کے رجعت پسند اور انقلاب مخالف کردار کے باوجود ہم اس جنگ میں ایران کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ ایرانی اور کرد عوام کے براہ راست مفاد میں ہے کہ وہ سامراجیت کے خلاف ایران کا دفاع کریں لیکن ایک لمحے کے لیے بھی اپنی قومی آزادی، جمہوریت اور طبقاتی آزادی کے لیے اپنی جائز جدوجہد کو نہ چھوڑیں۔ جنگ کے دوران انہیں حملہ آور سامراجی قوتوں کے خلاف ایک عسکری متحدہ محاذ بنانے کی تجویز دینی چاہیے۔ عملی طور پر اس کے لیے حکومت کو ترقی پسند قوتوں کے خلاف تمام جبر کو روکنے کی ضرورت ہوگی۔

انقلابی قوتوں کے خلاف حکومت کے اقدامات سے قطع نظر جب تک جنگ جاری ہے سامراجیت ہی بنیادی دشمن ہے۔ محنت کشوں اور کسانوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے جنگ کے دوران اندر سے قوتوں کو تیار کرنا چاہیےہے۔ سامراج کے ساتھ جنگ کے دوران اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک مسلح بغاوت کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بنیادی دشمن یعنی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف فوجی فتح کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے ہے۔

Posted by

in

,