تحریر:شہزاد ارشد
گزشتہ چند مہینوں کے دوران ایرانی کرنسی کی تیز گراوٹ نے پہلے سے موجود سنگین معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بے قابو مہنگائی، روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ، حقیقی اجرتوں کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر اور وسیع پیمانے پر بیروزگاری نے محنت کشوں، طلبہ، اساتذہ اور پنشنرز کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔
اسی کے ساتھ ایران ایک شدید آبی بحران سے بھی دوچار ہے۔ نومبر 2025 کے اوائل میں صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا تھا کہ اگر بارشیں نہ ہوئیں تو تہران میں پانی کی راشننگ اور حتیٰ کہ شہریوں کے انخلاء تک کی نوبت آ سکتی ہے۔ یہ انتباہ دہائیوں پر محیط معاشی بدانتظامی اور بالخصوص غیر سائنسی و غیر پائیدار آبی پالیسیوں کا عکاس ہے۔
یہی مادی حالات 2022 کی”عورت، زندگی، آزادی“تحریک کے بعد ایک نئی ملک گیر بغاوت کے ابھرنے کا باعث بنے ہیں۔ دسمبر 2025 کے اواخر سے ایرانی معاشرے میں جمع ہونے والا غصہ، محرومی اور بے چینی ایک بار پھر لاوے کی طرح پھٹ پڑی ہے۔
عوامی بغاوت کی وسعت: بازار سے سڑکوں تک
حالیہ احتجاجی لہر کا آغاز اتوار 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار سے ہواجہاں تاجروں نے اپنی دکانیں بند کر کے سڑکوں پر مارچ کیا اور نعرہ لگایا”سب کچھ بند کر دو“
جو تحریک ابتدا میں گرتے ہوئے معیارِ زندگی کے خلاف ایک معاشی ردِعمل تھی وہ تیزی سے ملائیت کے خلاف ایک کھلے سیاسی چیلنج میں تبدیل ہو گئی۔
انٹرنیٹ کی بندش اور سخت سنسرشپ کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاجات ایران کے تمام 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ 12 جنوری 2026 تک ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے اندازوں کے مطابق دس ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ کم از کم 580 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار دونوں شامل ہیں۔ مواصلاتی بندش کے باعث ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہے اور خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ احتجاج صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے بلکہ چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک پھیل گئے ہیں جہاں گلیوں اور چوراہوں میں ”ڈکٹیٹر مردہ باد“کے نعرے گونج رہے ہیں۔ یہ نعرے اس مذہبی آمریت کے خلاف ہیں جو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے مذہب کے پردے میں سرمایہ دارانہ استحصال، ریاستی جبر اور نظریاتی آمریت کو مسلط کیے ہوئے ہے۔
محنت کشوں اور خواتین کی جدوجہد
سخت ریاستی جبر کے باوجود محنت کشوں کی ہڑتالیں برسوں سے خصوصاً تیل، گیس، پیٹروکیمیکل، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت جیسے کلیدی شعبوں میں جاری ہیں۔ اساتذہ، نرسیں اور پنشنرز بار بار ریاستی معاشی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔ صرف جنوری سے ستمبر 2025 کے درمیان مزدوروں نے 759 احتجاج ریکارڈ کیے جن میں 618 مظاہرے اور 141 ہڑتالیں شامل تھیں۔ اس دوران 137 صنعتی حادثات بھی رپورٹ ہوئے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محنت کشوں کی مشکلات صرف کم اجرتوں تک محدود نہیں بلکہ خطرناک اور غیر محفوظ کام کے حالات تک پھیلی ہوئی ہیں۔
اسی دوران”عورت، زندگی، آزادی“تحریک نے نظام کی نظریاتی بنیادوں پر کاری ضرب لگائی۔ خواتین کا عوامی مقامات پر حجاب اتارنا محض ایک ثقافتی علامت نہیں تھا بلکہ مذہبی آمریت کے خلاف براہِ راست سیاسی بغاوت تھی۔آج بھی خواتین احتجاجی تحریک کی صفِ اول میں کھڑی ہیں۔ وہ اسکارف لہراتے ہوئے نعرہ لگا رہی ہیں ”نہ حجاب، نہ پردہ۔۔آزادی اور برابری“
محنت کشوں کی طبقاتی جدوجہد اور خواتین کی مزاحمت کا یہ ملاپ موجودہ بغاوت کا بنیادی ستون ہے۔ اس اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے خواتین کی آزادی کی جدوجہد کو مکمل سیاسی، قانونی اور سماجی مساوات کے مطالبے سے جوڑنا ناگزیر ہے۔
حکمران اشرافیہ اور عوام کے درمیان خلیج
ایران کی حکمران اشرافیہ اور عوام کی بھاری اکثریت کے درمیان خلیج خطرناک حد تک وسیع ہو چکی ہے۔ ایک جانب انقلابی گارڈز اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے جڑا ہوا دولت مند سرمایہ دار طبقہ ہے جو کرپشن، عیاشی اور بیرونِ ملک اثاثوں کے ذریعے دولت کے انبار لگا رہا ہے۔ دوسری جانب کروڑوں عوام ہیں جو خوراک، صحت، رہائش اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ریال کی گراوٹ نے عام لوگوں کی جمع پونجی کو تباہ کر دیا ہے جبکہ اشرافیہ نے برسوں پہلے اپنی دولت ڈالر، سونا اور غیر ملکی کھاتوں میں منتقل کر لی تھی۔ اس بڑھتی ہوئی طبقاتی نابرابری نے عوامی غصے کو واضح طور پر انقلابی شکل دے دی ہے۔
جوابا پارلیمنٹ کے ارکان کم از کم اجرت میں چالیس فیصد سے زائد اضافے کی بات کر رہے ہیں۔ پزشکیان حکومت نے مالی امداد، سبسڈیز اور راشن کارڈز میں توسیع کا بھی اعلان کیا ہے، حتیٰ کہ کئی ماہ کی امداد ایک ساتھ گھریلو سربراہان کے کھاتوں میں منتقل کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد وقتی طور پر قوتِ خرید بڑھا کر عوامی غصے کو منتشر کرنا اور جبر کے ذریعے تحریک کو دبانا ہے۔ مگر مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کے پیشِ نظر یہ حکمتِ عملی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی ہے۔
حکمران طبقے میں دراڑیں اور ریاستی کمزوری
یہ بحران حکمران طبقے کے اندرونی تضادات کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔ ملاء، انقلابی گارڈز، ریاستی بیوروکریسی اور مختلف سرمایہ دار دھڑوں کے درمیان اقتدار، وسائل اور خارجہ پالیسی پر کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے۔
حکومت ایک طرف طاقت کے اظہار کے لیے سرکاری ریلیاں منعقد کر رہی ہے اور صورتحال کو”قابو میں“ظاہر کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، جبری اعترافات اور خونریز کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں سینکڑوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
علاقائی محاذ آرائیوں اور مسلسل عسکری مہم جوئی نے بھی مذہبی ریاست کو کمزور کر دیا ہے۔ بیرونی جنگی بیانیہ دراصل اندرونی بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت عوام کو روٹی، روزگار اور تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی کشیدگی اور امریکی مداخلت کا خطرہ
یہ کریک ڈاؤن ایسے وقت میں جاری ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسی تناظر میں بین الاقوامی سطح پر صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ پچھلے چند دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیانات میں ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے امکانات کو کھلے انداز میں زیرِ غور قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ”تمام آپشنز“پر غور کر رہا ہے اور کسی بھی لمحے فیصلہ کن اقدام کیا جا سکتا ہے۔ان بیانات کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے دھمکی دی کہ کسی بھی براہِ راست حملے کا جواب خطے میں امریکی مفادات پر حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔اس بیان بازینے اس بحران کے بین الاقوامی سطح پر پھیلا جانے کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔چاہے یہ سائبر حملوں، محدود فوجی کارروائیوں یا کسی اور مداخلت کے ذریعے ہو اسکے نتائج عام شہریوں کے لیے تباہ کن ہوں گے۔
ملکی سطح پر جاری ہنگامے، انٹرنیٹ اور دیگر رابطوں کی بندش اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے جارحانہ بیانیے نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس میں سامراجی طاقتیں یا تو جلاوطن اپوزیشن کی حمایت کر کے یا بحران کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
شاہ پرست اور مجاہدین خلق
اس جائز عوامی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایک سنجیدہ خطرہ ان قوتوں سے بھی ہے جو سامراجی مداخلت اور غیر ملکی سرپرستی کے ذریعے مذہبی حکمرانی کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ پہلوی بادشاہت کے حامی اور مجاہدینِ خلق جیسے گروہ کسی عوامی تحریک کی پیداوار نہیں اور ایران کے اندر ان کی کوئی حقیقی سماجی بنیاد موجود نہیں۔ وہ جلاوطن سیاست، میڈیا مہمات اور امریکہ و اسرائیل کی حمایت پر انحصار کرتے ہیں لیکن تحریک کی قومی سطح پرقیادت کی عدم موجودگی میں وہ اپنے آپ کو ایک متبادل کی صورت میں پیش کررہے ہیں اور ملائیت کے جبروتشدد اور پابندیوں کی موجودگی میں ان کے بارے میں تحریک ایک حصہ میں خوش فہمیں موجود ہیں۔ان کا مقصد محنت کشوں کی جمہوریت یا سماجی انصاف نہیں بلکہ اقتدار کو ایک خاندان یا غیر منتخب آمرانہ قیادت کے ہاتھ میں مرکوز کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قوتیں منظم عوامی تحریکوں سے خوفزدہ رہتی ہیں۔
سامراجی مداخلت: نجات نہیں تباہی ہے
امریکی سامراج سے کسی نجات کی امید ایک خطرناک فریب ہے۔ عراق، افغانستان، لیبیا، شام اور یمن کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ سامراجی مداخلت تباہی، خانہ جنگی اور سماجی انہدام کے سوا کچھ نہیں لاتی ہے۔ایران میں ایسی کسی مداخلت کا مطلب عوامی تحریک کو کچلنا اور پورے خطے کو ایک نئے سانحے میں دھکیلنا ہوگا۔ یہ نہ ایرانی عوام کے مفاد میں ہوگا اور نہ ہی محنت کش طبقے کا اس میں کوئی مفاد ہوگا۔
اراک کے محنت کشوں کی کونسل کا اعلامیہ:
اراک کی فیکٹریوں کے محنت کشوں کی کونسل نے اپنے بیان میں محنت کشوں اور ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ
”تمام اقتدار محنت کشوں کی کونسلوں کو“
انہوں نے مزید کہا”دہائیوں سے ہماری روٹی کے مطالبے کا جواب گولیوں سے دیا گیا اور ہماری عزت و وقار کے مطالبے کا جواب جیلوں اور کوڑوں سے دیا گیا۔ مگر آج یہ خاموشی ٹوٹ چکی ہے اور ہم کارخانوں پر محنت کشوں کا کنٹرول کا اعلان کرتے ہیں۔آج سے مشین مینوفیکچرنگ کمپنی، آذرآب اور ویگن پارس فیکٹریوں کا انتظام اور کنٹرول براہِ راست محنت کشوں کی منتخب مزدور کونسلوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ ہم ریاست یا حکومت کی کٹھ پتلی یونینوں کے ذریعے مسلط کی گئی کسی بھی منیجمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔
ہماری ہڑتال اب صرف اجرتوں کا سوال نہیں رہی۔ ہم اراک کے شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحفظ، رسد اور نظم و نسق کے لیے محلّہ جاتی کونسلیں قائم کریں۔ ہماری فیکٹریاں صرف کام کی جگہیں نہیں بلکہ آپ کے دفاع کا حصار ہیں۔
ہم فوج میں اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں اپنے ہی باپوں اور بھائیوں پر گولیاں مت چلاؤ۔ اگر تم عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہو تو ہماری کونسلیں تمہاری اور تمہارے خاندانوں کی سلامتی کی مکمل ضمانت دیں گی۔
صنعتی علاقوں میں زبردستی داخل ہونے یا ہمارے نمائندوں کو گرفتار کرنے کی کسی بھی کوشش کو پورے شہر کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔ اگر محنت کشوں کے خون کا ایک قطرہ بھی بہایا گیا تو بغاوت کی ایسی آگ بھڑکے گی جو اقتدار کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑے گی۔
ہم یہاں صرف اس لیے نہیں نکلے کہ ہماری اجرتیں روکی گئی ہیں۔ ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ فیصلہ کریں کہ یہ فیکٹریاں اور یہ ملک کس کے ہاتھ میں اور کس طرح چلایا جائے گا۔آقاؤں اور ملّاؤں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
تمام اقتدار کونسلوں کو!
انقلابی متبادل کے لیے جدوجہد کرو
ایرانی محنت کش طبقہ اس بغاوت کی سب سے فیصلہ کن قوت ہے۔ یہی طبقہ عام ہڑتال کے ذریعے مذہبی آمریت کو گرا سکتا ہے، عوامی خود تنظیم کے جمہوری ادارے قائم کر سکتا ہے اور طلبہ، خواتین اور مظلوم طبقات کی جدوجہد کو یکجا کر سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک ایسی انقلابی پارٹی کی ضرورت ہے جو سرمایہ داری، سامراج اور مذہبی آمریت کے خلاف ایک واضح انقلابی پروگرام رکھتی ہو۔
اہم فرائض یہ ہیں
کام کی جگہوں اور محلوں میں محنت کش کونسلوں کا قیام
طلبہ، اساتذہ اور محنت کشوں کی جدوجہد کو ایک ملک گیر تحریک میں ڈھالنا
خواتین کی آزادی کو سماجی نجات کی جدوجہد کا مرکز بنانا
عام ہڑتال کی تیاری
مذہبی ریاست کے خاتمے اور انقلابی سوشلسٹ پروگرام پر مبنی محنت کش حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد
