بلوچستان میں “غیرت کے نام پر” قتل-پدرسری اور سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کرو

Posted by:

|

On:

|

, ,

تحریر:بسمہ بخاری

بلوچستان میں محبت کی شادی کرنے والے بانو اوراحسن کے ہولناک قتل نے ایک بار پھر نام نہاد “غیرت کے نام پر قتل” کے گھناؤنے فعل اور اس کے پیچھے کارفرما سماجی و معاشی محرکات کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی جرم نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی بحران کی علامت ہےجہاں ریاست نے نام نہاد روایات کو بلوچ سرداروں کے ذریعے مسلط کررکھا ہے جو انہیں عورت کی آزادی اور انسانی حقوق کو پامال کرنے کا لائسنس فراہم کرتا ہے۔ انقلابی سوشلسٹ ایسے وحشیانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور یہ نیم نوآبادی کی سماجی ٹوٹ پھوٹ ہے۔

طبقاتی مسئلہ

غیرت کے نام پر قتل کو  ثقافتی طور پر پیش کیا جاتا ہے بلوچستان اسمبلی میں ایسی تقریرییں ہوئیں جس میں اس کو غیرت کا مسئلہ قرار دئے کراس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انقلابی سوشلسٹ اسے طبقاتی جبر اور پدرسری نظام کا ایک مکروہ اظہار سمجھتے ہیں۔ یہ وہ نظام ہے جہاں عورت کو مرد کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور اس کے اپنے فیصلے کرنے کے حق کو مکمل طور پر سلب کیا جاتا ہے۔ محبت کی شادی جو کہ فرد کی آزادی اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے حق کا اظہار ہے یہ پدرشاہی اور قبائلی نظام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ اس نظام کے تحت عورت کی جنسی آزادی کو خاندان کی “عزت” سے جوڑ دیا جاتا ہے اور اس “عزت” کی پامالی پر اسے بدترین سزا دی جاتی ہے۔

بلوچستان میں میں جہاں ریاست نے قبائیلی سردار مسلط کیئے ہوا ہےاس لیے ریاستی ادارے ان قبائلی سرداروں اور “روایات کا احترام” کرتے ہیں جو اس نظام کو برقرار رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ یہ سردار اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے جرائم کی سرپرستی کرتے ہیں تاکہ سماج میں پیدا ہونے والی آزادی کی سوچ کو کچلا جاسکے اور ان کا خوف برقرار رہے۔

ریاست کا کردار اور سرمایہ داری کی ناکامی

پاکستانی ریاست جو  عالمی سرمایہ داری میں ایک نیم نوآبادی ہے۔ یہ ایسے جرائم کو آمرانہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ ناکامی محض نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس نظام کی طبقاتی فطرت کا عکس ہے۔ حکمران طبقے اس فرسودہ سماجی ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ یہ ان کے مفادات کو تحفظ دیتا ہے۔ قانون سازی کے باوجود “غیرت کے نام پر قتل” کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مجرموں کو شاذ و نادر ہی سزا ملتی ہے۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون صرف کاغذات تک محدود ہے۔

 پرامن بلوچ سیاسی کارکنان ماہرنگ بلوچ اور دیگر بلوچ خواتین کی گرفتاریوں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ ریاست کس طرح اپنی طاقت کو جبر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ماہرنگ بلوچ جبری گمشدگیوں، ریاستی جبر، نوآبادیاتی قبضہ اور پدرشاہی کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں۔ انہیں ریاست کی طرف سے جھوٹے مقدمات،حراست اور حراساں کیئے جانے کا سامنا ہے تاکہ ان کی پرامن جدوجہد کو دبایا جا سکے۔ ان خواتین کو اس  لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اپنے لاپتہ پیاروں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی تھی اور سماجی طور پر متحرک کردارادا کررہی تھیں۔ یہ گرفتاریاں اور ریاستی جبر اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست ایک جانب ایسے قبائلی مظالم پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اور دوسری جانب ان آوازوں کو دباتی ہے جو تبدیلی اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں۔

ریاست کا مفاد

ریاست قبائلی سرداروں کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ مفاہمت رکھتی ہے۔ یہ سردار “غیرت کے نام پر” قتل جیسے جرائم کے ذریعے اپنے قبائلی ڈھانچے اور کنٹرول کو برقرار رکھتے ہیں اور اس کے بدلے میں ریاست کو علاقے میں ایک قسم کا “امن” برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔چاہے وہ کتنا ہی ظالمانہ کیوں نہ ہو۔

بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری قومی جبر اور جبری گمشدگیاں ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ “غیرت کے نام پر” قتل جیسے واقعات کو اجاگر کر کے ریاست بلوچ عوام کے خلاف اپنے وسیع تر ریاستی جبر اور ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ وہ اس تاثر کو فروغ دئے رہی ہے کہ بلوچ سماج خود پسماندہ ہے اور ریاست اس کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہےجبکہ حقیقت میں یہ پسماندگی ریاست کی وجہ سے  ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی جب مظاہرے کرتی ہیں تو ریاست ان پر “دہشت گردی” یا “ملک دشمن” ہونے کا الزام لگا کر ان کی جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ انہیں قانونی اور عوامی حمایت سے محروم کیا جا سکے۔

انقلابی سوشلسٹ یہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کی جڑیں گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں جو نہ صرف طبقاتی ناہمواری کو جنم دیتا ہے بلکہ پدرسری کو بھی تقویت دیتا ہے۔ جب تک پیداوار کے ذرائع پر محنت کش طبقے کا کنٹرول نہیں ہوگا اور ایک سوشلسٹ سماج قائم نہیں ہوتا جہاں تمام افراد کو مساوی حقوق اور آزادی حاصل ہو، اس طرح کے مظالم جاری رہیں گے۔

پدرسری نظام کے خلاف لڑائی اور انقلابی راستہ

غیرت کے نام پر قتل جیسے وحشیانہ اقدامات اور پدرسری نظام کا خاتمہ صرف انفرادی اصلاحات یا قوانین سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک سماجی انقلاب کی ضرورت ہے۔ انقلابی سوشلسٹ موومنٹ کا یہ موقف ہے کہ اس ظلم سے نجات کا واحد راستہ محنت کش طبقے کی قیادت میں ایک سوشلسٹ انقلاب ہے جو نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اور قبائلی جبر کی تمام اشکال کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔

پدرسری نظام کے خلاف کیسے لڑا جائے

سماج میں پدرسری ذہنیت اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنا انتہائی اہم ہے۔ تعلیمی نظام میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں اور خاندان یا قبیلے کے دباؤ سے آزاد ہوں۔ اس کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

خواتین کو منظم کرنا اور پدرسری نظام کے خلاف ایک مضبوط عوامی تحریک کو فروغ دینا۔ ماہرنگ بلوچ جیسی خواتین اس جدوجہد میں ہراول دستہ ہیں ان کو فورا رہا کیا جائے اور ان کی جدوجہد کی حمایت کی جائے۔

ان غلط تشریحات کو چیلنج کرنا جو خواتین کے خلاف تشدد اور جبر کو جواز فراہم کرتی ہیں۔ جدید اور ترقی پسندانہ تشریحات کو فروغ دینا جو مساوات اور انصاف پر مبنی ہوں۔

محنت کش طبقے، نوجوانوں اور مظلوموں کو ایک مشترکہ جدوجہد کے لیے متحد ہونا ہوگا تاکہ اس ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیا جا سکے اور ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھی جا سکے جہاں محبت جرم نہ ہو بلکہ انسانیت کی سب سے بڑی قدر ہو۔ بلوچ محنت کش اور کچلے ہوئے عوام جنہیں اس پدرشاہی نظام کے ساتھ ساتھ قومی جبر کا بھی سامنا ہے اس انقلابی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔