پیرس سے نئی دہلی تک نوجوانوں کی بغاوت: سرمایہ داری کا بحران، ریاستی جبر اور انقلابی تبدیلی کے امکانات

Posted by:

|

On:

|

,

انقلابی سوشلسٹ

دنیا کے مختلف خطوں میں نوجوانوں کی بغاوتیں ایک نئے عہد کی نوید ہیں۔ فرانس میں ہائی اسکولوں کے طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کی ناکہ بندی سے شروع ہونے والی تحریک ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بھارت میں طلبہ کی قیادت میں ابھرنے والی تحریک بدعنوانی اور جمہوری حقوق کے سوالات اٹھا رہی ہے جبکہ دیگر ممالک میں نوجوان مہنگائی، بے روزگاری، ریاستی جبر، نسل پرستی اور سیاسی بدعنوانی کے خلاف سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔

یہ واقعات محض نوجوان نسل کی بے چینی یا ایک عارضی احتجاجی لہر کا اظہار نہیں۔ ان کے پیچھے ایک گہرا تضاد موجود ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نوجوانوں کو بہتر مستقبل کے وعدے تو کرتا ہے لیکن عملی زندگی میں انہیں معاشی عدم تحفظ، ناقص تعلیم، بڑھتے ہوئے کرایے، کم اجرتوں اور سیاسی عم نمائندگی جیسے مسائل سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فرانس کی موجودہ تحریک اس تضاد کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ستمبر 2026 کے آخر میں تعلیمی اداروں سے شروع ہونے والا احتجاج اکتوبر میں ملک گیر سیاسی بحران کی صورت اختیار کر گیا۔ 17 اکتوبر کے احتجاج کے دوران مختلف شہروں میں شدید جھڑپیں اور توڑ پھوڑ ہوئی جبکہ 24 اکتوبر کو بھی لاکھوں افراد احتجاج کے لیے نکلے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق 24 اکتوبر کو ملک بھر میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد شریک ہوئے جبکہ ٹریڈ یونینوں نے اس سے کہیں زیادہ تعداد کا دعویٰ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج کا دائرہ صرف طلبہ تک محدود نہیں رہا۔

سرمایہ داری نوجوانوں سے مستقبل کیوں چھین رہی ہے؟

نوجوانوں کی بغاوت کو سمجھنے کے لیے ان حالات کو سمجھنا ضروری ہے جن میں آج کی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری نجکاری، کفایت شعاری، محنت کے غیر محفوظ حالات اور عوامی خدمات میں کٹوتیوں نے نوجوانوں کے لیےایک بہتر زندگی کے امکان کو ختم کردیا ہے۔

تعلیم حاصل کرنا اب لازماً بہتر روزگار کی ضمانت نہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی قابلیت سے کم درجے کی ملازمتیں، کنٹریک، ڈیلی ویجز، کم اجرتیں اورغیر یقینی مستقبل قبول کرنا پڑتا ہے۔ مکان خریدنا بہت سے نوجوانوں کے لیے ناقابلِ حصول خواب بن چکا ہے جبکہ کرائے اور روزمرہ اخراجات مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ موسمیاتی بحران اس بے یقینی کو مزید گہرا کرتا ہے کیونکہ نوجوانوں کو ایک ایسے مستقبل کا سامنا ہے جس میں ماحولیاتی تباہی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

اس دوران حکومتیں عوامی تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے لیے وسائل محدود کرنے کا جواز پیش کرتی ہیں لیکن فوجی اخراجات اور سرمایہ دارانہ منافع کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں کے سامنے یہ سوال زیادہ شدت سے آتا ہے کہ اگر محنت اور تعلیم کے باوجود محفوظ زندگی میسر نہیں تو موجودہ نظام کس کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے؟

فرانس میں یہ تضاد تعلیمی اداروں کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی، کلاسس میں زائد طلبہ اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل کی شکل میں سامنے آیا۔ طلبہ کی تحریک حکومت کے مجوزہ کفایت شعاری بجٹ کے خلاف غصہ میں تبدیل ہوگیا۔ یوں تعلیمی مطالبات وسیع تر معاشی اور سیاسی عدم اطمینان کا اظہار بن گئے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوانوں کی تحریک سرمایہ داری مخالف بن جاتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ موجودہ حکومت غلط فیصلے کر رہی ہے سوال یہ بھی ہے کہ ایک ایسا معاشی نظام جو منافع کو بنیادی معیار بناتا ہے، تعلیم، روزگار، رہائش اور انسانی ضروریات کو کس حد تک پورا کر سکتا ہے۔

فرانس میں تحریک کیسے پھیل رہی ہے؟

فرانس میں طلبہ کی احتجاجی تحریک کا آغاز ستمبر 2026 میں پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی شہر کریتے سے ہوا۔ 17 ستمبر کو اساتذہ کی ہڑتال کے بعد طلبہ نے تعلیمی اداروں میں عملے اور وسائل کی کمی کے خلاف آواز اٹھائی جبکہ 21 ستمبر کو احتجاج نے شدت اختیار کی۔ اس کے بعد تحریک تیزی سے پیرس کے دوسرے مضافاتی علاقوں اور پھر پورے فرانس میں پھیل گئی۔ہائی اسکولوں کے طلبہ کے ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ، والدین اور ٹریڈ یونین ورکرز بھی مختلف مقامات پر شامل ہونے لگے۔

تحریک کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے غریب مضافاتی علاقوں سے آغاز کیا جہاں محنت کش خاندانوں، تارکین وطن اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان تعلیمی عدم مساوات اور پولیس کے جبر سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بعد ازاں دیگر علاقوں اور  تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی احتجاج میں شریک ہوگے۔

اکتوبر کے دوران احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ 17 اکتوبر کو ملک گیر مظاہروں کے ساتھ بعض شہروں میں شدید جھڑپیں اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ 24 اکتوبر کو دوبارہ بڑے احتجاج ہوئے جبکہ پیرس میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔ حکومت نے بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کی اور امن و امان کو مرکزی مسئلہ بنا کر پیش کیا۔

ایک طرف نوجوانوں کی بے چینی اتنی گہری ہے کہ پولیس کارروائیوں اور حکومتی دباؤ کے باوجود احتجاج جاری ہے۔ دوسری طوف حکومت کی طرف سے تحریک کے خلاف شدید پراپگنڈا جاری ہے کہ نوجوان لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کررہے ہیں۔اسے ریاست اپنے جبر کے جواز کے لیے پیش کررہی ہے۔

احتجا ج کی شدت اور اس کا پھیلاو بہت اہم ہے۔تحریک ریاست کے جبرو تشدد اور گرفتاریوں کے باوجود بڑھ رہی ہے۔اب فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ تحریک اپنی سماجی بنیاد کو وسیع کرئے، مزید منظم ہو اور زیادہ سے زیادہ محنت کشوں کو مشترکہ جدوجہد میں شامل کرئے۔

 حالیہ احتجاج کے اسباب

نوجوانوں کی بغاوت کے اسباب صرف معاشی نہیں۔ فلسطین کے ساتھ یکجہتی، سامراجی جنگوں کی مخالفت، نسل پرستی، فاشزم، صنفی جبر اور موسمیاتی بحران بھی نوجوانوں کو جدوجہد میں لائے ہیں۔

یہ سوالات الگ الگ دکھائی دتے ہیں لیکن نوجوانوں کے تجربے میں اکثر ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ ایک ہی نوجوان کو تعلیم کے لیے ناکافی وسائل، روزگار کے عدم تحفظ، پولیس کی نسلی بنیادوں پر ہراسانی اور عالمی سطح پر جنگ و تباہی کے سوالات کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کی تحریک محض کسی ایک پالیسی کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت ہے۔

تاہم نوجوان نسل کوئی یکساں سماجی طبقہ نہیں۔ محنت کش خاندانوں کے نوجوانوں، متوسط طبقے کے طلبہ اور امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے معاشی مفادات اور تجربات مختلف ہوتے ہیں۔ سیاسی بحران کے دوران کچھ نوجوان بائیں بازو، سوشلزم اور اجتماعی جدوجہد کی طرف آتے ہیں جبکہ کچھ انتہائی دائیں بازو کے نعروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ سب ہم فرانس، اٹلی،جرمنی اور دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں جہاں نوجوان صرف سامراجی جنگوں اور نسل پرستی کے خلاف احتجاج ہی نہیں کررہے بلکہ ایسے بھی ہیں جو انتہائی دائیں بازو کی پارٹیوں کے متحرک حمایتی ہیں۔

انتہائی دایاں بازو معاشی عدم تحفظ اور مستقبل کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار تارکین وطن، خواتین، اقلیتوں یا بائیں بازو کو ٹھہراتا ہے۔ یوں وہ نوجوانوں کے حقیقی غصے کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف منظم کرنے کے بجائے کمزور طبقات کے خلاف موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس کا جواب محض اخلاقی اپیلیں نہیں ہو سکتیں۔ بائیں بازو کو روزگار، اجرتوں، رہائش، تعلیم اور سماجی تحفظ کے ٹھوس مطالبات کے ساتھ نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد کو جوڑنا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ ان کے مسائل کا وجہ دوسرے مظلوم پرتیں نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو محنت کشوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرتا ہے۔

نوجوانوں کی بغاوت اور محنت کش طبقے کی طاقت

نوجوان تحریکیں معاشرے میں نئی توانائی پیدا کرتی ہیں۔ نوجوان نسبتاً کم سماجی ذمہ داریوں، زیادہ وقت اور تبدیلی کی امید کے باعث بعض حالات میں تیزی سے متحرک ہوتے ہیں۔ وہ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جنہیں روایتی سیاست نظرانداز کرتی ہے اور ان کی جرات محنت کش طبقہ کو بھی میدان میں لاتی ہے۔

لیکن نوجوان ہونا بذاتِ خود کوئی طبقاتی طاقت نہیں۔ طلبہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی ناکہ بندی کر سکتے ہیں، سڑکوں پر بڑے مظاہرے کر سکتے ہیں اور حکومت کو سیاسی دباؤ میں لا سکتے ہیں۔ تاہم سرمایہ دارانہ معیشت کو بنیادی طور پر چیلنج کرنے کی طاقت محنت کش طبقے کے پاس ہے جو پیداوار، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کو اجتماعی طور پر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جب مزدور ہڑتال کرتے ہیں تو وہ صرف اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دارانہ منافع  کو بھی ختم کرتے ہیں۔ اسی لیے طلبہ اور محنت کشوں کا اتحاد تحریک کو زیادہ وسیع اور مؤثر بنانے کی بنیادی شرط ہے۔

فرانس میں اس اتحاد کے ابتدائی آثار سامنے آئے ہیں۔ اساتذہ اور ٹریڈ یونین ورکرز نے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی بعض مظاہروں میں ورکرز نے طلبہ کو پولیس کے تشدد سے بچانے کی کوشش کی اور 17 اکتوبر کو طلبہ کے ساتھ محنت کشوں کی احتجاج میں شمولیت بھی دیکھنے میں آئی۔

تاہم یکجہتی کے بیانات اور چند مشترکہ مظاہرے ابھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ محنت کش طبقہ وسیع پیمانے پر ہڑتالوں کے ذریعے جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یونینیں محض احتجات میں شریک ہوں گئیں یا کام کی جگہوں پر ایسی ہڑتالیں منظم کریں گی جو حکومت پر حقیقی دباؤ ڈال سکیں۔

۔17 اکتوبر کے بعد: تحریک کے سامنے نیا مرحلہ

۔17 اکتوبر کے مظاہروں اور جھڑپوں کے بعد فرانس کی سیاسی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ حکومت نے امن و امان اور پولیس کارروائیوں پر زور دیا جبکہ احتجاجی مہنگائی، تعلیمی بحران اور عوامی خدمات کی زبوں حالی کو بنیادی مسائل قرار دیا۔ حکومت اور ٹریڈ یونینوں کے درمیان 21 اکتوبر کو ہونے والی ملاقات میں بھی کوئی حل نہیں نکلا۔ یونین قیادت نے کہا کہ حکومت نے ان کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق نہیں کیا۔

اس کے بعد ٹریڈ یونینوں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی۔ سی جی ٹی کی قیادت نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کو مزید پھیلایا جائے اور ہڑتالوں کو وسیع کیا جائے۔ مجوزہ ہڑتال میں سرکاری اور نجی شعبوں کے ورکرز، نوجوانوں اور ریٹائرڈ افراد کو شامل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس کے مطالبات میں اجرتوں اور پنشن میں اضافہ، عوامی خدمات کے لیے زیادہ وسائل اور روزگار و صنعت میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔  

یہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے لیکن 5 نومبر کی کال کا اعلان بذاتِ خود کامیابی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنی کام کی جگہوں پر ہڑتال کی تیاری ہوتی ہے کیا ورکرز اپنے ساتھیوں کو منظم کرتے ہیں اور کیا طلبہ کی کمیٹیاں اور مقامی اجتماعات اس جدوجہد سے براہِ راست رابطہ قائم کرتے ہیں۔

اگر 5 نومبر محض ایک دن کے مظاہرے تک محدود رہتا ہے تو حکومت کو وقتی دباؤ کے بعد تحریک کو تھکانے کا موقع مل سکتا ہے لیکن اگر اسے کام کی جگہوں پر حقیقی ہڑتال، طلبہ کی ناکہ بندیوں، مقامی اجتماعات اور مشترکہ مطالبات سے جوڑا جائے تو تحریک تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

ٹریڈ یونین قیادت کا مسئلہ: یکجہتی سے آگے کیا؟

ٹریڈ یونینوں کے کردار کو سمجھنا ضروری ہے۔ یونین قیادت نے احتجاج کی حمایت میں بیانات دیے ہیں اور ہڑتال کی کال بھی دی ہے۔ لیکن ٹریڈ یونینوں کے اندر عام ورکرز اور تنخواہ دار عہدیداروں کے درمیان مفادات اور حکمتِ عملی کا فرق  ہوتا ہے۔

یونین عہدیداروں پر اکثر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ حکومت اور مالکان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی سمجھوتا کریں اور حالات کو معمول پر واپس لائیں۔ اس کے برعکس ورکرز کے لیے بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ان کی جدوجہد سے حقیقی تبدیلی آئے گی اور کیا ان کے مطالبات پورے ہوں گے؟

انقلابی سوشلسٹ نقطۂ نظر سے یونینیں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ جدوجہد کے بنیادی ادارے ہیں لیکن اس کی بیورکریٹک قیادت ہڑتالوں کو محدود رکھتی ہے، مختلف شعبوں کی جدوجہد کو علیحدہ رکھتی ہے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات ہی ان کا مقصد ہوتا ہے اس سے وہ محنت کش طبقہ کی طاقت کو کنٹرول کرتی ہے اور حکومت سے سمجھوتہ کرتی ہے۔

اسی لیے کام کی جگہوں پر عام ورکرز کی سرگرمی، منتخب نمائندوں کے ذریعے جواب دہ تنظیم کا قیام اور ہڑتال کے فیصلوں میں ورکرز کی شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ طلبہ اور محنت کشوں کے مشترکہ اجتماعات بھی اس عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

۔5 نومبر کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے انقلابی سوشلسٹوں کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسے محض علامتی ہڑتال نہ رہنے دیں بلکہ مقامی سطح پر ہڑتال کی تیاری، ورکرز کی شرکت اور مختلف شعبوں کے درمیان عملی رابطے کے لیے جدوجہد کریں تاکہ اسے غیر معینہ مدت کی عام ہڑتال میں بدل جاسکے۔

مئی 1968 کا سبق: طلبہ کی بغاوت سے عام ہڑتال تک

فرانس کی موجودہ تحریک کا موازنہ مئی 1968 سے کیا جا رہا ہے۔ اس وقت طلبہ کے احتجاج نے وسیع سماجی بحران کی شکل اختیار کی اور تقریباً ایک کروڑ مزدوروں نے ہڑتال کی جس سے ملک کا بڑا حصہ مفلوج ہو گیا اور حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار ہوئی۔

اس تجربے کا بنیادی سبق یہ نہیں کہ ہر طلبہ تحریک لازماً عام ہڑتال میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ طلبہ کی بغاوت اس وقت زیادہ گہرا اثر پیدا کر سکتی ہے جب وہ محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت سے جڑتی ہے۔

۔1968 میں بھی عام ہڑتال سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے تک نہیں پہنچی۔ ٹریڈ یونین قیادت نے اہم شعبوں میں کام پر واپسی کے لیے سمجھوتے کیے اور تحریک کی طاقت کو سیاسی اقتدار کے سوال تک لے جانے میں ناکامی سامنے آئی۔ اس لیے بڑے پیمانے کا احتجاج حتیٰ کہ ایک عظیم عام ہڑتال بھی واضح سیاسی حکمتِ عملی اور انقلابی قیادت کے بغیر سرمایہ داری کا نظام کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔

آج کے حالات 1968 سے مختلف ہیں۔ کئی دہائیوں کی نجکاری، معاشی عدم تحفظ اور عوامی خدمات میں کٹوتیوں نے مختلف تضادات کو جنم دیا ہے۔ موجودہ تحریک میں نسل پرستی، فلسطین کے ساتھ یکجہتی، موسمیاتی بحران اور انتہائی دائیں بازو کے خلاف جدوجہد بھی اہم ہیں۔ لیکن بنیادی سوال اب بھی وہی ہے کیا مختلف جدوجہدوں کو ایک مشترکہ طبقاتی تحریک میں بدلا جا سکتا ہے؟

انقلابی تنظیم اور سیاسی حکمت عملی

نوجوانوں کی تحریک میں خود رو پن بہت واضح ہے۔ طلبہ کے اجتماعات،  ناکہ بندیاں اور سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے نے تحریک کو تیزی سے پھیلانے میں مدد دی ہے۔ لیکن خود رو توانائی کو مستقل سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم، مشترکہ پروگرام اور حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔

یہاں انقلابی سیاسی تنظیم کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ اس کا مقصد تحریک پر باہر سے حکم چلانا نہیں بلکہ جدوجہد میں فعال شرکت کرتے ہوئے ایسے سیاسی سوالات اٹھانا ہے جو تحریک کے سامنے موجود راستوں کو واضح کریں حکومت کی کفایت شعاری کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ٹریڈ یونینوں کو غیر معینہ مدت کی عام ہڑتال کی طرف کیسے لایا جائے؟ نسل پرستی اور فاشزم کے خلاف جدوجہد کو معاشی مطالبات سے کیسے جوڑا جائے؟ اور نوجوانوں کی جدوجہد کو مستقل تنظیم سازی میں کیسے بدلا جائے؟

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ تحریک کو خود اپنی راہ متعین کرنے دی جائے۔ جب تحریک میں مختلف سیاسی رجحانات موجود ہوں تو ہر رجحان کسی نہ کسی سیاسی نقطہ نظر کی حمایت کرتا ہے خواہ وہ سیاسی نقطہ نظر واضح طور پر بیان نہ کیا گیا ہو۔ انقلابی سوشلسٹوں کو اپنے پروگرام اور حکمتِ عملی پر کھل کر بحث کرنی چاہیے اور عام ورکرز و طلبہ کو اجتماعی فیصلوں میں حصہ لینے کے قابل بنانا چاہیے۔

اس عمل میں جمہوری تنظیم سازی، منتخب اور جواب دہ نمائندے، مشترکہ مطالبات اور مختلف شہروں و کام کی جگہوں کے درمیان رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ تحریک کی قوت کسی محدود قیادت کے فیصلوں یا وقتی احتجاجی جوش پر منحصر نہ رہے۔

بغاوت کے امکانات اور فیصلہ کن سوال

فرانس کی نوجوان تحریک نے دکھایا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام سے مایوسی محض خاموشی یا بے عملی کو جنم نہیں دیتی۔ جب نوجوان اپنے بنیادی مسائل کے لیے اجتماعی طور پر میدان میں آتے ہیں تو وہ حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا سکتے ہیں، محنت کش طبقہ کو متحرک کر سکتے ہیں اور سرمایہ کے خلاف بغاوت ممکن ہوتی ہے۔

لیکن سرمایہ داری مخالف جدوجہد خود بخود حقیقت نہیں بنتی ہے۔ 17 اکتوبر کے بعد احتجاج کا جاری رہنا، 24 اکتوبر کو بڑے مظاہروں کا انعقاد اور 5 نومبر کی ملک گیر ہڑتال کی کال اس بات کی علامت ہے کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس کے باوجود تحریک کو ریاستی جبر، داخلی اختلافات، تشدد کے گرد سیاسی تنازعات اور ٹریڈ یونین قیادت کی محدود حکمتِ عملی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انقلابی سوشلسٹ نقطۂ نظر سے فوری ضرورت یہ ہے کہ طلبہ کے مطالبات کو محنت کشوں کی اجرتوں، روزگار، رہائش، سماجی تحفظ اور عوامی خدمات کے دفاع سے جوڑا جائے۔ نسل پرستی، فاشزم اور سامراجی جنگوں کے خلاف جدوجہد کو بھی اسی مشترکہ سیاسی پروگرام کا حصہ بنانا ہوگا۔

نوجوانوں کی بغاوت نے محنت کش طبقہ میں امید پیدا کی ہے جو طویل عرصے سے سیاسی عدم دلچسپی اور معاشی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ لیکن اس امید کو حقیقی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے محنت کشوں کی منظم ہڑتالیں، جمہوری تنظیم سازی اور واضح انقلابی پروگرام درکار ہے۔

آج فرانس کے انقلابی سوشلسٹ کے سامنے یہ سوال ہے کیا نوجوانوں کی بغاوت 5 نومبر کی ہڑتال اور اس کے بعد کی جدوجہد کے ذریعے محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت سے جڑ سکے گی یا اسے محدود احتجاج اور حکومتی سمجھوتوں سے ختم کردیا جائے گا؟

اسی سوال کا جواب فرانس کی موجودہ تحریک کے مستقبل پر اثرانداز ہوگا اور یہ بھی طے کرے گا کہ نوجوانوں کی بغاوت سرمایہ داری کے خلاف ایک وسیع انقلابی تحریک کی پیش رفت بن سکتی ہے یا نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *