اس سال 8 مارچ عالمی یومِ محنت کش عورت ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب دنیا کے کئی حصوں میں انتہا پسند دائیں بازو کی قوتیں شدید رجعتی حملے کر رہی ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ان حملوں کے خلاف مزاحمت، جدوجہد اور عوامی تحرک کے طاقتور اظہار بھی سامنے آ رہے ہیں۔
انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کی خواتین اس 8 مارچ کو سڑکوں پر نکلیں گئی تاکہ طویل جدوجہد سے حاصل کیے گئے اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں۔ ہم پدرشاہی اور سرمایہ داری کے خلاف ایک واضح حکمتِ عملی کے ساتھ منظم ہیں اور انقلابی، انٹرنیشنلسٹ اور سوشلسٹ فیمنزم کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
صنفی حقوق کے خلاف انتہا پسند دائیں بازو کا حملہ
دنیا بھر میں انتہا پسند دائیں بازو خواتین اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ کمیونٹی کے حقوق کے خلاف ایک عالمی یلغار کر رہا ہے۔ یہ دراصل ایک وسیع تر غیر سماجی اور غیر جمہوری ایجنڈے کا حصہ ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ، ارجنٹینا میں میلی اور اٹلی میں جارجیا میلونی جیسے حکمرانوں کا مقصد ایک ہی ہے یعنی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کیے گئے حقوق کو کمزور اور ختم کرنا ہے۔
صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف پالیسیوں کو محدود کیا جا رہا ہے۔ جامع جنسی تعلیم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسقاطِ حمل کے حق کو جرم قرار دیا جا رہا ہے اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ کمیونٹی کو بدنام اور ہدف بنایا جا رہا ہے۔
یہ حکومتیں اور تحریکیں الگ تھلگ نہیں ہیں۔ یہ دراصل ایک بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام کا اظہار ہیں۔ اپنی معاشی کٹوتیوں کے ذریعے یہ سماجی نگہداشت اور فلاحی ڈھانچوں کو کمزور کرتی ہیں اور “روایتی خاندان” کی اقدار کو فروغ دیتی ہیں تاکہ کفایت شعاری کے بوجھ کو محنت کش اکثریت پر منتقل کیا جا سکے اور پدرشاہی نظام کو سماجی کنٹرول کے ایک اہم ستون کے طور پر مضبوط کیا جا سکے۔
جواب سڑکوں پر ہے
یہ رجعتی حملے خود مزاحمت کی چنگاری کو بھڑکاتے ہیں۔ ہر حملے کے ساتھ ایک نیا ردعمل جنم لیتا ہے۔ جب بھی وہ ہمیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں ہماری تنظیم اور جدوجہد مزید مضبوط ہوتی ہے۔
خواتین اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ کمیونٹی اٹھ کھڑی ہوتی ہیں تاکہ اپنے حاصل شدہ حقوق کا دفاع کریں اور مزید کے لیے جدوجہد کریں اور یہ اپنے مطالبات کو محنت کش طبقے اور مظلوم عوام کی جدوجہد کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد اور صیہونیت کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے خلاف مزاحمت جس کی حمایت امریکی اور یورپی سامراج کرتے ہیں اس عالمی ردعمل کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح روسی حملے کے خلاف یوکرینی عوام کی مزاحمت جبکہ ساتھ ہی مشرقی یورپ میں نیٹو کے سامراجی منصوبوں کے خلاف جدوجہد، وینزویلا کے عوام کے ساتھ سامراجی مداخلت کے خلاف یکجہتی اور کیوبا کے خلاف امریکہ کی مجرمانہ ناکہ بندی کے خلاف آوازیں یہ سب بڑھتی ہوئی عالمی مزاحمت کی علامت ہیں۔
اسی طرح ایران میں جابرانہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج اور امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف قومی خودمختاری کے دفاع کی جدوجہد، کردستان میں روژاوا کا دفاع، اور سہراوی عوام کی حقِ خود ارادیت کی لڑائی بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاستی جبر اور تشدد کے مقابلے میں خواتین ہمیشہ صفِ اول میں ہوتی ہیں، اپنے حقوق، آزادی اور زندگی کے لیے لڑتے ہوئے۔
ایک انقلابی اور انٹرنیشنلسٹ حل کے لیے
خواتین اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ کمیونٹی کی حقیقی آزادی جزوی اصلاحات یا اوپر سے دی جانے والی رعایتوں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک سوشلسٹ اور انقلابی راستہ درکار ہے۔
یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے شروع ہوتا ہے کہ صنفی جبر اگرچہ طبقاتی استحصال کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوا ہے لیکن اس کی اپنی مخصوص حرکیات بھی ہیں۔ ان دونوں پہلوؤں کو ایک مشترکہ حکمت عملی میں شامل کرنا سماج کی حقیقی تبدیلی کے لیے ناگزیر شرط ہے۔
خواتین کے قتل (فیمیسائیڈ) کے خلاف جدوجہد، محفوظ اور مفت اسقاطِ حمل کے حق کے لیے لڑائی، اجرت میں برابری، ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ شناختوں کے مکمل اعتراف اور ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کی جدوجہد کو الگ الگ یا منتشر نہیں کیا جا سکتاہے۔
ان سب کو ایک مشترکہ جدوجہد میں جوڑنا ہوگا جس کا مقصد پدرشاہی اور سرمایہ داری کی مادی بنیادوں کو ختم کرنا ہے۔
یہ صرف اس نظام کے اندر کچھ حقوق حاصل کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کو چیلنج کرنے کا سوال ہے جو مسلسل عدم مساوات، تشدد اور جبر کو پیدا اور برقرار رکھتا ہے۔
اس ڈھانچے کا مقابلہ کرنے کا مطلب ہے بحران زدہ سرمایہ داری کے خلاف ہمہ گیر جدوجہد، اس کے اندر موجود پدرشاہی نظام کے خلاف لڑائی، ساختی نسل پرستی، نوآبادیاتی ورثے اور جبری ہیٹرونارمٹیو اقدار کے خلاف مزاحمت ہے۔ یہ سب الگ الگ مظالم نہیں بلکہ ایک ایسے جال کا حصہ ہیں جو استحصال کو منظم کرتا ہے اور انسانی زندگیوں کو درجہ بندی میں تقسیم کرتا ہے۔ اسی لیے ہمارا جواب بکھرا ہوا یا محض دفاعی نہیں ہو سکتا ہے۔
اگر جدوجہد کو ادارہ جاتی سیاست میں جذب ہو کر کمزور ہونے سے بچانا ہے تو ایک انقلابی سیاسی تنظیم کی تعمیر ضروری ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر منظم ہو۔ صرف ایک باشعور قیادت، واضح پروگرام اور حکمت عملی کے ساتھ ہی ایک ایسے سماج کے لیے جدوجہد آگے بڑھ سکتی ہے جہاں نہ استحصالی اورنہ ہی مظلوم ہوں۔
اس لیے ہم کہتے ہیں
ہم صرف ان کے دسترخوان سے گرے ہوئے ٹکڑوں کے لیے نہیں لڑیں گے بلکہ پوری دنیا کو جیتنے کے لیے لڑیں گے جو سب کے لیے ہو۔
ہم سوشل انفرسٹکچرمیں ہر قسم کی کٹوتیوں کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ بحران کا بوجھ خواتین، مہاجرین اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ کمیونٹی پر ڈالا جاتا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر پبلک سروسز میں سرمایہ لگایا جائے جس کی مالیاتی بنیاد امیروں کی دولت اور ملکیتوں کی ضبطی ہو اور جس پر محنت کشوں کا جمہوری کنٹرول ہو۔
ہم برطرفیوں، اجرتوں میں کمی اور کام کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو مسترد کرتے ہیں جو سب سے پہلے محنت کش مردوں اور عورتوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہم برابر اجرت، کام کے اوقات میں کمی مکمل تنخواہ کے ساتھ اور کام کی منصفانہ تقسیم کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔
ہم اس نہ ختم ہونے والے بوجھ کو بھی مسترد کرتے ہیں جو بلا معاوضہ نگہداشت، بچوں کی پرورش اور گھریلو کام کی صورت میں خواتین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے ہم تولیدی محنت کی سماجی تنظیم کے لیے جدوجہد کرتے ہیں بچوں کی نگہداشت، صحت کی سہولیات، عوامی کچن اور نگہداشت کے ایسے اجتماعی ڈھانچے جن کے ذریعے اس کام کو سماجی طور پر تسلیم کیا جائے اور یہ خواتین کی نجی ذمہ داری نہ رہیں۔
سرمایہ داری کو “انسانی چہرہ” دینے کی امید رکھنے والی اصلاح پسند سیاست آخرکار اپنی حدود سے ٹکرا جاتی ہے۔ تاریخ واضح کرتی ہے کہ صنفی جبر کو اس وقت تک ختم نہیں کیا جا سکتا ہے جب تک ان سماجی رشتوں کو چیلنج نہ کیا جائے جو اسے برقرار رکھتے ہیں۔ اور نہ ہی سرمایہ داری کا خاتمہ ممکن ہے جب تک خواتین اور صنفی اقلیتیں ایک منظم اور مرکزی سیاسی قوت کے طور پر اس جدوجہد میں شامل نہ ہوں۔
اسی تناظر میں اس 8 مارچ کو ہم اس انقلابی اور انٹرنیشنلسٹ نقطۂ نظر کی توثیق کرتے ہیں۔
ہم صرف دائیں بازو کے حملوں کے خلاف مزاحمت کے لیے نہیں بلکہ ایک انقلابی اور عالمی متبادل کو مضبوط کرنے کے لیے متحرک ہوئے ہیں۔
ہماری جدوجہد سماج کی ایک گہری ازسرِ نو تنظیم کے لیے ہےایک ایسی دنیا کے لیے جہاں منافع کے بجائے انسانی زندگی کی قدر ہو اور جہاں جبر، استحصال اور تشدد کا خاتمہ ہو۔
انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ
عورت اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اے+ کمیشن

Leave a Reply