تحریر:کے ڈی ٹیٹ
ترجمہ عرفان خان
لیبرپارٹی کی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ پارٹی چھوڑ کر جیرمی کوربن کے ساتھ ایک نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ لیبر پارٹی کی گھٹن زدہ سوچ اور کیئر سٹارمر کی موجودہ سامراجی اور کفایت شعاری پر مبنی قیادت سے علیحدگی خوش آئند ہے۔ اس اقدام سے بہت سے سوشلسٹوں، مزدور رہنماؤں اور نوجوانوں میں یہ احساس بڑھ ہے کہ لیبر پارٹی سوشلسٹ پیش رفت کا ذریعہ نہیں ہے جبکہ ہمارے مطابق یہ کبھی بھی نہیں تھی۔
تاہم ہمیں یہ بات واضح کرنی ہوگی یہ علحدگی ضروری تو ہے مگر کافی نہیں ہے۔ ہمیں کسی “وسیع بائیں بازو” کی پارٹی یا کوربن ازم کے پرانے ورژن کی نئی شکل میں ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ایک انقلابی مزدور پارٹی چاہیے جو طبقاتی جدوجہد میں بنیاد رکھتی ہواور سوشلسٹ نظریات سے لیس ہو نیز سرمایہ دارانہ نظام کو بہتر کرنے کی بجائے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتی ہو۔
لیبر پارٹی کی دوبارہ ناکامی
سٹارمر کی لیبر پارٹی نے یہ بات واضح طور پر ثابت کردی ہے کہ پارٹی کا ڈھانچہ، پارلیمانی ونگ اور برطانوی سامراج سے اس کی تاریخی وابستگی کو اندرونی طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس نے بائیں بازو کے کارکنوں کو بے دخل کیا، غزہ میں نسل کشی کی کھلے عام حمایت کی اور مزدوروں کی ہڑتالوں کی شدید مخالفت کی۔ فلسطین ایکشن پر پابندی تو پورے بائیں بازو پر جنگ کا اعلان ہے۔ برمنگھم کی لیبر کونسل کا اپنے ہڑتالی صفائی کرنے والے کارکنوں کو “فائر اینڈ ری ہائر” کرنے کی دھمکی اور پارٹی کی ڈپٹی لیڈر انجیلا رینر کی اس کی حمایت نے یونائٹ یونین کو مشتعل کردیا ہے۔ اسی وجہ سے ملک کی دوسری سب سے بڑی اور پارٹی کو سب سے زیادہ فنڈز دینے والی یہ یونین اب پارٹی سے علیحدگی پر غور کر رہی ہے۔
کوربن کا دور اپنی امیدوں اور متحرک حمایت کے باوجود یہ پارلیمانی لیبر پارٹی اور یونین کی نوکرشاہی کے غلبے کو چیلنج کرنے میں ناکام رہا تھا۔ انہوں نے جیتنے کے نام پر ہر قسم کی رعایت دی چاہے وہ نیٹو پر ہو، سامیت دشمنی کے الزامات پر ہو یا پارٹی کے منشور کے مواد پرہو۔ بنیادی طور پرکوربن کی بائیں بازو کی حکومت منتخب کرنے کی حکمت عملی میں پارلیمانی لیبر پارٹی کے دائیں بازو کو پارٹی چھوڑنے سے روکنا شامل تھا لیکن دائیں بازو کو بائیں بازو کو پارٹی میں رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی جیسا کہ سٹارمر کے حالیہ اخراج اور معطلیوں نے دکھایا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں کوربن نے اپنے ہی حامیوں میں بددلی اور انتشار پیدا کیا۔ یہ ناکامی پیچھے ہٹنے کی دلیل نہیں بلکہ اہم سبق سیکھنے کا موقع ہے: 1) آپ کسی سرمایہ دارانہ پارٹی کو سوشلسٹ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے اور 2) لیبر پارٹی کے بائیں بازو کے ارکان پارلیمنٹ عارضی اتحادی ہو سکتے ہیں لیکن وہ بالآخر اپنے ذاتی مفادات اور حیثیت کو طبقے کے مفادات پر ترجیح دیں گے۔
فاریج کا مقابلہ
ریفرم یو کے کا ابھرنا جو اب پانچ ممبران پارلیمنٹ، دو علاقائی میئرز اور 10 کونسلوں پر قابض ہے۔ یہ صورتحال سلطانہ کی لیبرپارٹی سے علیحدگی میں اہم وجہ ہے۔ مزدوراورعوام میں ریفرم کی کونسل یا حکومت کے بارے میں وسیع خوف اور غصہ پایا جاتا ہے۔ ایک ایسی انتخابی پارٹی کی فوری ضرورت محسوس کی جارہی ہے جو لیبر کے مایوس ووٹرز کو اپنی طرف راغب کر سکے۔
یہ احساس یقیناً ترقی پسندانہ ہے۔ لیکن انتخابات صرف اس وقت موجود سیاسی طاقت کے توازن کو ظاہر کرتے ہیں (جو چار سال تک بدل سکتا ہے)۔ اس توازن کو اپنی سمت میں تبدیل کرنے کے لیے نہ صرف ایک ایسی پارٹی درکار ہے جو سوشلسٹ متبادل پیش کر سکے بلکہ ایک ایسی پارٹی بھی چاہیے جو سماجی جبر کی ہر شکل کے خلاف جو خواتین، سیاہ فام، ایشیائی، تارکین وطن، ایل جی بی ٹی کیو، معذور مزدوروں پر ہورہا ہے اس کے خلاف کام کی جگہوں پر، سڑکوں پر، تعلیمی اداروں میں آج سے انتخابات تک ہر روز جدوجہد کرئے۔
گرین پارٹی
یہ نئی تنظیم بائیں بازو کے لیبر پارٹی کے مایوس کارکنوں خاص طور پر نوجوان سرگرم کارکنوں کو گرین پارٹی کی طرف جانے سے روکنے کی ایک واضح کوشش بھی ہے۔ غزہ کے معاملے اور لیبر پارٹی کی اپنی بنیاد پر کھلی جنگ کے بعد بہت سے بائیں بازو کے اصلاح پسندوں نے اپنی امیدیں گرینز کی طرف منتقل کرنا شروع کر دی ہیں جو ان کی ترقی پسندانہ باتوں اور ماحولیاتی ظاہری شکل سے متاثر ہیں۔
زیک پولانسکی کی “ماحولیاتی پاپولسٹ” قیادت کی مہم اس جذبے کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں گرینز کو کوربن تحریک کے حقیقی وارث کے طور پر پیش کیا جا رہا ہےلیکن یہ محض ایک فریب ہے۔ پولانسکی سیاست کا ایک ایسا عوامی انداز پیش کرتے ہیں جو طبقاتی تقسیم کو نظر انداز کرتا ہےاور مزدوروں کی جدوجہد اور سوشلسٹ تبدیلی کی بجائے “عوامی طاقت” اور “معاشرتی اقدار” کی بات کرتا ہے۔ گرین پارٹی کی قیادت نیٹو کی حامی ہے، کفایت شعاری کی پالیسیاں اختیار کرنے والی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد میں حکومت کر چکی ہے (جیسے سکاٹ لینڈ اور جرمنی میں) اور سرمایہ دارانہ منڈیوں کی منطق کو قبول کرتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ مزدور طبقے کے مفادات پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ریڈیکل متوسط طبقے کے مفادات کی ترجمانی کرتی ہے۔
سلطانہ-کوربن کا اقدام جزوی طور پر لیبر پارٹی کے بائیں بازو کے کچھ حلقوں کی طرف سے اپنے حامیوں کو بکھرنے سے بچانے کی کوشش ہے لیکن جب تک یہ واضح طور پر انتخابی نظام اور پاپولزم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے اور طبقاتی جدوجہد کے ہر محاذ پر سرگرم افراد، چاہے وہ برمنگھم یا شیفیلڈ کے ہڑتالی ٹریڈ یونینسٹ ہوں یا فلسطین ایکشن کے متاثرین کی فوری اور بہادرانہ حمایت نہیں کرتے یہ محض ایک اور عارضی حل ثابت ہوگا اور سوشلسٹ پیش رفت کا ذریعہ نہیں بنے گا۔
عالمی مثالیں اور ان کی حدود
کچھ لوگ اب بیرون ملک بائیں بازو کے انتخابی منصوبوں کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جیسے جرمنی میں ڈائی لنکے کی معمولی بحالی، فرانس میں نیو پاپولر فرنٹ کا عروج اور نیویارک میں محمود مامدانی کی میئر شپ کے لیے جارحانہ کوششیں یہ کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ “وسیع بائیں بازو کی پارٹی” کا ماڈل اب بھی قابل عمل ہے۔ لیکن ہمیں ان تجربوں سے درست اسباق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ تمام کوششیں تیزی سے غیر مستحکم ہوتے حالات میں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ 2000 کی دہائی نہیں ہے۔ اصلاح پسندی کی گنجائش یعنی دولت کی تقسیم کے پروگرام، جامع اتحاد، یا حتیٰ کہ پرامن انتخابی استحکام کے لیے جگہ تیزی سے سکڑ رہی ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے حکمران طبقات کسی نئے فلاحی اتفاق رائے کے بجائے، کفایت شعاری، دوبارہ مسلح ہونے اور جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ منصوبے شاید متاثر کن ہوں لیکن یہ وہ ماڈل کی نہیں ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ایک آزاد، سامراج دشمن، انقلابی مزدور پارٹی جو پرانی بائیں بازو کی پارٹیوں کی طرح اس نظام کا حصہ نہ بنئے۔
انتہائی بائیں بازو کے فرقہ پرور
سلطانہ کے اقدام کے جواب میں کئی انتہائی بائیں بازو کے گروہوں نے ایک “وسیعتر،” “وفاقی،” یا “اتحادی” پارٹی کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے یہ بظاہر تقسیم سے بچنے کے لیے ہے لیکن حقیقت میں اپنی فرقہ وارانہ پوزیشن اور ویٹو پاور کو محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔ یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں ہے۔یہ سوشلسٹ لیبر پارٹی، سوشلسٹ الائنس، ریسپیکٹ، اور حال ہی میں لیفٹ یونٹی کے ناکام تجربات کی تکرار ہے۔ یہ ایسے منصوبے تھے جو چھوٹی نوکرشاہانہ رنجشوں، انتخابی مفاد پرستی، اور نظریاتی بے ترتیبی کے بوجھ تلے دب گئےتھے۔
ان میں سے ہر ایک معاملے میں نام نہاد انقلابی گروہوں نے واضح سیاسی موقف پر اپنی تنظیمی خود مختاری کو ترجیح دی۔ انہوں نے پروگرام اور سمت کے بارے میں کھلے جمہوری مباحثے میں شامل ہونے سے انکار کردیا تاکہ یہ سیاسی دلدل میں اپنی محفوظ جاگیریں بنا لیں۔ نتیجہ دھڑے بندیاں، الجھن، اور شکست تھی۔
اس کا اظہارکوربن کی ٹیم اور سلطانہ کے حلقے کے درمیان مبینہ کشیدگی میں پہلے ہی نظر آ رہا ہے جہاں حریف گروہ اور وفادار اثر و رسوخ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں حالانکہ ابھی تک پارٹی کی بنیاد بھی نہیں رکھی گئی ہے ۔ جومومینٹم کے ساتھ کیا گیا تھایعنی نوکرشاہی کے وفاداروں نے اسے جمہوریت سے محروم کر دیا تاکہ بنیادی نظریاتی موقف کو روکا جا سکے اور جس طرح یونین کی نوکرشاہی نے ‘اینف از اینف تحریک کو اس کے ابتدائی مرحلے میں ہی دبا دیا تھا، جس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ ہڑتالوں کی بڑی لہر کے دوران نوکرشاہی کے مفادات کے خلاف کوئی حقیقی مزاحمت نہ ہو سکے۔
یہ طریقہ کار معصوم غلطیاں نہیں ہیں۔ یہ ایک مادی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ پیشہ ور سیاستدانوں، این جی او کےنمائندے اور یونین کے عہدیداروں کی وہ پرت جو ان تنظیموں کے گرد گھومتی ہے وہ غیر جانبدار نہیں ہے۔ وہ ایک مراعات یافتہ پرت ہیں جو بالآخر سرمایہ دارانہ طاقت سے اپنی قربت کا دفاع پارلیمنٹ کے ذریعے، سماجی شراکت داری کے ذریعے، سامراجی سفارت کاری کے ذریعے کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک انقلابی پروگرام کے ابھرنے کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کی حیثیت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک نئی پارٹی کی سوشلسٹ پروگرام سے وابستگی، مزدور طبقے کے ذریعے اقتدار پر قبضہ اور سرمایہ داری کے خاتمہ کی مکمل مخالفت کرتے ہیں اور اس کی بجائے وہ ایک “بائیں بازو” کی پارٹی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ انتخابی مفاد پرستی کے ساتھ اور اپنے آپ کو “انقلابی” کے طور پر پیش کرسکیں۔
مزدور طبقے کا کردار
جس پارٹی کی ہمیں ضرورت ہے، اس کی بنیاد تجریدی اصولوں یا انتخابی جمع تفرق پر نہیں بلکہ مزدور طبقے کی عملی جدوجہد پر ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی کی جڑیں ٹریڈ یونینوں، کرایہ داروں کی تنظیموں، نوجوانوں کی تحریکوں، اور معاشی عدم تحٖظ اور تارکین وطن مزدوروں میں ہونی چاہییں۔ اس کا مطلب ہے کام کی جگہوں پر کمیٹیاں بنانا، ہڑتالی یکجہتی کے نیٹ ورکس قائم کرنا اور کرایہ داروں کے دفاعی گروہ بنانا اور انہیں مزدور طبقے کی مزاحمت کے ایک قومی پروگرام سے جوڑنا ہے۔
لیکن اس کے لیے ایک واضح سیاسی موقف کی ضرورت ہے۔ ایک مزدور پارٹی بائیں بازو کے اور لبرل، امن پسندوں اور ریڈیکلز کا کم سے کم مشترکہ اتحاد نہیں ہونی چاہیے۔ اسے ایک واضح انقلابی پروگرام اکے ساتھ ایک پارٹی ہونا چاہیے جو سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے، ارب پتیوں کی دولت ضبط کرئے، برطانوی ریاست اور اس کے سامراجی اتحادوں کو ختم کرئےاور ان کی جگہ مزدوروں کی حکومت قائم کرئے۔
پاپولزم چاہے بائیں بازو کا ہو یا ماحولیاتی ورژن ہویہ ایسی پارٹی کے ابھرنے میں براہ راست رکاوٹ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ “عوام” ایک متحدہ بلاک ہیں اور سیاست اشرافیہ بمقابلہ عوام ہےاور یہ کہ سوشلزم ہوشیار طریقہ کار اور پارلیمانی چالوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن سماج طبقات میں تقسیم ہے اور صرف مزدور طبقہ پیداوار میں اپنے کردار اور معاشرے کو اجتماعی طور پر دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت کی وجہ سےسوشلزم کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔
کوئی بھی پارٹی جو اس فرق کو مٹاتی ہےجو “ترقی پسند چھوٹے کاروبار کے مالکان” کو اپیل کرنے کی کوشش کرتی ہے جو طبقے کی بجائے “معاشرے” یا “عوام” کی بات کرتی ہے جو ریاست کا مقابلہ کرنے سے گریز کرتی ہےوہ جلد یا بدیر سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔
“ترقی پسند اتحاد” نامنظور
اس نئے منصوبے کو درپیش اولین رکاوٹوں میں سے ایک”انتخابی اتحاد” کے لیے لبرل مبصرین اور بائیں بازو کے رہنماؤں کی طرف سے “ترقی پسند اتحاد” کے لیے برھتا ہوا دباؤہے جیسے کوربن دھڑا مان رہاہے۔ اس میں گرینز، ایس این پی، پلائڈ سمرائو، اور حتیٰ کہ لبرل ڈیموکریٹس کے کچھ حصوں کے ساتھ انتخابی معاہدہ شامل ہے۔ یہ آزادی کی حکمت عملی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا جال ہے جو کسی بھی نئی مزدور طبقے کی پارٹی کو شروع سے ہی مہلک سمجھوتہ پر مجبور کردے گا ۔
یہ پارٹیاں مزدور طبقے کی اتحادی نہیں ہیں۔ گرینز نیٹو کی حمایت کرتی ہے، سرمایہ دارانہ ماحولیاتی ملمع کاری اور منڈی پر مبنی موسمیاتی “حل” کو قبول کرتی ہے اور ایسے اتحادوں میں حکومت کر چکے ہیں جنہوں نے کفایت شعاری نافذ کی جیسےجرمنی، سکاٹ لینڈ، اور برطانیہ بھر کی مقامی کونسلوں میں۔ ایس این پی اور پلائڈ سمرائو قومی شناخت کے پرچم میں خود کو لپیٹتے ہیں لیکن اقتدار میں ثابت کر چکے ہیں کہ وہ سرمایہ داری کو ویسٹ منسٹر سے مختلف طریقے سے نہیں چلاتے ہیں یہ مزدوروں پر حملے کرتے، خدمات کی نجکاری کرتے اور بجٹ میں کٹوتیاں کرتے ہیں۔
کوئی بھی پارٹی جو ان قوتوں کے ساتھ انتخابی معاہدے یا حکومت میں شامل ہوتی ہےاسے ان کی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کا دفاع کرنے پر مجبور کیا جائے گا ۔ “ترقی پسند اتحاد” کا اصل مقصد مزدور طبقے کی طاقت کو بڑھانا نہیں بلکہ بکھرتے ہوئے مرکز کو بحال کرنا ہے۔ایک نیا لبرل بلاک جو سامراج کو زیادہ شائستگی سے چلا سکے، زیادہ ہوشیاری سے جدوجہد کو دبا سکے اور سوشلسٹ سیاست کو لامتناہی سمجھوتوں میں الجھا کر روک سکے۔
ہم نے یہ پہلے بھی دیکھا ہے۔ ریسپیکٹ اتحاد نے سوشلسٹ بائیں بازو کو مزدوروں اور خواتین کے مفادات کے برعکس مسلم بورژوازی کا دفاع اور پارلیمانی مفاد پرستوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا۔ 1930 کی دہائی کے پاپولر فرنٹ جنہیں اب کچھ لوگ دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں ایک ایسی تباہی تھے جنہوں نے مزدور طبقے کو غیر مسلح کیا، اقتدار کو حکمران طبقے کے حوالے کیا، اور فاشزم اور جنگ کی راہ ہموار کی۔ ایک حقیقی مزدور پارٹی کو آزادانہ طور پر کھڑا ہونا چاہیے، تمام طبقاتی اتحادوں کو مسترد کرنا چاہیے اور ان نام نہاد “ترقی پسندوں” کی حدود اور دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لیے لڑنا چاہیے۔
تباہی کے بیج پہلے ہی موجود ہیں اگر نئی پارٹی چند آزاد ارکان پارلیمنٹ کو اپنی پالیسی ان رعایتوں کی بنیاد پر طے کرنے کی اجازت دیتی ہے جو انہوں نے اپنے حلقوں کو دی ہوں گی۔ چاہے وہ نجی سکولوں کے لیے ٹیکس چھوٹ کی حمایت ہو یا بڑھتے ہوئے کچرے کو صاف کرنے کے لیے فوجیوں کو ہڑتالی صفائی کارکنوں کی جگہ لینے کا مطالبہ ہو۔ آزاد ارکان جن کی نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی اپنے منشور کے علاوہ کوئی مزدور طبقے کے اصول ہیں، خواہ وہ فلسطینیوں کی کتنی بھی مضبوطی سے حمایت کیوں نہ کرتے ہوں یہ اس قسم کی الجھن طبقاتی سیاست لائیں گے جو ہم نے ریسپیکٹ میں دیکھی تھی۔ یہ ایک اور ثبوت ہے کہ ایک پارٹی کا جمہوری طور پر زیر بحث اور متفقہ پروگرام کوئی بعد کی چیز نہیں بلکہ اسے ابتدائی مراحل میں ہی اٹھانا چاہیے۔
واضح رہے ہم مشترکہ عملی جدوجہد کے خلاف نہیں ہیں۔بڑے مظاہرے، ہڑتالیں، یا مہمات جن میں مختلف پس منظر کے مزدور اور نوجوان ٹھوس اہداف کے لیے مل کر لڑتے ہیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ پارٹیوں کے ساتھ انتخابی اتحاد بالکل مختلف چیز ہے۔ وہ طبقاتی تقسیم کو دھندلا دیتے ہیں، سیاسی موقف کو دباتے ہیں اور انتخابی اعداد و شمار کو انقلابی حکمت عملی سے بدل دیتے ہیں۔
ایک نئی پارٹی جو بحران کا سامنا کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے اسے یہ کہنے کی ہمت ہونی چاہیے کوئی معاہدے نہیں، کوئی اتحاد نہیں، سرمایہ دار یا قوم پرست پارٹیوں کے ساتھ کوئی سودے نہیں ہوگی۔ مزدور طبقے کو اپنی قوتوں، اپنے پروگرام اور اپنی قیادت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
ایک عبوری پروگرام کے لیے
ہمیں جس مزدور پارٹی کی ضرورت ہے، اسے ایک عبوری پروگرام پر مبنی ہونا چاہیےایک ایسا پل جو موجودہ جدوجہدجیسے صفائی کے محنت کش یا ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی ہڑتالیں، کفایت شعاری کا خاتمہ یا فلسطین کے حامی کارکنوں کا دفاع اور سوشلسٹ انقلاب کی ضرورت کو جوڑے۔ اس کا مطلب ہے ان مطالبات پر زور دینا
توانائی، نقل و حمل، رہائش اور بینکنگ کے شعبوں کو مزدوروں کے کنٹرول میں قومیا جائے۔
بیس پاؤنڈ کی کم از کم اجرت جو مہنگائی سے محفوظ ہو اور اوسط اجرت سے منسلک ہو۔
تنخواہ میں کمی کے بغیر چار روز کام کا ہفتہ۔
تمام یونین مخالف قوانین کی منسوخی اور ہڑتال کا مکمل حق۔
فلسطینی مزاحمت کے ساتھ یکجہتی اور تمام سامراجی جنگوں کی مخالفت۔
امیگریشن کنٹرول کا خاتمہ اور تمام مزدوروں کے لیے مساوی حقوق۔
بادشاہت، ہاؤس آف لارڈز اور تمام غیر منتخب اداروں کا خاتمہ۔
مزدوروں اور عوامی نمائندوں کی کونسلوں پر مبنی مزدور حکومت کا قیام۔
یہ کوئی خیالی خواہشات کی فہرست نہیں ہےیہ طبقاتی جدوجہد کے لیے ایک عملی پروگرام ہے۔
اگلا قدم کیا؟
ہم تمام سوشلسٹوں اور مزدوروں سے اپیل کرتے ہیں جو لیبر پارٹی سے مکمل علیحدگی اور ایک انقلابی متبادل کی ضرورت کو سمجھتے ہیں وہ ایک حقیقی مزدور پارٹی کی جدوجہد میں شامل ہوں۔
سلطانہ اور کوربن کے اقدام کو ایک ایسے فورم میں تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کریں جس میں مقامی اور قومی سطح پر اجتماعات شامل ہوں جہاں اصلاح پسندی کی تنقید اور ایک انقلابی حکمت عملی کی ضرورت پر بحث کی جا سکے۔
اصلاح پسندی، انتخابی نظام، یا ماحولیاتی پاپولزم کے گرد صف بندی کی کوششوں کی مخالفت کریں۔
سوشلسٹوں، مزدور رہنماؤں اور کارکنوں کی ایک قومی کانفرنس کا مطالبہ کریں تاکہ مستقبل کے راستے پر بحث اور جمہوری طور پر فیصلہ کیا جا سکے۔ قیادت کا بحران کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ اب بھی ایک فیصلہ کن سوال ہے۔ ایک نئی بائیں بازو کی پارٹی تب ہی آگے بڑھے گی جب وہ لیبر ازم، اصلاح پسندی اور طبقاتی مفاہمت سے فیصلہ کن طور پر کنارہ کشی اختیار کرے گی۔ اس کا مطلب ہے مزدور طبقے کی ایک ایسی پارٹی جو مزدور طبقے کے ذریعے اور اسی کے لیے ہواورایک انقلابی پروگرام پر مبنی ہو۔
