تحریر:شہزاد ارشد
باجوڑ میں حالیہ فوجی آپریشن کا آغاز بظاہر ایک ناکام امن جرگے کے بعد ہوا جو مقامی قبائلی عمائدین اور طالبان کے درمیان ہوا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جرگے نے طالبان سے علاقے کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ آپریشن اس وقت باجوڑ میں جاری ہے لیکن دیگر قبائیلی علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی خوفناک ہے جہاں جبری گمشدگیوں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کے مطابق تقریباً چند سو طالبان باجوڑ موجود ہیں اوران میں سے 80 فیصد سے زیادہ کا تعلق افغانستان سے ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیاب آپریشنز کی تعریف کی ہے ان کے مطابق فوجی آپریشن کی وجہ طالبان کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور طالبان کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل ہے اور یہ ایک بیرونی مداخلت ہے۔
پشتون علاقوں میں پچھلی دوہائیوں میں لاتعداد فوجی آپریشن ہوئے ہیں اس کے باوجود قبائیلی علاقوں میں طالبان کا خاتمہ نہیں ہوا البتہ ان آپریشنوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ہزاروں پشتون زخمی اور مارئے گے اور ہر آپریشن کے بعدطالبان کے خاتمے اور امن کے اعلانات کے باوجود ان کی تعداد اور قوت میں اضافہ ہی ہوا کمی نہیں ہوئی ہے۔اس کی وجہ ریاست کی پالیسیاں ہے۔
اسی وجہ سے پشتون عوام میں آپریشن کے خلاف شدید غصہ ہے اور انہوں نے اس کے خلاف کئی احتجاح بھی کیئے ہیں ۔اس وقت تک آپریشن کی وجہ سے 50ہزارسے زائد افراد کوایک بار پھر اپنے گھروں سے بے دخلی کی ذلت کا سامنا ہے۔دہشت گردوں کو مارنے کے لیے کئے جانے والےحالیہ آپریشن کی ابتداء میں ہی معصوم بچے، عورتیں اور مرد اس کا نشانہ بنے ہیں اور اس پر جب پشتون عوام نے اس کی مخالفت کرتی ہے تو ان کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دے دیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا اورخاص کر اس میں ضم ہونے قبائلی اضلاع میں اربوں ڈالر کے معدنی ذخائر موجود ہیں جس میں دیگر اہم معدنیات کے علاوہ لیتھیم اور ایسی معدنیات کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں جو آج کی جدید تیکنیک کے لیے نہایت اہم ہیں اس وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے ان میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔اسی لیے نئے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں جیسے خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کا مسودہ ہے اور قبائیلی علاقوں کی پختونخواہ سے علیحدہ کرنے کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔ اس کا مقصد عالمی سرمایہ کے منافع کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے جس میں مقامی آبادی کے مفادات کی بجائے سرمایہ کے مفاد کو ترجیح دی جارہی ہے یہ ایک سرمایہ دارانہ طریقہ کار ہے جس میں کمیونٹی کی ملکیت کو ختم کرکے کارپوریٹ کنٹرول کو بڑھایا جاتا ہے اور ریاست سرمایہ دارانہ استحصال کو ترقی کے نام پر پیش کرتی ہے۔یہ ساری صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ریاست کے لیے یہ لڑائی طالبان کی بجائے اس خطے پر مکمل بالادستی کے لیے ہے جہاں سرمایہ کے مفادات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر سیاسی جماعتیں فوجی آپریشن کی مخالفت کررہی ہیں اور اس کے خلاف پچھلے دنوں میں بڑے عوامی احتجاج بھی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود فوجی آپریشن کرنے کا مطلب قبائیلی علاقوں میں موجود ہر طرح کی مزاحمت کو کچلانا ہے ۔اس لیے اس کی مخالفت کرنے والوں کو ملک دشمن اور بھارت کا ایجنٹ قرار دیا جائے رہا ہے۔ایسے الزامات کا ہدف خاص طور پر پی ٹی ایم ہے جس کی اہم قیادت یا تو جیل میں یا ان کو انڈرگرونڈ ہونا پڑا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جبری گمشدگیوں،قتل عام اور چیک پوسٹوں پر کوئی بات نہ کی جائے تاکہ آڈر کو برقرار رکھا جاسکے اور اس آپریشن کے ذریعے ریاست یہ چاہتی ہے کہ پشتون اس سب کو قبول کریں اور اس کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کریں۔
انقلابی سوشلسٹ اس آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اس کا مقصد عالمی اور قومی سرمایہ کے مفاد میں پشتون مزاحمت کو کچلانا ہے جو امن اور آزادی سے اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اس آپریشن کی مخالفت سے ہی پشتون عوام پر جنگ اور ان کی بیدخلی روکا جاسکتا ہے۔لیفٹ،مزدور طبقے، غریب اور مظلوم اقوام کو حکومتی آپریشن،معدنیات کو کنٹرول کرنی کی پالیسی اور جمہوری حقوق پر حملوں کی مخالفت کرنی چاہیے ہے کیونکہ ریاستی آپریشن کا اگرچہ بظاہر مقصد صرف طالبان کو روکنا ہے لیکن درحقیقت اس کا مقصد پشتون علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔ اس سے ہزاروں مزید لوگ مریں گے،اس سے بیدخلی اور نسل پرستی میں اضافہ ہوگا ۔
انقلابی سوشلسٹ طالبان کے خطرے سے انکار کرتے ہیں لیکن طالبان کی قبائیلی علاقوں میں موجودگی خود حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے عام پشتونوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ ہے اور ماضی کے آپریشن یہ واضح کرتے ہیں کہ آپریشن ان مسائل کا حل نہیں ہیں بلکہ یہ اس میں مزید اضافے کرتے ہیں۔
ہم مزدوروں، کسانوں، اور عورتوں کے اپنے دفاع کے لیے منظم ہونے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ وہ طالبان کے حملوں کا مقابلہ کر سکیں۔ پاکستانی بائیں بازو، ٹریڈ یونینوں، اور تمام ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کو عوامی جدوجہد کی حمایت اور آپریشن کی مخالفت کرنی چاہیے ہے۔
طالبان کے خلاف ریاست کا آپریشن سوائے اس کے پھیلاو اور پشتون عوام کے لیے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لائے گا طالبان کے خلاف پشتون عوام ہی لڑ سکتے ہیں اور پی ٹی ایم کی تحریک اور امن کے لیے جدوجہد سے انہوں نے یہ واضح بھی کیا ہے۔طالبان کے خلاف لڑائی سامراج، جنگ، اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف وسیع تر جدوجہد کا حصہ ہے اور اسی جدوجہد میں ہی جیتی جاسکتی ہے۔
