لیگ فار دی ففتھ انٹرنیشنل
دسمبر کے اوائل میں لیگ فار دی ففتھ انٹرنیشنل کے مندوبین اور مبصرین نے استنبول میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کی تیسری عالمی کانگریس میں شرکت کی۔ چھتیس برس قبل لیگ فار دی ففتھ انٹرنیشنل کے پیش روؤں نے مارکسزم کے انقلابی پروگرام کی ازسرِنو تشکیل، اصلاح پسندی اور سنٹرازم کے خلاف جدوجہد کی تجدیداور ایک انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تعمیرِ نو کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ ایک نئے متفقہ اور مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ میں شمولیت کے ہمارے فیصلے کے ساتھ اس جدوجہد کا ایک باب اختتام پذیر ہوتا ہے اور ایک نئی جدوجہد شروع ہوئی ہے۔
یہ فیصلہ نہ تو اچانک کیا گیا اور نہ ہی کسی تنظیمی عجلت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک طویل عرصے پر محیط بحث مباحثے اور نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ ہے جو اصولی انقلابی ازسرِنو تنظیم سازی کے ٹراٹسکائی طریقہ کارپر مبنی ہے جیسا کہ ہم نے اپنے پہلے بیان میں وضاحت کی تھی کہ سرمایہ داری کا تاریخی بحران جو سامراجی جنگوں، ماحولیاتی تباہی اور محنت کش طبقے و دیگر مظلوم طبقات پر بڑھتے ہوئے حملوں سے مزید شدید ہو چکا ہے یہ انقلابی قیادت کے سوال کو ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے لے آیا ہے۔ بکھراؤ، علیحدگی اور خود ساختہ انٹرنیشنلوں کی بھرمار اس چیلنج کا جواب نہیں ہو سکتاہے۔ اس کا واحد جواب پروگراماتی ہم آہنگی پر مبنی ایک سنجیدہ اور اصولی اشتراک ہے۔
استنبول کانگریس میں دنیا کے ہر براعظم سے چالیس سے زائد ممالک کے کامریڈز شریک ہوئے۔ ہم نے عالمی نظام کو ہلا دینے والے گہرے معاشی، عسکری اور ماحولیاتی بحرانوں کا مشترکہ تجزیہ کیااور ان اسٹریٹجک فرائض پر بحث کی جو آج انقلابیوں کے سامنے ہیں۔ یہ مباحث محض سفارتی نوعیت کے تبادلے نہ تھے بلکہ ہمارے عہد کے فیصلہ کن سوالات سے براہِ راست متعلق تھے جیسے سامراجی رقابت اور جنگ، انقلاب اور ردِانقلاب اور محنت کش طبقے میں بنیادرکھنے والی انقلابی جماعتوں کی تعمیرِ نوہے۔
ہمارے درمیان اتفاقِ رائے کی بنیاد موجودہ عالمی انتشار کا مشترکہ تجزیہ ہے۔ ہم نے اس امر کی توثیق کی کہ سرمایہ داری ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس میں بین السامراجی مسابقت میں شدید اضافہ ہو گیا ہے جہاں امریکہ، یورپی طاقتیں، روس اور چین منڈیوں، وسائل اور تزویراتی غلبے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ہر قسم کی کیمپ پرستی کے خلاف ہم نے واضح کیا کہ روس اور چین مکمل طور پر سرمایہ دار اور سامراجی طاقتیں ہیں اور یہ سوشلسٹوں کا فریضہ ہے کہ وہ ایک آزاد طبقاتی مؤقف کی بنیاد پر تمام سامراجی بلاکس کی مخالفت کریں۔
اسی بنیاد پر ہم نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ یوکرین کی جنگ دوہری نوعیت رکھتی ہے۔ یوکرین روسی سامراج کے خلاف قومی دفاع کی ایک جائز جنگ لڑ رہا ہے مگر یہ جنگ دنیا کی ازسرِنو تقسیم کی سامراجی کشمکش سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ یوکرین کے حقِ مزاحمت کی حمایت، نیٹو فوجی اتحاد، مغربی سامراج اور ان تمام کوششوں کی مخالفت کے ساتھ لازم و ملزوم ہے جو یوکرینی محنت کش طبقے کو سرمایہ دارانہ مفادات کے تابع کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہی اصولی انٹرنیشنل ازم فلسطین میں اسرائیل کی نسل کش جنگ کی مخالفت، مغربی صحارا کے صحرائی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہر قسم کے سامراجی قبضے اور جارحیت کی مخالفت کی بنیاد بھی ہے۔
کانگریس میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے خلاف بڑھتی ہوئی سامراجی جارحیت کے خطرے پر بھی نہایت سنجیدہ بحث ہوئی۔ ہم نے پابندیوں، فوجی دھمکیوں اور حکومت کی تبدیلی کی ہر کوشش کے خلاف وینزویلا کے عوام اور انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کے وینزویلا سیکشن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ مظلوم اقوام کا سامراج کے خلاف دفاع انقلابیوں کا ایک بنیادی اوراہم فریضہ ہے۔
کانگریس نے سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں ماحول کی تباہی، نسلی امتیاز، خواتین، ایل جی بی ٹی کیو اور صنفی اقلیتوں اور تارکینِ وطن پر ہونے والے حملوں نیز عالمی محنت کش طبقے کے شدید تر استحصال کے خلاف قراردادیں بھی منظور کیں۔ ان تمام مسائل کو الگ تھلگ نہیں بلکہ سوشلسٹ انقلاب، مزدور اقتداراور سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل خاتمے کی ایک متحدہ حکمتِ عملی کے لازمی اجزا ء کے طور پر دیکھا گیا۔
ہماری انقلابی ازسرِنو تنظیم سازی کے مرکز پر سوشلسٹ انقلاب کے لیے نئے پروگرام اور منشور کی منظوری ہے جس کا عنوان ہے۔
سرمایہ دارانہ بحران اور نئے عالمی انتشار کا مقابلہ
یہ پروگرام ہماری مشترکہ اسٹریٹجک بنیادوں کو باضابطہ طور پر مرتب کرتا ہے یعنی جمہوری مرکزیت پر مبنی انقلابی جماعتوں کی ناگزیر ضرورت اور عبوری مطالبات کا وہ طریقہ کار جو موجودہ جدوجہد کو اقتدار کی لڑائی سے جوڑتا ہے نیز عوامی جدوجہد کے اداروں پر مبنی مزدور حکومتوں کا قیام اور ایک نئی عوامی بنیادوں پر انقلابی انٹرنیشنل کی تعمیر کی جدوجہدہے۔
انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ میں ہماری شمولیت بحث، اختلاف یا نظری وضاحت کے خاتمے کا اعلان نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ ان سب کے جاری رہنے کے لیے ایک مضبوط اور زیادہ مربوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انقلابی مارکسزم نے کبھی پروگرام کو جامد اور مردہ دستاویز نہیں سمجھااور نہ ہی وحدت کا مطلب اختلافِ رائے کو زبردستی دبانا ہے۔ ہم اس نئے مرحلے میں اس یقین کے ساتھ قدم رکھ رہے ہیں کہ آئندہ بحثیں چاہے تنظیم کے اندر ہوں یا دیگر انقلابی رجحانات کے ساتھ نہ صرف ناگزیر ہیں بلکہ ضروری بھی ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ بحث ایک مضبوط پروگراماتی بنیاد اور اس مشترکہ عزم پر استوار ہے کہ عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد میں مؤثر مداخلت کی صلاحیت رکھنے والی ایک انٹرنیشنل انقلابی تنظیم مشترکہ طور پر تعمیر کی جائے۔
ہم استنبول سے انقلابی پیش رفت کے اس نئے مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہو کرآئے ہیں۔ تیزی سے گہرے ہوتے بحران اور بڑھتی ہوئی مزاحمت کے حالات میں انقلابی ازسرِنو تنظیم سازی کا فریضہ تمام سنجیدہ انقلابیوں کے سامنے ایک ٹھوس حقیقت بن چکا ہے۔ اس قدم کے ذریعے ہمارا مقصد ایک نئی انقلابی انٹرنیشنل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہے ایسی انٹرنیشنل جو آنے والی جدوجہد میں محنت کش طبقے کو سرمایہ داری سے نجات دلانے اور انسانیت کو سوشلزم کی جانب لے جانے میں مددگار ثابت ہو۔
