تحریر:ڈیوسٹاکٹن:ترجمہ :عمران جاوید
آٹھ دہائیوں قبل 6 اگست 1945 کو صبح 8 بج کر 15 منٹ پر امریکہ نے جاپانی شہر ہیروشیما پر 15 کلوٹن کا یورینیئم بم گرا کر ایٹمی عہد کا آغاز کیاتھا جس سے تقریباً 150,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کئی دہائیوں تک اٹیمی جنگ کا خطرہ عوامی شعور سے محو رہنے کے بعد دنیا کی بڑی طاقتیں ایک بار پھر سے خود کو مسلح کر رہی ہیں اور کھلے عام ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں دے رہی ہیں
ہیروشیما پر حملے کے تین دن بعد “فیٹ بوائے” نامی پلوٹونیئم بم ناگاساکی پر گرایا گیا جس سے 74,000 افراد کی جان گئی۔ دونوں شہر لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ جو لوگ دھماکے میں زندہ بچ گئے وہ چند گھنٹوں یا دنوں میں موت کے منہ میں چلے گے۔ اس کے بعد کے مہینوں اور سالوں میں ہزاروں مزید افراد تابکاری کی بیماریوں سے چل بسےجو بچ گے وہ اور ان کی نسلیں جسمانی نقائص اور کینسر کا شکار ہوئیں اور کئی نسلوں تک انہیں اس اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
سامراجی پروپیگنڈا کرنے والوں نے دہائیوں تک یہ جواز پیش کیا کہ شہریوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے اور اتحادی فوجیوں کی جان بچانے کے لیے ضروری تھا۔ یہ بہانہ جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاپان سوویت یونین کے ذریعے امن کی درخواست کر رہا تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کو امریکہ نے اپنے نئے ہتھیار کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے استعمال کیا تاکہ جنگ کے بعد ایشیا اور یورپ کی تقسیم میں اپنی بالادستی قائم کر سکے۔
ان ایٹمی بم دھماکوں نے امریکہ کی آٹھ دہائیوں پر محیط بالادستی کی بنیاد رکھی لیکن اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ انسانیت کے خلاف ناقابلِ بیان جرائم کے مرتکب صرف فاشسٹ نہیں تھے بلکہ جمہوری سامراجی طاقتیں بھی اتنی ہی سفاک ہو سکتی ہیں۔ ہیروشیما بمباری نے اگرچہ ایٹمی طاقت کی تباہ کن صلاحیت کو ظاہر کیا لیکن یہ ڈریسڈن، ہیمبرگ اور ٹوکیو پر روایتی بمباری کی طویل مہمات سے بہت زیادہ مہلک نہیں تھی۔
آج 1980 کی دہائی کے بعد پہلی بار ایٹمی جنگ کے امکان پر کھلے عام بحث ہو رہی ہے۔ امریکہ اور روس اپنی ایٹمی افواج کو متحرک کر رہے ہیں اور ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدے ختم ہو چکے ہیں۔ اسرائیل، پاکستان اور بھارت جیسی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقتیں اپنے پڑوسیوں کے خلاف مزید جارحانہ تنازعات میں مصروف ہیں۔
دنیا کی بڑی طاقتوں کی یہ سرگرمیاں محض دھمکیاں نہیں ہیں۔ امریکہ اور روس کے پاس دنیا کے 12,000 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز میں سے 90 فیصد موجود ہیں۔ جدید ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت جاپان پر گرائے گئے بموں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ نام نہاد “تکنیکی” جنگی ہتھیارجو اب پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔وسیع علاقوں کے ماحول کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
منڈیوں، وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ کے لیے بڑی طاقتوں کا مقابلہ عسکریت پسندی اور ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ کررہا ہے۔ یوکرین سے غزہ تک کی جنگیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایٹمی ہتھیار اگرچہ ایک اہم خطرہ ہیں لیکن وہ واحد یا بنیادی خطرہ نہیں ہیں۔ قحط، بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے بجائے بے پناہ وسائل فوجی اخراجات کی طرف موڑئے جا رہے ہیں جو ہمیں “محفوظ” نہیں بناتے بلکہ فوجی کشیدگی کو بڑھا کر تنازعات کے چکر کو تیز کر کے دنیا کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔
پہلی سرد جنگ کے عروج کے سالوں یعنی 1950 اور 60 کی دہائیوں میں ہتھیاروں کے خلاف ایک بڑی تحریک ابھری جس کی قیادت “کمپین فار نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ
نے کی۔ یہ دور 1962 کے کیوبا میزائل بحران پر ختم ہوا جب امریکہ اور سوویت یونین نے بالترتیب ترکی اور کیوبا سے اپنے اٹیمی ہتھیار ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔
کیوبا کے مزائیل بحران کے بعد جس نے انسانی زندگی کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا تھا یہ سرد جنگ “پراکسی” کے ذریعے جاری رہی جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ویتنام، کمبوڈیا، افریقہ کے کچھ حصوں، وسطی امریکہ اور افغانستان کو تباہ و برباد کر دیا۔ 1980 کی دہائی میں امریکہ نے کمزور ہوتی سوویت معیشت کو دیوالیہ کرنے کی کوشش میں ایک نئی بڑی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کی جس نے امن تحریک کو دوبارہ زندہ کیا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے اور کئی ہتھیاروں کے کنٹرول کے معاہدوں کے بعد ایٹمی جنگ کا خطرہ ماضی کا حصہ بنتا دکھائی دیا تھا۔
لیکن اب امریکہ کی بے مثال بالادستی کا دور ختم ہو رہا ہے۔ نئی طاقتوں کا عروج اور امریکہ کا اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کا عزم سامراجی جنگ اور ایٹمی تباہی کے خطرے کو دوبارہ منظر عام پر لے آئے ہیں۔
اس خطرے کے پیش نظر ہمیں ماضی کے اسباق سے سیکھنا ہو گا۔ ایٹم مخالف اور امن تحریکوں نے سرد جنگ کی ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف محنت کش طبقے کی مخالفت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن وہ مختلف ادوار میں تناؤ میں کمی کی وجہ نہیں تھی جو کہ طاقت کے توازن میں جیو اسٹریٹجک تبدیلیوں (جیسے کہ چین-سوویت تقسیم، چین-امریکہ تعلقات کی بحالی، سوویت یونین کا خاتمہ) کی وجہ سے پیدا ہوئےاور نہ ہی یہ برطانوی سامراج کو اپنی نوآبادیاتی جنگوں (مالایا، کینیا، مالویناس) میں حصہ لینے یا افغانستان، عراق اور دیگر جگہوں پر امریکہ کی مہمات کی حمایت کرنے سے روک سکے۔
لیکن ہمیں یہ نتیجہ بھی اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ سرمایہ دار “عقلمند” لوگ ہیں جوایٹمی تباہی میں اپنے نظام کی قدرتی اور انسانی بنیادوں کو ختم نہیں کریں گےاس لیے ایٹمی جنگ کا خطرے ہی نہیں ہے ۔ یہ سطحی سوچ تباہی کے اس فطری رجحان کو نظر انداز کرتی ہے جسے روزا لکسمبرگ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ سامراجیت کے تحت محنت کش طبقے کے سامنے “سوشلزم یا بربریت” میں سے ایک کو چننے کا سوال ہے۔
سامراجی جنگ خواہ وہ ایٹمی ہو یا نہ ہو اب کئی بڑے بحرانوں میں سے صرف ایک ہے۔ یہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی بے شمار تباہیوں میں سے ایک امکان ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، نسل کشی، یا جمہوری اور انسانی حقوق کی پامالی یہ سب انسانی فطرت کی ناگزیر پیداوار نہیں ہیں۔
سرمایہ داری کے اپنے ماحول کو لوٹنے اور تباہ کرنے کے رجحان کے خلاف ہر محاذ پر محنت کش طبقے کو متحد ہونا چاہیے اور اس کی قیادت میں شہروں اور دیہاتوں کے غریبوں کو شامل کر کے سامراجیت کا تختہ الٹنے اور اس کی جگہ محنت کش طبقے کی طاقت اور سوشلزم کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔
صرف دنیا بھر کے ارب پتیوں اور جنگی جنون رکھنے والوں کی عالمی آمریت کو ختم کرکے ہی انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے اور ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا جا سکتا ہے جہاں نہ جنگیں ہوں نہ استحصال اور نہ ہی سماجی جبرہو ان تمام محاذوں پر پہلے سے ہی جدوجہد کرنے والوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کے رہنماؤں کو محنت کشوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم کو دوبارہ قائم کرکے اس عمل کو تیز کرنا چاہیے جو پچھلی چار تنظیموں کی انقلابی روایت کی جانشین بنے۔
یہی سب سے بڑا اور قیمتی خراجِ تحسین ہے جو ہم 1945 کے بعد کی تمام سامراجی جنگوں کے متاثرین اور آنے والی نسلوں کو تیسری عالمی جنگ سے بچا کر پیش کرسکتے ہیں ۔
